Daily Mashriq

سرعام لٹکانے کی نوبت ہی نہیں تو مخالفت کاہے کو

سرعام لٹکانے کی نوبت ہی نہیں تو مخالفت کاہے کو

زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی دینے کا صرف جذباتی مطالبہ ہی ہو رہا ہے اس پر عدالت میں ان کے جرائم کو ثابت کرنے کی نوبت آتی بھی ہے یا نہیں کیونکہ عدالت ڈی این اے کو بطور شہادت تسلیم نہیں کرتی اور ملزم کے خلاف اس کے علاوہ کوئی ٹھوس ثبوت فی الوقت موجود نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل ڈی این اے کو زنا بالجبر کے مقدمات میں بطور شہادت تسلیم نہیں کرتی جبکہ پارلیمنٹ سے اس حوالے سے کسی قانون سازی کی زحمت گوارا نہیں کی گئی ہے۔ ایسے میں دیکھا جائے تو ملزم کو سر عام پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ ہی جذباتی ہے اوراگر قانون سازی کرکے ڈی این اے کو بطور شہادت تسلیم کیا جائے اور ملزم کو سزا بھی ہو جائے تب بھی ان کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کی خواہش پوری نہیں ہوگی اور نہ ہی ملکی نظام میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ایسے میں یہ ایک بیکار کی بحث ہے جس کا مطالبہ اور اس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ اس سے زیادہ سنجیدہ اور سنگین امور وہ ہیں جس کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھیک مانگنے والے بچوں اور بس اڈوں میں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔ جس ملک کے ایوان بالا کے اراکین کو اس طرح کے واقعات اور اس قسم کے واقعات کے مراکز تک معلوم ہوں اور وہ محض موضوع چھڑ جانے کے بعد اس پر اظہار خیال کی ضرورت محسوس کرتے ہوں ان کو کسی اور موقع پر اس کی نشاندہی احتجاج اور تدارک کی توفیق نہ ہو اس معاشرے میں اس قسم کے واقعات کا معمول ہونا چنداں اچنبھے کی بات نہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت محسوس نہ ہونا اور کسی ملزم کے پکڑے جانے پر قانونی تشنگی اور سقم کے باعث عدالتی کارروائی میں مشکلات جیسے رویے از خود اس قسم کی حرکات کی سرپرستی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ملزم کو سر عام پھانسی کی سزا برائے عبرت ہی اس صورتحال کا شافی حل نظر آتا ہے۔ اس سے اختلاف کی بھی گنجائش ہوسکتی ہے لیکن اس طرح کے جرائم کی روک تھام اور ارتکاب جرم کے بعد عدالت میں اسے ثابت کرنے کی حد تک تو مجموعی طور پر اتفاق رائے موجود ہے تو پھر کیا امر مانع ہے کہ اس ضمن میں قانون سازی پر سنجیدگی سے مشاورت نہیں ہو پاتی۔
ویزہ پالیسی میں تبدیلی کا عاجلانہ عندیہ
سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملکی ضروریات اور سلامتی کے تقاضوں کے ادراک کے طورپر ویزوں کی پالیسی میں سختی اور امیگریشن قوانین کو مربوط بنانے کا جو احسن اقدام کیا تھا اس کی بدولت ملک میں بہت سے نا پسندیدہ عناصر کی آمد اور ان کی یہاں موجودگی کا بڑی حد تک سد باب ہوگیا تھا۔ جو اس قسم کی ٹھوس پالیسیاں اختیار کئے بناء ممکن نہ تھا۔ ان پالیسیوں کو بجائے اس کے مزید مربوط اور بہتربنایا جاتا ان کے پیشرو وزیر داخلہ کی طرف سے ان میں نرمی لانے کا عندیہ عاجلانہ اور بچگانہ پن کے سوا کچھ نہیں۔ جن معاملات کا ادراک چوہدری نثار کو تھا شاید ان کا ادراک موجودہ وزیر داخلہ کو بالکل نہیں ورنہ پالیسیوں میں محض سیاحت کے فروغ کے نام پر نرمی کا کوئی جواز نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات سے نکلنے میں ابھی بہت سا وقت لگے گا۔ دہشت گردی اور ان کے منصوبہ سازوں کی ریشہ دوانیاں ہر سطح پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔ویزہ پالیسی میں تبدیلی کے لئے موجودہ وقت ہر گز مناسب نہیں اور نہ ہی یہ وقت اس قسم کے تجربات کاہے۔ جب تک داخلی سلامتی اور ملکی حالات اس قدر تسلی بخش نہ ہوں کہ کوئی خطرہ باقی نہ رہے اس کے بعد ہی ویزہ پالیسی میں نرمی پر غور کرنا مناسب ہوگا۔
قانون کی بالادستی کا سوال
ایک ایسے وقت میں جب کراچی میں پولیس کے ہاتھوں یکے بعددیگرے تین بڑے اور سنگین واقعات رونما ہوچکے ہیں اور اس امر کا قوی امکان تھا کہ جعلی پولیس مقابلے میں بے گناہ لوگوں کو مروانے کے واقعات میں ملوث عناصر کا سرغنہ خود اپنے ہی محکمے کے اعلیٰ افسران کے سامنے پیش ہونے سے احتراز برتے گا ان کی نگرانی کی بجائے ان کو روپوش ہونے کا موقع دینا اعلیٰ ترین سطح پر ملی بھگت اور چشم پوشی کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ نقیب اللہ کے منصوبہ بند قتل کو خود پولیس کے اعلیٰ حکام جعلی پولیس مقابلے میں ماورائے عدالت قتل قرار دئیے جانے کی رپورٹ دے چکے ہیں مگر اس قدر سنگین معاملہ ہونے کے باوجود حیرت کی بات یہ ہے کہ مرکزی ملزم کسی کے ہاتھ نہیں آتا۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس واقعے پر یوں آہستہ آہستہ گرد نہ پڑنے دے اور تحقیقات سے بچنے کی کوششوں کا نوٹس لے کر راست اقدامات کرکے واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے اور مقتولین کے خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ہر قیمت پر پورا کرنے کی ذمہ داری نبھائے۔

اداریہ