Daily Mashriq


ہماری نجات شریعت مطہرہ میں ہے

ہماری نجات شریعت مطہرہ میں ہے

زینب شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے لئے درندگی کا لفظ بار بار استعمال ہوا لیکن حق یہ ہے کہ درندگی سے بھی بڑھ کر اگر کوئی لفظ اس قبیح و تشنیع کام کی مذمت کے لئے اہل زبان و لغت کے ہاں ہے تو استعمال کرکے بھی شاید پھر بھی حق ادا نہ ہوسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو معصوم بچی پھر اپنے کسی جان پہچان والے کے ہاتھوں لٹنا اور اس بری طرح سے لٹنا کہ بربریت کے ساتھ قتل کیاگیا اور پھر قتل کے بعد بجائے اس کے کم از کم زمین کے حوالے کرتے‘ کوڑا کرکٹ میں ڈالا گیا اور تین چار دن تک یونہی انسانیت خوار و زبوں ہوتی رہی۔۔۔!!

معاشرے کی طرف سخت ترین لعنت ملامت اپنی جگہ بہت اچھی بات‘ ضروری بھی تھا اور فطری بھی۔ حکومتی سطح پر بڑے بڑے مقتدر حضرات راتوں رات زینب بی بی کے والدین کے ہاں پہنچے۔ قانون کے رکھوالوں نے بڑی پھرتی دکھائی۔ قربان جائوں‘ سعودی عرب کے کہ کوئی مجرم ارتکاب جرم کے بعد چوبیس گھنٹے سے زیادہ ذرا بچ کر تو دکھائے۔ وہاں جب کوئی اس قسم کا وقوعہ ہوتا ہے تو ائیر پورٹس‘ ریلوے سٹیشن‘ ٹیکسی سٹینڈز‘ پٹرول پمپس‘ دکانداروں‘ ہوٹلوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کرکے مجرم کو کسی قسم کی سہولت اور مدد پہنچانے سے منع کر دیا جاتا ہے اور پولیس چوبیس گھنٹے مجرم کے تعاقب میں سرگرداں ہوتی ہے۔ اس قسم کے مجرم کو گرفتاری کے بعد قرائنی شواہد اور میڈیکل ٹیسٹ کے بعد مہینے کے اندر اندر جمعہ کی نماز کے بعد مجمع کے سامنے سنگسار یا تہہ تیغ کردیا جاتا ہے۔ اس عبرت انگیز منظر کو کمزور دل والے حضرات دیکھنے کی تاب نہیں رکھتے‘ کئی ایک آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور محمد الرسول اللہؐ نے یہ حدود اس لئے نازل اور نافذ کی ہیں تاکہ بنت حوا محفوظ رہ سکے۔

دنیا میں سب سے کم جرائم سعودی عرب میں کیوں ہوتے ہیں؟ اس لئے کہ وہاں قصاص اور بد کاری و چوری وغیرہ جیسے جرائم کے لئے حدود کا نفاذ ہوتا ہے۔ قصاص میں لوگوں کے لئے زندگی ہے حدود کے نفاذ میں لوگوں کی عصمت و آبرو کی حفاظت رکھی گئی ہے۔

پاکستان میں وقفوں وقفوں سے ایسے جرائم اور واقعات جنم لیتے رہے ہیں جو یقینا اسلام اور پاکستان کے لئے کلنک کا ٹیکہ ہوتا ہے۔ مغرب اور بھارت ایسے واقعات کو پاکستان اور مسلمانوں کے چہروں کا داغ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ کسی بد بخت و انسانیت کے ماتھے پر ایک بد نما کا انفرادی کردار ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں زینب کا واقعہ سی این این‘ بی بی سی وغیرہ جیسے نشریاتی اداروں پر بھی زیر بحث آیا۔ اس قسم کے گھنائونے واقعات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض لوگ ہمارے ان زخموں کو ناسور بنانے کی خاطر فلمیں بنوا کر آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے وہ تگ و دو اور کارروائی نہیں کرتے جو ناگزیر ہوتی ہے۔

