Daily Mashriq


سانحہ قصور کا ڈراپ سین اور چند سوالات

سانحہ قصور کا ڈراپ سین اور چند سوالات

بہت اہتمام سے تالیاں بجوائی گئیں جب وزیراعلیٰ پنجاب اعلان کر رہے تھے کہ قصور کی معصوم بچی زینب کے قاتل کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ اور گرفتار ملزم کی رپورٹ ہر دو کے مطابق مجرم کا ڈی این اے بے حرمتی کا شکار ہونے والی قصور کی8 بچیوں سے میچ ہوا۔ درندے نے 10بچیوں کی بے حرمتی کرنے کا اعتراف کیا۔ سوشل میڈیا‘ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا اور عدالتوں کا دبائو تھا پنجاب حکومت کے پاس وہ گلی نہیں تھی جس سے چپکے سے نکل جاتی۔ ورنہ یہی پنجاب حکومت تھی جس نے قصور کے علاقہ گنڈا سنگھ والہ میں300 بچوں سے زیادتی اور زیادتی کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے ساتھ ان ویڈیوز کو فروخت کرنے کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد مظلوم خاندانوں کی دادرسی کی بجائے مجرم گروہ کی ناز برداری کی کیونکہ سکینڈل کا مرکزی کردار مسلم لیگ (ن) کا رکن پنجاب اسمبلی تھا۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ اس سکینڈل پر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا موقف تھا کہ ’’کچھ نہیں ہوا سب بکواس ہے دو ایکڑ زمین کے تنازعہ پر بدلے کے لئے سکینڈل بنایاگیا‘‘۔ زینب بے حرمتی کیس کے ابتدائی دنوں میں وزیر قانون اور نون لیگ کے حامی کہتے تھے والدین بچوں کو سنبھالنے کی بجائے عمرہ پر کیوں گئے۔ اب ملزم عمران نقشبندی مجرم قرار پایا ہے۔ سوال ایک نہیں کئی ہیں‘ اولاً یہ کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی ابتدائی رپورٹ کہتی تھی8 سے 10بچیوں کی بے حرمتی کا مرتکب 35 سے 40 سال کا آدمی ہے جبکہ گرفتار ہونے والے کی عمر23 سے25 سال کے درمیان ہے۔ پہلی رپورٹ اگر غلط تھی تو دوسری کو درست کن وجوہات پر مان لیا جائے؟ پچھلے سال قصور پولیس نے کم ازکم5 افراد کو بچیوں سے زیادتی کا مجرم قرار دے کر پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا وہ کون لوگ تھے؟ کیا وہ عمران کے ساتھی تھے۔ خود مجرم تھے‘ دونوں باتیں غلط ہیں تو بے گناہ افراد کو کس کے حکم پر ہلاک کیاگیا؟ کیا اب ان بے گناہ ہلاکتوں کا مقدمہ کسی پولیس افسر اور اہلکار پر درج ہوگا؟ ملزم کے حوالے سے جو ویڈیوز سی سی ٹی وی کے ذریعے حاصل کرکے چینلوں پر نشر کروائی گئیں بلکہ اب بھی کروائی جا رہی ہیں اس میں ملزم کا حلیہ اور خدوخال گرفتار ملزم عمران سے مختلف ہیں۔ کیا حلیہ جن تین دوسرے افراد جن میں ایک پولیس افسر سے بھی مشابہہ تھا ان سے تفتیش ہوئی۔ ڈی این اے ہوا ان لوگوں کا؟۔ڈی این اے میچ کر جانے کی کہانی میں بھی الجھائو ہے، پولیس کے پاس مکمل ریکارڈ موجود ہے تو بتایا جائے کہ پہلے موقف (ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے) اور تازہ موقف دونوں میں موجود فرق کیسے دور ہوا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس بار کسی سہولت کار کو قربانی کا بکرا بنا کر مقدمے اور سانحہ پر مٹی ڈالی جا رہی ہے؟۔ اصل مجرم اگر واقعتاً عمران ہے تو سہولت کار کون کون تھا اور کیا وہ سہولت کار بھی گرفتار ہوئے؟۔ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ معصوم بچیوں کی بے حرمتی کی ویڈیوز سب سے مہنگی فروخت ہوتی ہیں۔ ابتداء میں یہی کہا جا رہا تھا کہ کوئی منظم گروہ ہے اور اب ایک تنہا ملزم یہ ماجراکیا ہے؟۔ وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس اول سے آخر تک متکبرانہ تھی۔ ستم یہ ہے کہ پنجاب حکومت کے بڑے ملازمین تالیاں بجا رہے تھے۔ ایک دکھی باپ سٹیج پر وزیراعلیٰ کے ساتھ بیٹھا تھا وہ میڈیا سے بات کر رہا تھا اچانک وزیراعلیٰ نے اس کا مائیک بند کر دیا۔ وزیر قانون بولے باقی باتیں اندر بیٹھ کر کرلیں گے۔ وہ باقی باتیں کیا تھیں؟ مقتولہ کے والد نے ملزم سے رشتہ داری‘ دونوں خاندانوں کے میل ملاپ کی تردید کر دی ہے۔ اہل محلہ بھی کہہ رہے ہیں کہ زینب کے گھر والوں اور ملزم عمران کے درمیان کوئی رشتہ داری تھی نہ دونوں خاندانوں کے مراسم، پھر کیوں پنجاب کے ڈی جی پی آر کے دفتر سے لاہور کے بعض کرائم رپورٹروں کو بریف کیا گیا اور اہتمام کے ساتھ رشتہ داری اور میل ملاپ کی خبریں شائع کروائی گئیں؟۔لاشوں پر سیاست نہ کرنے کا ڈرامائی درس دینے والے شہباز شریف پریس کانفرنس میں خود تو سیاست سے باز نہ آئے۔ کیا جو ارشادات انہوں نے مخالفوں کے لئے فرمائے وہ اخلاقی طور پر درست تھے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جب چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے زینب کیس 72 گھنٹوں میں حل کرنے کے حکم کے بعد ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ملزم پر جن آتا ہے والی کہانی جان بوجھ کر پھیلائی گئی ہے؟ بہرطور ایک بات طے ہے کہ اس ابتدائی تفتیش کے نتائج سو فیصد اس طرح ہرگز نہیں جیسے بیان کئے جا رہے ہیں۔ آخر پنجاب حکومت ملزم اور مقتولہ کے خاندانوں کی جھوٹی رشتہ داری کی خبروں سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ کڑا سچ یہ ہے کہ ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ بالخصوص اس صورت میں تو بہت زیادہ ضرورت ہے جب پہلی ڈی این اے رپورٹ کچھ اور دوسری کچھ اور ہو۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ پنجاب میں پولیس کا نظام پوری طرح ناکام ہو چکا ہے کیونکہ پنجاب پولیس کا کام حکمران خاندانوں کی حفاظت‘ خوشامد اور جرائم کی سرپرستی رہ گیا ہے۔ مکرر عرض ہے وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس میں تالیاں بجانے اور سٹیج پر بیٹھے افراد کے ہلکے پھلکے قہقہے نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ اس سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی۔ کیا تضادات سے بھرے موقف پر متکبرانہ انداز میں داد وصول کرنا انہیں زیب دیتا ہے؟ حرف آخر یہ ہے کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کے جج کی نگرانی میں اس سانحہ کی ازسر نو تحقیقات کروائی جائیں تو نتائج اس سے یکسر مختلف بھی ہوسکتے ہیں، کیا پنجاب حکومت یہ رسک لے گی؟۔

متعلقہ خبریں