Daily Mashriq


پانی جو زندگی ہے

پانی جو زندگی ہے

ایم کیو ایم کی طرف سے دائر کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹس پر وفاقی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کی 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ پینے کا صاف پانی مہیا کرنا اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری ہے جو وہ پوری نہیں کر رہے۔ تو کیا اٹھارہویں ترمیم ختم کر دی جائے یا اس میں ترمیم کے لیے ایک اور آئین ترمیم کر لی جائے تو ملک کی اسی فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہو جائے گا؟ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے باوجود پچھلے دنوں چیف جسٹس آف پاکستان نے کراچی میں پینے کے صاف پانی کی نایابی یا کمیابی کا نوٹس لیا۔ ایک سابق جج آف سپریم کورٹ کو معاملات سدھارنے پر مامور جو دن رات توجہ دے کر معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ان شبانہ روز کوششوںسے کراچی والوں کو پینے کا صاف پانی میسر آ جائے گا؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔ پینے کے صاف پانی کی ضرورت محض کراچی والوں کی نہیں ۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی میں بیان دیا ہے کہ محض کراچی نہیں بلکہ ملک بھر کی 80آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ پانی جو زندگی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں پینے کے لیے جو بوتل بند بظاہر صاف پانی خریدا جاتا ہے وہ بھی انسانوں کے پینے کے لیے مضر ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پانی کی بوتلیں فروخت کرنے والی 130 کمپنیوں کو سیل کیا گیا ہے ۔ کیا ایک ہزار تین کمپنیوں کو بھی سیل کردیا جائے تو لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر آ سکتا ہے؟ کسی کو جرأت نہیں کہ اس سوال کا جواب اثبات میں دے سکے۔ پانی کا مسئلہ نہ صرف کراچی کا ہے ‘ نہ ان کمپنیوں کی وجہ سے ہے جو پیسے لے کر بھی آلودہ پانی فروخت کرتی ہیں ۔ بوتل بند پانی ملک کی ایک فیصد آبادی بھی استعمال نہیں کرتی۔ یہ تو کچھ متمول لوگ ہیں جو صاف پانی استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اس کی قیمت ادا کر کے آلودہ پانی ہی خریدتے ہیں۔ باقی لوگوں کو کون پینے کا صاف پانی فراہم کرے گا؟ کیاقومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وفاق کے ایک ذمہ دار وزیر کا یہ کہنا کہ ملک کے عوام کو صاف پانی کی فراہمی وفاقی نہیں صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ‘ اور صوبوں کی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے یہ جواز پیش کرنا کہ صوبائی حکومتیں پینے کا آلودہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتیں کافی ہے۔کیا اس اعتراف سے حکومت کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ ملک بھر میں پینے کے پانی کا مسئلہ آج پیدا نہیں ہو گیا۔ برسوں سے ہم ترقی کے لیے کارخانے لگا رہے ہیں‘ان کا استعمال شدہ آلودہ پانی زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کیمیکل کھادیں بو رہے ہیں اور قومی سطح پر نئے ڈیم بنانے کی صرف سکیمیں بنا رہے ہیں۔ دریاؤں کا پانی سمندر برد کر رہے ہیں اور ہمارے لاکھوں دیہات کی خواتین روزانہ میلوں کا سفر کرکے پینے کے لیے چند گھڑے پانی لاتی ہیں۔ ہمارے ہزاروں دیہات ایسے ہیں جہاں کے جوہڑوں میں جنگلی اور پالتو جانور اور انسان ایک ساتھ پانی پیتے ہیں۔ جب تک نئی بارش نہ ہو جائے یہ جوہڑ اور بھی گدلے ہو جاتے ہیں۔ لیکن صاف پانی جو میسر نہیں ہے! کہاں جائیں انسان ‘ ان کے مویشی اور ان کے ہمسائے جنگلی جانور؟ شہروں میں پانی آلودہ ہے ۔ پشاور ‘ راولپنڈی اور کراچی کے پینے کے پانی میں انسانی فضلہ کے ذرات بھی لیبارٹریوں میں دریافت ہو چکے ہیں۔عالمی موسمیاتی ادارے اور پاکستان کے ماحولیاتی ادارے برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں پانی کم ہو رہا ہے ۔ یہ سب کچھ عام معلومات کا حصہ ہے لیکن قومی اسمبلی میں اس سوال کے آنے کے لیے ایک توجہ دلاؤ نوٹس ضروری ٹھہرا۔ اور اس کا جواب اس اعتراف کی صورت میں آیا کہ ملک کی اسی فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ یہ جواب وزیر پانی و بجلی یا وزیر خوراک و زراعت کی بجائے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے دیا ہے۔ کیا قومی اسمبلی کی اس صورت حال پرتوجہ محض اس اعتراف کے لیے تھی۔ پینے کا صاف پانی میسر نہ آئے گا تو ملک کی اسی فیصد آبادی چند سال میں مختلف بیماریوں کا شکار ہو جائے گی۔ پانی میسر نہ ہو گا تو فصلیں کیا اُگیں گی؟ کیا یہ صورت حال صرف اس اعتراف کا تقاضا کرتی ہے کہ واقعی اسی فیصد پاکستانیوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیںآ رہا۔ کیا قومی اسمبلی اور حکومت اس اعتراف کے بعد مطمئن ہے کہ اس نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ ارکان اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے احترام کا حق ادا کر دیا جو ملک کے عوام نے ووٹ کے ذریعے انہیں دیا تھاکہ وہ ان کے مسائل حل کریں گے۔ قومی اسمبلی اور حکومت کو یہ کون بتائے گا کہ ملک میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے ہنگامی صورت حال برپا ہو چکی ہے اور اس صورت حال میں ہر دن گزرنے کے ساتھ شدت آتی جائے گی۔ پانی کے تحفظ اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ دریا جو خشک ہوتے جا رہے ہیں ان کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دریاؤں کا جو لاکھوں ملین ایکڑ پانی سمندر برد ہو جاتا ہے اس کے صحیح استعمال کے لیے وسیع پیمانے پر ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کارخانوں کو آلودہ پانی کو صاف کرنے کا پابند بنانے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ان کارخانوں کو بند کر دینا ہی بہتر ہے جو آلودہ پانی زر عی زمینوں اور ندی نالوں میں بہا رہے ہیں۔ ماحول دوست اور زندگی دوست کھادوں کی تیاری اور ترویج کی ضرورت ہے۔ اور شہروں اور دیہات کے سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سارے کام زرِ کثیر کاتقاضا کرتے ہیں لیکن اس کے سوا کوئی چارہ کار بھی تو نہیں ۔ پانی زندگی ہے اس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کے معزز ارکان اور حکومت کے ذمہ دار وزراء کو یہ کون بتائے گا؟۔

متعلقہ خبریں