امریکی صلاحیت

امریکی صلاحیت

امریکی ڈرون طیارے نے پاکستان کی سرحد کے اکتیس میل اندر آکر کرم ایجنسی کے گاؤں ماموں زئی میں دو مکانو ں پر مشتمل گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں الیاس احسان اللہ خورایا اور اس کا ساتھی نا صر محمود ہلا ک ہوگئے، الیاس احسان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ افغان شہری اور حقانی نیٹ ورک کا عام سا کمانڈر ہے، ڈرون طیاروں نے حملہ کرنے کے بعد فضاء میں پندرہ منٹ تک چکر لگا کر اپنے حملے کے نتائج کا جائزہ بھی لیا، فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ حملے میں ایک کمانڈر مارا گیا، پاکستان کی پولیٹکل انتظامیہ نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے میں احسان خورایا جو مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کا معمولی کمانڈر تھا اور اس کا ساتھی ناصر محمود مارے گئے ہیں، ادھر پاکستان نے امریکی حملے کو یکطرفہ کارروائی قرار دیا ہے، امریکا نے پاکستان کی فضائیہ کے سربراہ چیف ائیر مارشل کی جانب سے اس اعلان کے کچھ ہی عرصہ بعد ڈرون حملہ کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاک فضائیہ کو ڈرون حملے کی صورت میں ڈرون کو گرا دینے کا حکم دیدیا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ڈرون طیارہ کے بارے میں فضائیہ کے چیف کے واضح احکامات کے اعلان کے باوجود طیارہ نہ گرانے کے بار ے میںکوئی ردعمل نہیںآیا، تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے باہمی تعاون کو نقصان پہنچے گا۔ دفتر خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت بھی کی۔ حملے کی شام دفتر خارجہ کی جانب سے جو بیان جاری ہوا اس میں کہا گیا کہ پاکستان ہمیشہ امریکا پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں قابل عمل انٹیلی جنس اطلاع فراہم کر ے تاکہ اپنی حدود میں پاکستان خود ان کیخلاف کارروائی کرے۔ پاکستان یہ بھی زور دیتا آیا ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کو جلد سے جلد ان کے وطن واپس بھجوایا جائے کیونکہ دہشتگردوں کو افغان مہاجرین میںگھلنے ملنے اور ان کی آڑ میں روپوش ہونے کا موقع مل جاتا ہے، پاکستان کا یہ موقف قطعی درست ہے گزشتہ سال جو افغان مہاجرین اقوام متحدہ سے رقم بٹور کر واپس گئے تھے ان میں سے پچاس فیصد سے زیا دہ افراد واپس آگئے ہیں اور یہ پاکستان کیلئے بہت بڑا روگ ہے اور خطرہ بھی ہے۔ جہاں تک یکطرفہ کارروائی کا تعلق ہے تو اس میں بھی پاکستان کا مضبوط موقف ہے کیونکہ امریکا کو چاہئے کہ اگر اس کو اطلاع ملتی ہے کہ دہشتگرد فلاں مقام پر موجود ہیں تو وہ پاکستان کو مطلع کیوں نہیںکرتا جبکہ پاکستان ان کا قلع قمع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر جب امریکا دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ اس کو پاکستان میں چھپے ہوئے معمولی سے بھی دہشتگردوں کا ٹھکانہ معلوم ہو جاتا ہے یا معلوم ہے تو وہ اپنی یہ صلاحیت افغانستان میںکیوں نہیں استعمال کرتا، افغانستان میں تو وہ شکست کھا رہا ہے ساٹھ فیصد سے زیادہ علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ حیرت ہے کہ افغانستان جہاں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں پہلے سے موجود ہیں وہاں کارروائی کیوں نہیں کی جاتی، جہاں تک امریکی صلاحیتوں کا تعلق ہے تو اس امر کا اندازہ یوں بھی ہوتا ہے کہ امریکا جو اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تنظیم اور طالبان کو ختم کرنے کیلئے افغانستان میں گھسا تھا ان میں سے کسی کو تو ختم نہ کر سکا البتہ وہاں داعش کو مو قع فراہم کر دیا کہ وہ بھی گھس جائے۔ اس سے بڑی امریکی ناکامی کیا ہوگی اور اس سے زیادہ نااہلی کیا ہو سکتی ہے، علاوہ ازیں بعض حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ امریکہ جو آنکھ مچولی کھیل رہا ہے اس میں اس بات کا بھی امکا ن ہے کہ امریکہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی سے فائدہ اُٹھا رہا ہو اور مبینہ دہشتگردوں کو ان کے پاس بھیج کر پھر ان کیخلا ف کارروائی کر دیتا ہو، اس طرح دنیا کے سامنے پاکستان کی تصویر دھندلا کر پیش کر رہا ہے، آخر اس کو افغانستان میں اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے میں کیا عار ہے۔ اس وقت 172ممالک کے علاقوں میں اس کے دو لاکھ چالیس ہزار حاضر سروس اور ریزرو دستے موجود ہیں جس سے امر یکا کے فوجی مقاصد کا اندازہ ہوتا ہے، اس وقت امریکی فورسز صرف افغانستان، عراق، شام اور یمن میں ہی حالت جنگ میں نہیں بلکہ نائیجریا، صومالیہ، اُردن، تھائی لینڈ اور بہت سے دیگر ممالک میں بھی فعال ہیں جبکہ پینٹاگان کے مطابق سینتیس ہزار آٹھ سو تیرہ فوجی دوسرے نامعلوم مقام پر بھی آپریشنز میں مصروف ہیں، شمالی کوریا اور چین کی ممکنہ جارحیت کے حوالے سے بھی انتالیس ہزار نو سو اسی فوجی جاپان میں اور جنوبی کوریا میں تئیس ہزار پانچ سو اکانوے فوجی الگ سے تعینات کر رکھے ہیں جبکہ نیٹو اتحادی ممالک میں بھی امریکی فوجی دستے موجود ہیں جن میں ترکی بھی شامل ہے، اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں جرمنی، برطانیہ، عرب ریاستو ں میں نیول بیس قائم کر رکھے ہیں جن میں بحرین، قطر وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر امریکی دستے انسداد دہشتگردی کی کارروائیو ں میں مصروف ہیں۔ کیا امریکا بتا سکتا ہے کہ کئی عشروں سے اس کی فوج نے دہشتگردی کیخلا ف کیا کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ حقائق یہ کہتے ہیں کہ اس کی موجودگی میں نہ صرف نئی دہشتگرد تنظیمو ں نے جنم لیا اور دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔

متعلقہ خبریں