ڈرون حملہ کارگر کارروائی نہیں

ڈرون حملہ کارگر کارروائی نہیں

ائیرچیف کی جانب سے آئندہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندوبستی علاقے میں خلاف ورزی پر ڈرون مار گرائے جانے کی دھمکی کے بعد گوکہ بندوبستی علاقے میں ڈرون حملہ نہیں ہوا لیکن ایک ایسے علاقے میں ضرور ہوا ہے جس کی حدبندی بارے اگر شکوک وشبہات نہیں تو پھر بھی یہ حقیقت ضرور ہے کہ یہ علاقہ بندوبستی علاقے سے متصل اور نہایت قریب ہے۔ ڈرون حملے میں ہلاک شدگان کے حوالے سے پولیٹیکل ایجنٹ کی بجائے پولیس کی میڈیا کو تفصیلات کی فراہمی بھی ذومعنی امر ہے۔ بہرحال محولہ تمام معاملات سے قطع نظر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ڈرون حملہ اظہر من الشمس ہے۔ خارج ازامکان امر یہ ہے کہ ڈرون حملہ خواہ قبائلی علاقوں کی حدود میں ہو یا بندوبستی علاقے میں یہ پاکستان کی خاموش مفاہمت کے بغیر ممکن نہیں اور اس امر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس طرح سے کوئی ڈرون حملہ کرکے ہدف کو نشانہ بنا کر باآسانی وبحفاظت نکل جائے۔ اگر خدانخواستہ پاکستان کا دفاع اتنا ہی کمزور ہے تو پھر کیا کچھ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک جانب ڈرون حملہ سے تعرض نہیں کیا جاتا اور دوسری جانب ڈرون حملہ ہونے پر وزارت خارجہ نمائشی احتجاج شروع کر دیتا ہے۔ اگر پہلی مرتبہ ڈرون حملہ ہوتا اور اس پر احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا تو اس کی مصلحت سمجھنے کی کوشش ممکن تھی لیکن جہاں یہ روز کا معمول بن جائے وہاں صدا بصحرا کی ان مساعی کی وقعت کا سوال ضرور اٹھے گا۔ ان معاملات سے بھی قطع نظر دیکھا جائے اور اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی دفاعی امداد کی بندش اور تعلقات کی معطلی کے عالم میں یہ ڈرون حملہ کیسے ممکن ہوا۔ اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا یہ کہ کوئی سب کچھ ٹرمپ متنازعہ ٹویٹ کے اثرات تھے، درون خانہ کچھ نہ تھا یا پھر اس کے بعد امریکی اعلیٰ عہدیداروں اور پاک فوج کی قیادت کے درمیان جو رابطے ہوئے تھے اس میں معاملات طے پاگئے تھے جبکہ ہماری وزارت خارجہ کی سطح پر اس کشیدگی پر مبنی ماحول میں بھی روایتی سفارتی زبان اور سفارتی طریقہ کار میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ امریکہ‘ روس اور چین سے خطرے کے ادراک کے بعد اتحادیوں کی ضرورت میں اضافہ فطری امر ہے کجا کہ افغانستان میں پھنسا امریکہ پاکستان سے بھی دامن چھڑا لے، جہاں تک پاکستانی پالیسیوں میں تبدیلی کا سوال اٹھ رہا تھا تازہ ڈرون حملہ ان تمام تاثرات کی نفی ہے لیکن بہرحال اس سے انکار کی گنجائش نہیں کہ اب خطے میں ناگزیر والی صورتحال نہیں رہی جس کے اثرات کا پاک امریکہ تعلقات پر پڑنا فطری امر ہے لیکن دوسری جانب اس سے بھی صرف نظر ممکن نہیں کہ پاک امریکہ تعلقات میں سرد مہری آنے کے باوجود دونوں کے پاس اجنبی بننے کاراستہ چننا بھی خلاف مصلحت ہے۔ پاکستان کی حدود میں ڈرون حملے ہی حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کیوں سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس طرح کے حملے میں چند ایک افراد ہی کو نشانہ بنانا ممکن ہوتا ہے جبکہ آپریشن ضرب عضب سمیت دہائیوں سے قبائلی علاقوں اور بندوبستی علاقوں میں ہونے والی پاکستانی اداروں اور پاک فوج کی کارروائیوں کا اعتراف نہیں کیا جاتا، جو مقصد ڈرون حملے سے ممکن ہوا کیا پاک فوج کے پاس اتنی صلاحیت خدانخواستہ موجود نہ تھی کہ اسے کارروائی کاموقع دیا جاتا۔ انٹیلی جنس شیئرنگ کی جاتی تو پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور پاکستان کے عوام کے جذبات کو مجروح کئے بناء پر یہ ممکن تھا امریکہ جب تک پاکستان پر اپنے اعتماد کو اس درجے پر نہیں لاتا کہ اسے ڈرون حملے کرنے کی ضرورت نہ پڑے تب تک دونوں ممالک کی تمام تر مساعی کے باوجود اعتماد کی فضا کا قیام ممکن نہیں اور جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک مطلوب ہدف عناصر خود کو خطرے میں محسوس نہیں کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کبھی کبھار کے ڈرون حملے سے حقانی نیٹ ورک کا وجود مٹانا ممکن ہوگا۔ ہمارے تئیں ایسا بالکل بھی ممکن نہیں اور اس وقت تک ممکن نہ ہوگا جب تک پورے افغانستان میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف بھرپور کارروائی نہیں ہوتی۔ امریکہ کو پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی تلاش کی بجائے افغانستان میں کارروائیوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ کابل میں پے درپے واقعات کے اثرات میں کمی لانے اور اس سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستانی علاقے میں ڈرون حملہ مسئلے کا حل نہیں، مسئلے کاحل یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت اور امریکہ افغانستان میں قیام امن کیلئے آپریشن ضرب عضب کی طرح تفصیلی اور تسلسل سے کارروائیاں کریں جب تک افغانستان کے طول وعرض میں افغان نیشنل فورس اوراتحادی امریکی افواج اپنی رسائی اور قبضے کو مستحکم نہیں بناتیں اور جب تک افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر غیر ملکی قوتوں کا قبضہ ہے فضا سے میزائل داغ کر زمین پر حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔ امریکہ جب تک زمینی حقائق سے موافقت پر مبنی پالیسیاں نہیں بناتا اور اس قسم کی کارروائیوں سے گرفت مضبوط بنانے کی غلطی کرتا رہے گا توکامیابی کی توقع عبث ہوگی۔

اداریہ