Daily Mashriq

بھارت اسرائیل میں بڑھتی قربت کا مقصد

بھارت اسرائیل میں بڑھتی قربت کا مقصد

سی پیک منصوبے اورخطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے انڈیااوراسرائیل کونہ صرف قریب کردیاہے بلکہ اہم ترین اتحادی بنادیاہے ۔ ان دونوں ممالک کی قربتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے حالانکہ ابتداء میں یہ تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے ۔ 1947ء میں جب عرب ریاست فلسطین کی زمین پر قبضہ کرکے اسرائیل کو قائم کیا گیاتھا تو اس وقت ہندوستان نے کھلے لفظوں اسرائیل کی حمایت نہیں کی تھی، بلکہ اس کی ظاہری ہمددری فلسطین کے ساتھ تھی، مہاتما گاندھی کا یہ نظریہ تھاکہ یہودیوں کا یہ دعویٰ اور اسرائیل ریاست کا قیام بجا ہے لیکن مذہبی بنیاد پر اس کی تقسیم غلط ہے۔ 1948 میں ہندوستان نے تقسیم فلسطین منصوبہ کی مخالفت میں ووٹ دیاتھا، اسی طرح 1929ء میں ہندوستان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کو شامل کیے جانے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

18ستمبر 1950ء کو ہندوستان نے غاصب اسرائیل کو دنیا کے خطے پر ایک ملک تسلیم کرلیا، اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے یہ کہاکہ روئے زمین پر اسرائیل ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں اور ہم نے بہت پہلے اس کا اعتراف کر لیا تھا لیکن عرب ممالک کی دوستی اور ان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچانے کی خاطر ہم اس کا اظہار نہیں کررہے تھے۔ اسی سال ممبئی میں اسرائیل کو قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔
1950سے 1990 تک ہندوستان اسرائیل کے درمیان تعلقات برائے نام تھے، خلیجی ممالک سے گہری دوستی، ان سے ملنے والے تعاون اور ہندوستانی مسلمانوں کی دلجوئی کی خاطر اس درمیان آنے والی حکومت اسرائیل سے اپنے تعلقات کو چاہنے کے باوجود بھی فروغ نہیں دے سکی، تاہم عرب ممالک سے پاکستان کو ملنے والی حمایت کے بعد ہندوستان نے بھی اپنی پالیسی تبدیل کی اور عربوں کی دوستی کی پروا کیے بغیر اسرائیل سے سفارتی رشتہ قائم کرنے کے منصوبہ پر عمل شروع کردیا اور جنوری 1992میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم ہوگئے۔
1999ء میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات خفیہ ہونے کے بجائے عام ہوگئے۔کارگل کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی نظام میں اسرائیل کا رول بڑھتا گیا ہے۔ بھارت آج اسرائیل کے دفاعی ساز و سامان خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ سرحدی حفاظتی نظام، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے انسداد کے معاملات میں اسرائیل بھارت کے ساتھ زبردست اشتراک کر رہا ہے۔ ڈیری، بنجر علاقوں میں آبپاشی، زراعت، توانائی اور انجنیئرنگ و سائنس کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اشتراک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اسرائیل اور انڈیا حالیہ دنوں میں صرف قریب ہی نہیں آئے بلکہ علیحدگی اور بین الاقوامی تنہائی کے اس دور میں انڈیا امریکہ کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی بن کر ابھر رہا ہے۔ بی جے پی نے اسرائیل سے سفارتی رشتے کو مضبوط بنانا شروع کردیا، سب سے پہلے 2000میں جسونت سنگھ نے بطور وزیر خارجہ اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا۔ 2003میں اسرائیل کے وزیراعظم ایرل شیرون نے پہلی مرتبہ ہندوستان کا دورہ کیا، حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے ایرول شیرون کے دورہ کو خصوصی اہمیت دی گئی، اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے شیرون کے دورہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے مزید مستحکم ہونے کے اعتماد کا اظہار کیا۔ نئی دہلی میں انڈیا گیٹ پر ہندوستان اور اسرائیل کا جھنڈا ایک ساتھ لہرایا گیا 2006میں کانگریس کے دور حکومت میں شردپوار، کپل سبل اور کمل ناتھ کے ساتھ اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اسرائیل کا دورہ کیا، متعدد مسلم رہنمائوں اور اردو صحافیوں کا بھی وفد کی شکل میں اسرائیل کا دورہ کرایا گیا اور اسرائیلی بربریت پر خاموشی اختیار کرنے اور فلسطینیوں کی داستانِ مظلومیت نہ لکھنے کی ذہن سازی کی گئی۔
