Daily Mashriq

یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی بھول گئے

یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی بھول گئے

چاچا دینو نے اپنی دکان کے آگے سے گزرتے چھوٹو کو آواز دے کر روکا، جی کیا بات ہے چاچا دینو۔ ’’تم نے اپنی انگلی پر یہ دھاگا کیوں باندھا ہوا ہے؟‘‘ چاچا دینو نے چھوٹو کی انگلی کی طرف اشارا کرتے ہوئے پوچھا۔ جس کے جواب میں چھوٹو کہنے لگا کہ یہ دھاگا امی نے باندھا ہے تاکہ میں خط ڈالنا نہ بھول جا ؤں، تو کیا تم نے خط ڈال دیا؟ چاچا دینو نے پوچھا۔ نہیں امی مجھے خط دینا بھول گئی ہیں، ’’واہ ڑے!!‘‘ چاچا دینو نے اپنے سے انداز میں اپنا تکیہ کلام دہرایا اور چھوٹو ’’ہاں ڑے‘‘ کہہ کر چاچا دینو کی نقل اُتار کر یوں بھاگا جیسے شرارتی بچے کوئی شرارت کرنے کے بعد جان بچانے کی غرض سے بھاگا کرتے ہیں۔ ایسے میں چاچا دینو کی لون مرچ کی دکان پر کوئی گاہک آگیا اور اسے یاد ہی نہ رہا کہ اس نے چھوٹو سے کیا پوچھا تھا اور اسے چھوٹو نے کیا جواب دیا تھا۔ ہماری زندگی کے معمولات میں ایسا ہمیشہ یا ہر روز ہوتا رہتا ہے۔ ہم زندگی میں اتنے دکھوں پریشانیوں اور تفکرات کا شکار رہتے ہیں کہ ہمیں بہت سی باتیں بھول جانے کی عادت سی ہو جاتی ہے۔ زندگی کا یہ معمول یا بھول جانے کا رویہ نہ صرف ہماری شخصی یا انفرادی زندگی کو لاحق رہتا ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ہم اس عادت بد کے شکار رہتے ہیں۔ من حیث القوم ہمارا اجتماعی شعور بھی اس بھلکڑپن کے عارضہ میں مبتلا نظر آتا ہے۔ بھلے شاہ کے دیس قصور کی زینب پر روا رکھے جانے والے جور وجفا کی کہانی آج زبان زد عام ہے۔ اس کہانی کو کیش کرنے والوں نے ہائے زینب وائے زینب کرتے ہوئے معصومہ پر اُٹھنے والے اس ظلم ناروا کے بہت چرچے کئے۔ پنجاب والوں نے اپنی اس کوتاہی کو چھپانے کی غرض سے اس ہی قسم کے ستم کی شکار مردان کی چار سالہ اسماء کی جانب اُنگلیاں اُٹھا کر چیخ وپکار کرنے والے لوگوں کی توجہ کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔ ایسے میں مردان ہی کی ایک اور بچی شب نور کے وارثوں کو اس کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز ظلم کی یاد تڑپانے لگی۔ شب نور کو ڈیڑھ سال قبل مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرکے اس کی لاش کے ساتھ پتھر باندھ کر نہر میں ڈبو دیا گیا تھا۔ اچھا ہوا کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے قانون کے شکنجے میں آگئے اور ایک حوالہ کے مطابق اس وقت وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے انجام کو پہنچنے کے مرحلے طے کر رہے ہیں۔ آج سے ڈیڑھ سال قبل وقوع پذیر ہونے والے اس دلخراش واقعہ کو قوم والے بھلا بیٹھے تھے مگر زینب اور اسماء کے شور نے شب نور کے اہل خانہ کے زخموں کو تازہ کر دیا اور وہ اپنے اخباری بیان کے ذریعے ملزموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ زمانہ حال یا عہد حاضر میں ہمیں نت نئی خبروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر نئی آنے والی بڑی یا زبردست خبر پرانی خبر کو یوں ہڑپ کر جاتی ہے جیسے کوئی بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے اور بعض اوقات ایک ہی قبیل کی خبر مدتوں پہلے رونما ہونے والی بھولی بسری خبروں کے سردخانہ برف کو پگھلا کر باہر لے آتی ہیں۔ زینب، اسماء اور شب نور کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ان کے انسانیت سوز قتل کے واقعات کو سن کر ہم خبروں کے قبرستان سے ایسی دہشت ناک خبر کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں جو آج سے کم وبیش بائیس سال پہلے رونماء ہوئی تھی۔ اس لرزہ خیز خبر کا مرکزی کردار لاہور کا شہری جاوید اقبال تھا جس نے یکے بعد دیگرے ایک سو بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور ان کے لاشوں کو تیزاب میں پگھلا کر راوی کے پانی میں بہاتا رہا۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا یہ ستم ایجاد وحشی سو بچوں کو قتل کرنے اور ان کی تیزاب جلی لاشوں کو راوی برد کرنے کی سینچری مکمل کرنے کے بعد خود چل کر اخبار کے دفتر میں پہنچا اور اخبار والوں کو اپنی بپتا یوں سنانے لگا جیسے اس نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ اخبار والوں کی کوششوں سے اس بھیڑیئے کو جیل میں بند کیا گیا جہاں کچھ مدت رہنے کے بعد اس نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی اور یوں اپنے ساتھ اس لرزہ خیز خبرکو بھولی بسری خبروں کے قبرستان میں دفن کرنے کا باعث بن گیا۔ بھولی بسری خبریں یادوں کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خبر اور قبر میں صرف ایک حرف کا فرق ہے۔ بھلا مانس جس مقام پر رہتا تھا وہاں کے لوگ قاف کے حرف کو خاف کہتے تھے اور ’خ‘ کے حرف کو ’قاف‘ کی آواز میں پڑھتے یا بولتے تھے۔ اتفاق سے بھلے مانس کا گزر ایک قبرستان سے ہوا تو وہ کہنے لگا ’’مجھے کیا قبر تھی کہ جہاں سے میرا گزر ہوگا وہاں خبریں ہی خبریں ہونگیں‘‘۔ اس دنیا کو ہم خبروں کا قبرستان کہیں یا قبروں کا خبرستان، کہنے کی بات یہ ہے کہ ہر نئی اور بڑی خبر جنم لیتے ہی کھا جاتی ہے اپنے سے پہلے پیدا ہونے والی بڑی خبر کو جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کے نفسیاتی مریضوں جیسی دھونس دھمکیوں کے لہجے کی خبروں نے دفنا دیا مقبوضہ فلسطین کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کی خبر کو۔ زینب کا قاتل گرفتار ہوگیا۔ اس خبر نے زندہ کر دیا زینب کی دم توڑتی خبر کو اور موقع مل گیا شہباز شریف کو اسماء کے کیس میں تعاون کرنے کی پیشکش کا۔ ہم سب من حیث القوم چھوٹو کی امی اور دینو چاچا سے بڑھ کر بھلکڑ ہیں۔ کچھ یاد نہیں رہتا۔ نت نئی خبریں جنم لیتی رہتی ہیں۔ جن پر سیاست کی دکانیں بھی چمکائی جاتی ہیں اور لعن طعن کا بازار بھی گرم ہو جاتا ہے۔ جانے یہ کب سے ہو رہا ہے ہمیں کچھ خبر نہیں۔ ٹھہرے جو جہاں بھر کے بھلکڑ بس تالیاں بجانی اور نعرے لگانے آتے ہیں ہم سب کو۔ ناچنے لگتے ہیں ہر ڈگڈگی بجانے والے کو دیکھ کر۔

اداریہ