Daily Mashriq


ہمارے بچے اور دم توڑتی سماجی قدریں

ہمارے بچے اور دم توڑتی سماجی قدریں

بچے معصوم ہوتے ہیں،برے بھلے کی تمیز نہیں کر سکتے۔یوں سمجھئے ایک خالی سلیٹ۔اس خالی سلیٹ پرہم جو کچھ لکھتے ہیں ہمارے بچے اسی کا عکس ہوتے ہیں۔ان کی تربیت ترقی یافتہ قوموں کیلئے ایک اہم ترین کام ہے جبکہ ہمیں یا تو اس کی فرصت نہیں یا ہم اس کی اہمیت سے ہی ناواقف ہیں۔قومی تباہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم جس جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں ہم سے پچھلی جنریشن یعنی ہمارے والدین نے ہمیں تعلیم تو دلائی لیکن تربیت نہ کر سکے کیونکہ اس زمانے میںیہ چلن بہت ہی کم تھا لیکن افسوس کہ اس ترقی یافتہ دور میں ہم بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔ بچوں کو مہنگے تعلیمی اداروں میں بھیج کر گویا ہماری ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے اور یہ تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے کہ ہمارا بچہ سکول کے جن بچوں کیساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے وہ کس نیچر کے ہیں۔ سکول سے ہٹ کر اس نے جو یار دوست بنا رکھے ہیں ان کا کردار کیسا ہے۔ بچہ جونہی لڑکپن کی حدود میں قدم رکھتا ہے یکدم اس کے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ گھر سے نکلنے کیلئے اکثر بچوں کو ماں باپ کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔PARENTAL CONTROL ایک بہت ہی اہم سبجیکٹ ہے لیکن اکثر والدین اس سے ناواقف ہیں۔ہمارے بچپن میں تربیت نہ سہی یہ سکہ بند اصول ضرور تھا کہ اگر غلطی کرتے تو اس کی سزا ملتی تھی۔اب کسی کے بچے کی شکایت اس کے باپ سے کرو تو بسا اوقات یہ بھی سننے کو مل جاتا ہے بھائی صاحب میں اپنے بچوں کو جانتا ہوں آپ اپنے بچے کی خبر لیجئے۔ آپ نے بارہ سال سے اوپرکے لڑکوں کو اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل چلا رہے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے فون کان کیساتھ لگا کر مین روڈز پریوں بے خوف جا رہے ہوتے ہیں کہ جیسے روڈ پر ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ٹیکسٹ میسیج بھی کر رہے ہوتے ہیں ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے سنگین نوعیت کے حادثات ہوتے ہیں لیکن انہیں کون روکے کہ ماں اپنی دنیا میں مگن ہے۔ باپ اپنی دنیا میں اور بچہ کلی طور پر آزاد۔ اس’آزادی ‘ کا انجام یوں بھی ہوتا ہے کہ گھر سے صحیح سلامت گئے بچے کی لاش ہی واپس آتی ہے۔ مکمل آزادی دے دینا بچوں کیساتھ محبت نہیں بدترین دشمنی ہے لیکن بگڑے بچوں کے بگڑے ہوئے والدین کو یہ بات کون سمجھائے کہ بسا اوقات سمجھانے والے کو بھی جلی کٹی سننی پڑ جاتی ہے۔ بچے کا ریموٹ کنٹرول آپ کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے۔اس کا ریموٹ کنٹرول اگر اسی کے ہاتھوں میں تھما دیں گے تووہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے گا جس کا اسے نقصان اُٹھانا اور آپ کو صدمہ سہنا پڑیگا اسلئے صرف والدین کی حیثیت سے ہی نہیں ایک قوم کے افراد ہونے کے ناطے بھی اس ذمہ داری کو محسوس کریں کہ آپ کا بچہ بھی سوسائٹی کا حصہ ہے اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کیلئے ضروری ہے کہ باکردار اور بااخلاق لوگ اس کا حصہ بنیں۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستانی اپنی اقدار وروایات کیساتھ مضبوطی سے چمٹے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے کی خبرگیری رکھنا، ہمسایوں کیساتھ پرجوش تعلقات، ایک دوسرے کی خوشی غمی میں بھرپور شرکت،مہمان نوازی اور ایسی ہی دیگر معاشرتی اقدار کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ ایک الگ پہچان رکھتا تھا۔ کسی کے گھر مہمان آجاتے تو اللہ کا شکر ادا کیا جاتا کہ اس کی رحمت آئی ہے، آج ماتھے پر شکنیں پڑ جاتی ہیں کہ یہ بلائے جان کہاں سے آگئے۔کسی کے گھرفوتگی ہو جاتی تو اس گھر کا سارا انتظام پڑوسی اور محلے والے اپنے ہاتھوں میں لے لیتے۔ پڑوسیوں اور محلے داروں کے بچے ایک دوسرے کے گھروں میں دیر تک کھیلتے، کیا مجال کہ کسی کے ماتھے پر بل آتا ہو۔ اب اول تو بچے ایک دوسرے کے گھر جاتے ہی نہیں اور اگر چلے جائیں تو لوگ اپنے بچوں کو سرزنش کرتے نظر آتے ہیں۔ دلوں میں اس قدر تنگی آگئی ہے کہ پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں ہوتی۔ کسی محلے دار پر کوئی مشکل آجائے تو لوگ اپنا دامن بچا کر صاف نکل جاتے ہیں۔ گھروں کے اندر کا ماحول اس قدر پراگندہ ہو چکا ہے کہ اگر گھر کے سات افراد ہیں تو ساتوں موبائل کیساتھ لگے نظر آئیں گے۔ وہ پرانی قدریں جو ہمارے معاشرے کی جان اور شان تھیں ملیامیٹ ہو کر رہ گئیں۔ایک افراتفری اور نفسا نفسی ہے جس نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے لیکن بہت کم لوگ ہیں جو اس صورتحال پر کڑھتے اور آہیں بھرتے ہیں۔ زیادہ تر حال مست ہیں اور اس تیز رفتار زندگی کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں بچے کرکٹ، ہاکی، فٹبال، والی بال، پٹھو گرم اور گلی ڈنڈا کھیلتے تھے اور جسمانی طور پر خوب مضبوط ہوتے تھے۔ اب سارا سارا دن گھر میں ہی پڑے موبائل یا کمپیوٹر سے چمٹے رہتے ہیں۔ ذراسا کام کہہ دو تو منہ بسورنے لگتے ہیں۔ سو جب یہ جوان ہوں گے اور ہماری جگہ لیں گے تو اللہ جانے بحیثیت قوم ان کی کیا حالت ہوگی؟۔اقدار و روایات کا قائم رہنا قوموں کی بقا اور سربلندی کیلئے بہت ضروری ہے۔ان سے قومیں پہچانی جاتی ہیں لیکن افسوس کہ ہم وقت کے دوش پر اتنا دور نکل گئے کہ اپنی اقدار وروایات کا گلہ بھی اپنے ہاتھوں سے گھونٹ بیٹھے۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

متعلقہ خبریں