مئی 2012میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات نے ایک نیا رخ اختیا کرلیا ہے۔ نریندرمودی کے وزیراعظم بنتے ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے فون کرکے انہیں مبارکباد پیش کی۔ 2012میں امریکہ دورہ کے دوران نریندر مودی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے خصوصی طور پر علیحدہ ملاقات کی اور اس کے بعد اب تک یعنی ڈھائی سالہ مدت میں تقریباً ایک درجن وزرا2 مرتبہ اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں، جن میں صدر جمہوریہ پرناب مکھرجی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ سشما سوراج بھی شامل ہیں۔ صدرجمہوریہ ہند پرناب مکھرجی نے اکتوبر 2015میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور یہ کسی بھی ہندوستانی صدر کا پہلا دورہ تھا، اسرائیل میں انہیں خصوصی اعزاز دیا گیا اور وہاں کی پارلیمان سے انہوں نے خطاب کیا۔ 12تا 22نومبر 2016سے اسرائیل کے دسویں صدر ارون نے ایک تجارتی وفد کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان 25سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے پر ہندوستان کا سرکاری دورہ کیااورپچیس سالہ تعلقات پرجشن منایا۔بی جے پی حکومت قائم ہونے کے بعد یہود اور ہندو مت کے درمیان کئی مشترکہ مذہبی کانفرنس بھی ہوچکی ہیں۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق ہند اسرائیل کے درمیان بڑھتی قربت کی ایک وجہ مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کو اسرائیل کی ملنے والی حمایت بھی ہے اور آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔ ہندوستان اسرائیلی ساختہ فوجی سامان اور جنگی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اسرائیل روس کے بعد ہندوستان کا دوسرا بڑا دفاعی سپلائر ہے، فوجی ساز و سامان اور جنگی آلات کی خریداری کے نام پر سالانہ 9بلین سے زائد امریکی ڈالر ہندوستان اسرائیل کو ادا کرتا ہے، ایک صحافی کے بقول ہر سال اربوں ہندوستانی روپے اسرائیلی بینکوں کے کھاتوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں انسانیت کش لڑاکا طیارے، جدید ترین ٹینک، مہلک رائفلیں، خطرناک کیمیکل، بھانت بھانت کا اسلحہ ہندوستانی گوداموں میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیا میں ہندوستان اسرائیل کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے،پورے ملک میں اسرائیلی اشیا کی فروخت بہت بڑی تعداد میں ہوتی ہے۔
امریکا کو ایشیا میں دو بڑی طاقتیں روس اور چین کھٹکتی رہی ہیں، جن کے ساتھ ٹکرانے کے لیے اسے ایشیا میں سے ہی اتحادی درکار رہتے ہیں۔ دوسری اہم چیز مسلمانوں کے خلاف اسرائیل اور بھارت بھی امریکا کو درکار ہوتے ہیں، جس کے لیے وہ انہیں سپورٹ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے اسے اسرائیل چاہیے اور جنوبی و مشرقی ایشیا میں اسے چین کے خلاف بھارت کی ضرورت ہے۔ مشرق وسطیٰ تک رسائی کے لیے افغانستان سب سے موزوں مقام ہے، جہاں وہ گزشتہ 16سال سے جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔امریکی ایماء پرہی یہ دونوں ممالک نہ صرف قریب آرہے ہیں بلکہ خطے میں اپناگھنائوناکرداراداکررہے ہیں ہمیں اس حوالے سے بیداری کاثبوت دیناہوگا ۔
اگر ہم اندر سے متحد ہوں اور آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف ملک کا سوچیں توباہر کے دشمن جتنے بھی طاقتور ہوں ہمارا نقصان نہیں کرسکتے۔ ہمیں باہر سے زیادہ اندر کے اختلافات سے خطرہ ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کو بھی بصیرت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کر نا ہوگا۔ خطے میں گردوپیش کے حالات پر نگاہ رکھنی ہوگی۔

اداریہ