کبھی خفا نہ ہونے والی ہستی

کبھی خفا نہ ہونے والی ہستی

ماں جی اب اس دنیامیں نہیں رہیں،طویل علالت کے بعدوہ دنیا کے جھمیلوں سے بہت دورخالق حقیقی کے پاس چلی گئیں لیکن ذہن یہ بات تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کے جذبوں اور محبت میں غرض نہیں ہوتی ،جب اولاد اس دنیا میں آنکھ کھولتی ہے تواس کے لئے خود کو وقف کر دیتی ہے جب بچہ بول بھی نہیں پاتا اس کی ضرورت کوسمجھتی اور پورا کرتی ہے پھر اسے بولنا سکھاتی ہے بھر انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے ہر آواز پر دوڑی چلی آتی ہے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتی ہے،اولاد کی خوشی میں خوش اور اس کے دکھ میں دکھی ہوتی ہے ۔رشتوں کی پہچان اس وقت ہوتی ہے جب انسان کسی رشتہ سے متعارف ہو تاہے یعنی جب کوئی عورت ماں بنتی ہے تو اسے ماں کے رشتے کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوتاہے۔ اسی طرح جب کوئی رشتہ نہ رہے تو اس کی قدروقیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔جیسا کہ ماں جی اب دنیامیں نہیں ہیں تو ان کی ایک ایک بات یاد آتی ہے اور غم ہرا ہوجاتا ہے۔

ماں تیرے بعد بتا کون لبوں سے اپنے
وقت رخصت میرے ماتھے پہ دعالکھے گا
ماں احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ بے مثال مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے حالات اور موسم کی سختیاں خودسہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ اپنی اولاد کے لیے فکر ودعاکرتے گزرتا ہے،ماں باپ جتنی دعائیں اولاد کے لئے کرتے ہیں اللہ وہ تمام دعائیں ضرور قبول فرماتا ہے ،ماں کے اندر ممتا کا جو جذبہ ہوتا ہے وہ کسی اور میں نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، دعاؤں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت سمیت تمام اوصاف سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور نعمت ہے جس کی قدر ہم پر فرض ہے۔ ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ کوئی بھی نہیں ادا کر سکتا،ہم تو ماں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے،ماں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہے۔ والدین کے احسانات کے بارے میں سوچیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے ان کااحسان تمام زندگی نہیں اتار سکتے۔ یہ ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی انسان کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کی ماں ہی کا ہاتھ ہے جس کا وہ ثمر پارہا ہے۔ ان کی ماؤں نے پال پوس کر ان کو قابل بنایا اور اپنی ماؤں ہی کے طفیل آج یہ کامیاب ہیں۔ ان کی تربیت میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کی ماؤں ہی کی مرہونِ منت ہیں،ماں کی دعاؤں نے ہی اولاد کو بڑے سے بڑا ولی اور بادشاہ بنایا ہے،حضرت با یزید بسطامی کی ماں نے دعا فرمائی تھی اور وہ دنیائے ولایت کے بہت بڑے ولی بن گئے،حضرت ٹیپو سلطان شہید کی والدہ کی دعائیں تھیں کہ ایسے سلطان بنے کہ تاریخ میں انکا نام سنہری حرفوں میں درج ہوا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کا وہ قصائی جو ماں کی خدمت کرتا اور ماں دعا دیتی کہ اللہ جنت میں تجھے حضرت موسیٰ کے ساتھ رکھے اور اللہ نے یہ دعا قبول کی اور حضرت موسیٰ کو بتادیا اور حضرت موسیٰ نے جا کر خدمت اور دعا کا منظر دیکھا۔ماں باپ کی دعاؤں سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔
قرآن مجید (سورہ بنی اسرائیل اور سورہ لقمان میں ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اللہ نے توحید اور عبادت کے ساتھ ساتھ دیا ہے۔صحابی نے رحمت اللعالمین سے سوال کیا مجھ پر خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے تو آپ نے تین مرتبہ ماں کا فرمایا اور چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر فرمایا کہ باپ کا ہے اور فرمایا کہ اگر ماں باپ ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کرناادب و احترام اور حسن سلوک کا معاملہ رکھنا اور فرمایا کہ اللہ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا عمل بہت پسند ہے۔ماں کا وجود صرف ہماری زندگیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سارے گھرخاندان کے لئے بھی باعث رحمت و نجات ہے۔ ماں تو تپتے صحرا میں ٹھنڈی پھوارکا نام ہے۔ ماں کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ماں کی دعاء سیدھے عرش تک جاتی ہے، ماں میں ممتا کا وہ جذبہ ہوتا ہے جو کسی اور میں نہیں ہوتا اولاد کے لئے اپنی ہر خوشی قربان کر دیتی ہے تکالیف برداشت کرتی ہے ،بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لئے اپنی بڑی سے بڑی خواہش قربان کر دیتی ہے ہر اعتبار سے ان کی حفاظت کرتی ہے ،فکر مند رہتی ہے،دعائیں کرتی ہے، شفقت کے ساتھ پرورش کرتی ہے۔اللہ نے ماں کا دوسرا نام محبت رکھا ہے ۔
دعا ہے کہ جن کے والدین حیات ہیں خدا کرے ان کا سایہ تا دیر سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں، پورے خلوص اور سچے دل کے ساتھ والدین کی خدمت کریں انہیں راضی کرلیں،والدین کی رضا میں اللہ کی رضا شامل ہے۔ اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں،’’اے میرے رب میرے ماں باپ پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میںمجھ پر رحم کیا۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نیک آدمی کا جنت میں اللہ ایک درجہ بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مجھے یہ درجہ کیوں ملاتو اللہ فرماتا ہے تیری اولاد نے تیرے لئے مغفرت کی دعا کی ہے اس لئے اپنے والدین کے حق میں دعا کرتے رہنا چاہئے ،اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ ہمیں والدین کی قدر نصیب فرمااور ان کے لئے محبت، خدمت،اطاعت و حسن سلوک کا جذبہ عطا فرمامااورجن کے ماں باپ اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔

اداریہ