ان واقعات کو روکنے اور کم کرنے کے لئے حکومت وقت کا فرض ہے کہ فحاشی و عریانی کے واقعات و مناظر کو میڈیا اور نشر و اشاعت کے ذریعے عام کرنے سے روکیں۔ سورۃ نور میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو فحاشی پھیلاتے ہیں دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے۔ آج کا بے قابو اور منہ زور میڈیا دولت کی لالچ میں اشتہارات‘ ڈراموں اور فلموں کے ذریعے نوجوان نسل کو جس انداز میں بے حیائی و عریانی کی طرف مائل کئے ہوئے ہے کسی بھی پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس کی گنجائش اور جواز پیدا نہیں ہوتا۔ یو ٹیوب‘ موبائل اور نیٹ نے تو نوجوانوں کو ایک عجیب آزمائش میں ڈال رکھا ہے۔ میڈیا اور یو ٹیوب اور اخبارات و جرائد اور فلموں و ڈراموں کے ذریعے جو کچھ دینی تعلیم و تربیت سے عاری نوجوانوں کے اذہان میں بیٹھتا ہے اس کے نتیجے میں اس قسم کے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

اب جبکہ زینب بی بی کے بعد پے در پے اس قسم کے کئی ایک اور واقعات رونما ہوگئے ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان لوگوں (خاص کر خواتین) کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لایا جاتا ہے جن کے ساتھ بچپن میں اس قسم کا نازیب و ناروا سلوک ہوا تھا اور ساتھ ہی جس انداز سے میڈیا نے زینب کے واقعہ کی آڑ میں ایک عجیب مہم شروع کی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت سارے داخلی و خارجی عناصر ان واقعات کو موقع جان کر ہمارے تعلیمی اداروں میں سکول سطح پر جنسیات کی تعلیم کو حصہ نصاب بنانے کا پروگرام بنائے ہوئے ہیں۔

اس قسم کی کوششیں ایک زمانے میں ایڈز کے روک تھام اور اس موذی مرض کے بارے میں آگاہی کی آڑ میں بھی ہوئی تھیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور عدالتوں پر پولیس پر پارلیمنٹ کے ذریعے دبائو ڈالا جائے کہ جنسیات کی تعلیم کو عام کرنے اور پاکستان مغرب زدہ ملکوں میں شامل کرنے کی مہم کے بجائے سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کو ناگزیر ہونے کی صورت کے علاوہ کم کرنے اور تہذیب و اخلاق اور قرآن کریم و سنت کی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ آئمہ کرام ان قبیح گناہوں کے دنیا و آخرت میں مفاسد اور سزائیں بیان کریں۔ حکومت اور عدالتیں ان جرائم کی روک تھام کے لئے حدود و تعزیرات کا سختی کے ساتھ نفاذ ممکن بنائے۔ اسلامی سزائوں کے نفاذ کے بعد بہت جلد دنیا دیکھے گی کہ پاکستان اس قسم کے جرائم سے کیسے پاک ہوتا ہے۔

عوام کو چاہئے کہ پر امن جلسے جلوسوں کے ذریعے حکومت اور پارلیمنٹ پر دبائو جاری رکھیں ۔

لیکن عوام اور حکومت کی املاک کو کسی صورت نقصان نہ پہنچایا جائے۔ پاکستان پہلے ہی مشکل حالات میں گھرا ہوا ہے۔انفراسٹرکچر کمزور ہے اورجو ہے اسی کو تباہ کیا جائے تو کہاں جائیں گے۔ قصور میں عوام نے ہسپتال اور بعض ایم پی ایز وغیرہ کے گھروں اور حجروں کو نقصان پہنچایا‘ بہت برا کیا۔ اس لئے کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ افعال سے حالات اور بھی خراب ہوتے ہیں۔

امن و امان کے قیام‘ لوگوں کی جانوں‘ اموال اور آبروئوں کی حفاظت کے لئے شریعت مطہرہ کے علاوہ اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔ انسانیت اور پاکستان کی نجات اسی میں ہے اور اسی مقصد کے لئے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔

متعلقہ خبریں