Daily Mashriq

ہمیں معاف کردو

ہمیں معاف کردو

۔۔ درد دور ہٹو تم مارنے نکلے ہو کیا؟ آہ تصور سونے دو نا کیا تماشہ لگا رکھا ہے کیا تم بھی مارنا چاہتے ہو مجھے ؟ آہ ۔ لاچارگی چھوڑو نا کیوں ذہن کو مائوف کرنے پر تلے ہوئے ہو۔

تصور سے بھاگنے کی ہزار کاوشیں لیکن ناکام ۔۔۔ یہ تصور اور اس کے اندر چھپا درد تو پاگل بنا کے ہی چھوڑے گا ۔
بھیانک تصور اور اس میں چھپی معصوم سی زینب۔۔ آہ کچھ اسی طرح آہیں اور سسکیاں لی ہونگی اور رات کی تاریکیوں نے خوب آنسو بہائے ہونگے ۔ جی ہاں بالکل کچھ اسی طرح ہی معصوم کھلی کی معصومیت کو روند دیا ہوگا ظالم نے اور شیطانیت پوری آب و تاب سے مسکرا اٹھی ہوگی ۔ قوم کی بیٹی عین اسی وقت شاید اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی جس وقت حکمران شاید قوم کی تقدیر اورترقی کی نئی پالیسیاں بنانے میں مصروف تھے ۔
یہ کہانی زینب کی نہیں فرض کرلیتے ہیں یہ کہانی میری اور آپ کی ہے۔فرض کرلیتے ہیں یہ زینب کسی اور کی نہیں میری اور آپ کی بہن ،بیٹی ،نواسی ،پوتی ،بھتیجی یا بھانجی ہے ۔ فرض کرلیتے ہیں یہ اداس شام زینب کے گھر میں نہیں میرے اور آپ کے گھر میں بسیرا کرلیتی ہے ۔ چند لمحوں کے لئے سوچ لیتے ہیں جن لخت جگر کو اپنی بانہوں میں چھپا کر ہم رات کی تاریکیوں سے ان کو چھپاتے ہیں۔ جن کی توتلی باتوں کے سامنے پوری دنیا چھوٹی نظر آنے لگتی ہے اور جن کو چوم چوم کر ہماری محبت ختم ہی نہیں ہوتی ان کو دوسرے جب تھوڑی سی آنکھ دکھاتے ہیں تو کیا ہماری صبح و شام خراب نہیں ہوجاتی ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو سوچ لیجئے زینب کے باپ کا حال کیا ہوگا اور زینب کی ماں ۔۔ اف اندھیر نگری میں رہنے والے مجھ جیسے لوگ تو شاید یہ تصور نہ کرسکیں ۔۔۔ میری طرح آپ بھی لرز اٹھیں گے اور آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں گے اگر آپ پانچ سیکنڈز کے لئے زینب کو اپنی بچی سمجھ لیں ۔ ایسا حادثہ خدانخواستہ اگر ہمارے ساتھ ہوا تو کیا ہمارا انداز زندگی بدل نہیں جائے گا ؟ کیا سوچنے کا انداز پورے کا پورا بدل نہیں جائے گا ؟ ذرا سوچیئے ۔
زینب کے والدین کیا سوچیں گے جب رات کو اپنی گود خالی پائیں گے ؟ اور دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا ہماری زندگی پر کچھ اثر ہوا اور کیا ہمارے روٹین میں کچھ فرق آیا؟ آپ کا جواب ضرور نفی میں ہوگا‘ کیوں ؟ کیونکہ زینب ہماری بہن ،بیٹی ،نواسی ،پوتی ،بھتیجی یا بھانجی نہیں تھی ۔المیہ یہ ہے کہ خود کو بدلنے کے لئے ہم سانحوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں ۔
تصویر کے دونوں رخ بھیانک ہوچکے ہیں ۔ زینب جیسی بہت سی بچیوں سے ان کی زندگیاں چھین لی گئیں لیکن نہ نظام بدلا اور نہ لوگ ۔ معتصم باللہ کو پکارنے والے بے شمار ہیں لیکن خود کو بدلنے والے ناپید ۔ ہم سانحوں کے عادی بنتے جارہے ہیں اور یہ بھول چکے ہیں کہ صرف باتوں سے معتصم باللہ پیدا نہیں ہوتے بلکہ کردار کی پختگی ہی اصل افراد کو جنم دیتی ہے ۔ کیا روز روز کے سانحے ہم بھلاتے نہیں جارہے؟ زینب تو نہ رہی لیکن اس کے والدین اور اس کے اپنے کس طرح خود کو دلاسہ دیں گے کہ ہم ایک اسلامی اور آزاد ملک میں رہ رہے ہیں ۔ کیا صرف سوشل میڈیا کا طوفان ہی دلاسہ دینے کا ذریعہ بن چکا ہے؟ کیا "جسٹس فار زینب" کا فریم لگا کر ہم تمام ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہوجاتے ہیں ؟ عجیب لوگ ہیں ہم بھی ۔ ذہنی بیمار لوگ۔۔۔۔۔ہم اگر ان تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں دو اہم کام کرنا ہونگے ۔
سب سے پہلے اسلام کا پوری طرح مطالعہ کرنا ہوگا کہ آیا اسلامی نظام ہمارے لئے فائدہ مند ہوگا کہ نہیں ۔ اس نظام کے تمام اصول جب ہم پڑھیں گے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس کے پاس زندگی گزارنے کے تمام بہترین اصول موجود ہیں ۔یہ اسلامی نظام ہی تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں نے پوری دنیا پر حکومت کی ہے ۔ اسلامی نظام ہی کی بدولت اخلاقیات سے بھرپور اور جامع نظام زندگی مسلمانوں کا اوڑھنا بچھونا رہا اور اسی طاقت کے بل بوتے پر دنیا کے کونے کونے تک اللہ کا پیغام پہنچایا ۔
اس ملک کے تمام مسائل کاحل بھی ایک مضبوط اسلامی نظام میں ہے ۔ جب تک رسول اللہؐ کے بتائے ہوئے اصول اس معاشرے کا حصہ نہیں بنیں گے تب تک ہم عزتوں کی پامالیاں اور فطرت کے خلاف تماشے دیکھتے رہیں گے ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جب اسلامی نظام نافذ ہوگا تو سزا اور جزا کی روایت بھی آجائیگی جس کے ڈر سے کوئی ہوس کا پجاری دن دیہاڑے ایسی بزدلانہ حرکت نہیں کرسکے گا ۔سرعام جب مجرم کو سزا ملے گی تو پورا معاشرہ اس سے سبق سیکھے گا ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ خود کو مسلمان کہنے کے باوجود ہم مسلمان کہنے کے لائق نہیں ہیں ۔ ہر ایک کے پاس خود اپنے مفادات کے حصول کا ایک جامع نظام موجود ہے ۔ مفادات سے ہٹ کر کوئی نہیں سوچتا اور نہ اجتماعی سوچ ابھی تک پروان چڑھی ہے جو خود کو حکمران کہتے ہیں وہ نہ المیوں سے ڈرتے ہیں اور نہ اللہ کی گرفت سے ۔
دوسری بات جو بہت ہی اہم ہے ہمیں بحیثیت قوم سانحوں سے سیکھنا ہوگا ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سانحے بھلادیتے ہیں ۔ بہت سارے ایسے سانحے رونما ہوئے جن کا ہمارے قومی وقار سے براہ راست تعلق رہا لیکن نہ ہم نے ان سانحوں کو روکنے کی صحیح کوشش کی ہے اور نہ ان سے سیکھنے کی ۔ "رات گئی بات گئی" کے مصداق ہم خود کو خوش فہمیوں میں مبتلا کردیتے ہیں اور آئے روز نئے نئے تماشے لگاتے رہتے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا نظام بھی نہیں بدلتا اور ہم بھی نہیں بدلتے۔
زینب کا واقعہ ابھی چند دن پہلے لیکن سانحے کا سارا ملبہ اس کے والدین ہی پر پڑا ہوا ہے اور جتنے تماشائی تھے وہ تماشہ دیکھتے دیکھتے تھک گئے ہیں ۔ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ کہیں زندگی کا مقصد ہی تماشہ نہ بن جائے ۔ اللہ رحم کرے ورنہ تماشائی کی زندگی گزارنے والا تماشائی بن کر ہی جب خالق کے سامنے جائے گا تو اس کے ساتھ تماشائی والا سلوک ہی ہوگا ۔

اداریہ