مشرقیات

مشرقیات

علی ؓ ایک مرتبہ خزانے میں تشریف لے گئے تو سونے اور چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے ۔ بیت المال میں لاکھوں دینار جمع تھے ۔ سونے چاندی کو خطاب کرکے فرمایا : اے دنیا دھوکہ کسی اور کو دینا ۔ ہم تیرے دھوکہ میں آنے والے نہیں اور خزانچی کو اس وقت حکم دیا کہ غرباء میں دولت تقسیم کی جائے ۔ رات بھر دولت تقسیم ہوئی ۔ اندازہ لگایا تو لاکھوں دینار تقسیم ہوئے ۔ یہ لوگ تھے جو خزانے پڑے ہوئے ہیں اور اس کو خطاب کر رہے ہیں کہ ہم تجھ پر ریجھنے والے نہیں ۔ ہم تجھ پر مرنے والے نہیںہیں ۔ یہ کا یا پلٹ کہا ں سے ہوئی ! اس قرآن نے ہی تو دلوں کو بدل دیا تھا ، روحوں کوپلٹ کر رکھ دیا تھا ۔اب خالق کی محبت شروع ہوئی اور محبت میں مستغرق ہوگئے ۔کہاں سے غرق ہوگئے ۔ کہاں پہنچ گئے ۔ (خطبات طیب)
امام احمد بن حنبل ؒ کا ایک پڑوسی تھا ، جو ہر وقت فسق و فجور اورلہو ولعب میں مشغول رہتاتھا ۔ ایک دن وہ امام ؒ کی مجلس میں آیا اور سلام کیا ۔ امام احمد بن حنبل ؒ نے اسے بادل نخواستہ جواب دیا اور اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی ۔ پڑوسی نے امام ؒ سے کہا : آپ جس وجہ سے میر ی طرف نظر التفات نہیں فرمارہے ، میں اس سے بخوبی آگاہ ہوں ، مگر ایک خواب نے میری زندگی بد ل ڈالی ہے ۔ اب میں اپنی فسق فجور والی زندگی سے تائب ہونا چاہتا ہوں ۔
امام احمد بن حنبل ؒ نے پوچھا : آپ نے خواب میں کیا دیکھا ہے ؟ ۔
اس نے بتایا : میں نے دیکھا ، رسول اکرم ﷺ ایک بلند جگہ پر تشریف فرما ہیں ۔ نیچے بہت سے لوگ بیٹھے ہیں ۔ میں بھی ان میں شامل ہوں ۔ وہ یکے بعد دیگر ے اٹھ کر رسول اقدس ﷺ سے دعا کی درخواست کر نے لگے ۔ یہاں تک کہ میرے علاہ کوئی نہ بچا ۔ میں بھی دعا کی درخواست کرنا چاہتا تھا ، لیکن اپنے گناہوں کی وجہ سے مجھے حیا محسو س ہوئی کہ کس منہ سے دعا کی درخواست کروں ۔ پھر رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا : تم کیوں دعا کیلئے نہیں کہتے ؟ ۔
میں نے کہا : اے خدا کے رسولؐ ! مجھے اپنے گناہوں کی وجہ سے شرم محسوس ہوتی ہے ۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ تمہیں حیا محسوس ہوتی ہے ، پھر بھی اٹھ کر مجھ سے دعا کیلئے کہو ، میں تمہارے لئے دعا کروں گا ، کیونکہ تم میرے صحابہ ؓ میں سے کسی کو برا نہیں کہتے ۔ میں کھڑا ہوگیا ۔ آپ ؐ نے میرے لیے بھی دعا کی ۔ اس کے بعد میں اپنی نیند سے بیدار ہوگیا ۔ رب تعالیٰ نے میرے دل میںمیری پچھلی زندگی کے بارے میں نفرت ڈال دی ۔ اب آپ مجھے ایک بدلا انسان پائیں گے ۔ امام ؒ نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا : اس نوجوان سے یہ کہانی سنو ، اسے یاد رکھو اور دوسروں کو سنائو ،یقینا اس سے فائدہ ہوگا ۔ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیئے اپنے برے اعمال پر نادم ہو کر خلوص دل سے اللہ سے توبہ کر دیں گے تو وہ دل کی دنیا بد ل دیتا ہے ۔
(بحوالہ دعائوں کی قبولیت )

اداریہ