Daily Mashriq


سلطانئی جمہور کا زمانہ

سلطانئی جمہور کا زمانہ

تمام تر شکوک وشبہات‘ بدگمانیوں‘ سیاسی ناہمواری کی فضا اور خاص طور پر انتخابات کی بجائے تین سال کیلئے ٹیکنو کریٹس کی حکومت لانے کے مبینہ منصوبے کے باوجود 2018ء کے عام انتخابات کا انعقاد اور تمام تر مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی ہونے کے باوجود تیسری جمہوری حکومت کا مینڈیٹ مکمل کرنا جیسے معاملات ملک میں جمہوریت کے استحکام اور جمہوری قوتوں کے غیرجمہوری قوتوں کے مقابلے میں مضبوطی کا پیغام ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک انتخابی نتائج سے اس امر کا اندازہ ہونا فطری امر ہے کہ وطن عزیز کے عوام نے کس جماعت کو حکمرانی کیلئے چنا ہے‘ کونسی جماعت تنہا اور کونسی جماعتیں مخلوط بنیادوں پر حکومتیں بنائیں گی۔ ان معاملات سے قطع نظر یہ بات تو واضح طور پر سامنے آچکی ہے کہ وطن عزیز میں عوام کے حق حکمرانی کو چوتھی مرتبہ تسلسل مل گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جمہوری حکومتوں کے ادوار حکومت پورا کرنے کا آغاز ایک فوجی ڈکٹیٹر کے دور سے ان کے منظور نظر حکومت کی مدت کی تکمیل سے جمہوری حکومتوں کے تسلسل کا دور شروع ہوا۔ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ اس آمر وقت کو اپنی مدت صدارت کی تکمیل کا موقع بھی نہ ملا جو طاقتور عناصر جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگاتے تھے۔ جمہوری حکمرانوں نے ان کے ایک طاقتور نمائندے کو جمہوریت پر آنچ آنے دئیے بغیر سرخ قالین بچھا کر ایوان صدرسے نکالا جس پر بعدازاں غداری جیسا سنگین مقدمہ قائم ہوا، جس کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی کوشش بھی ناکام ہونے پر جلاوطنی اختیار کی گئی اور وطن واپسی کا اس وقت تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اس سارے عمل کے بعد بھی ملک میں جمہوری حکومت کا بااختیار اور مقتدر نہ ہونا بہرحال المیہ ضرور ہے لیکن مقتدرین ہی کی بیساکھیوں کو پھینک کر ان کو للکارنے کا جو نعرہ مستانہ بلند ہوا وہ ملک کی جمہوری تاریخ کا ایک باب ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے استحکام میں جہاں ملکی اور عالمی حالات کا بڑا عمل دخل ہے وہاں میڈیا کی آزادی اور سب سے بڑھ کر مکمل طور پر آزاد سوشل میڈیا کی صورت میں جمہور کو ایک ایسا پلیٹ فارم نظر آگیا جس میں لوگ صرف سوال کرتے ہی دکھائی نہیں دے رہے ہیں بلکہ جواب بھی مانگنے لگے ہیں۔ انتخابات کے دوران گوکہ اس کا غیرذمہ دارانہ اور غلط استعمال بھی سامنے آیا ہے اور اس میڈیم کا غلط اور غیرذمہ دارانہ استعمال ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن اس میڈیم نے جس طرح عام طبقے کو گویائی اور قوت اظہار بخشا ہے اس کے ہوتے ہوئے اب اس امر کا امکان کم نظر آتا ہے کہ ملک میں استحکام جمہوریت کی راہ میں اب کوئی آڑے آئے۔ البتہ سیاسی جماعتوں کی باہم چپقلش اور سیاست کو نفرت وجنون بنا دینا ایک ایسا مسئلہ اب بھی ضرور ہے جس سے جمہوریت کے استحکام کا سوال اٹھتا ہے۔ عوام نے انتخابات میں اپنی رائے کے اظہار کے ذریعے جس جماعت یا جن جماعتوں کو حق حکمرانی تفویض کر دی ہے اس نازک مرحلے پر ان کی ابتدائی اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ان جماعتوں کی قیادت سیاسی شعور اور بالغ نظری کا مظاہرہ کرے اور مستحکم حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔ انتخابی تلخیاں بھلا دی جائیں‘ انا پر مصلحت اور سیاسی تقاضوں کو مقدم رکھا جائے اور ایسی جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے جس کو غیر جمہوری قوتیں نہ تو املا نویسی پر مجبور کرسکیں اور نہ ہی یہ حکومت ایسا کرنے پر مجبور ہو۔ یہ تبھی ممکن ہوگا جب سیاسی جماعتیں سیاسی تدبر کا مظاہرہ کریں اور غیر جمہوری قوتوں کے مقابلے میں استحکام جمہوریت کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کریں۔ پاکستان کے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ اب یہ سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ عوام کے دئیے گئے اختیار کا صحیح استعمال کرکے عوام کو مسائل سے نجات دلانے اور ملک کو موجودہ معاشی واقتصادی صورتحال اور بین الاقوامی طور پر نگرانی کے عمل سے نکال لیتے ہیں یا پھر خدانخواستہ کوئی دوسری صورت سامنے آتی ہے۔ وطن عزیز کے عوام کو بجا طور پر توقع ہے کہ ان کے ووٹوں سے برسر اقتدار آنے والی حکومت ان کو مایوس نہیں کرے گی۔ مرکز میں جس یا جن کو اقتدار ملے اور صوبوں میں جن جن یا جس جس سیاسی جماعت یا جماعتوں کو اقتدار ملے وہ اپنے منشور کی تکمیل کیلئے سرگرم ہوں گے اور عوام کو اس امر کا عملی احساس دلانے میں کامیاب ہوں گے کہ وہ ان کے حقیقی نمائندے ہیں اور عملی طور پر اقتدار میں شریک اور حکومت میں ان کے غمخوار نمائندے بیٹھے ہیں۔ ایسا کرکے ہی ملک میں جمہوریت کو مستحکم اور جمہوری عمل کو تسلسل دیا جاسکتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ایک طویل جدوجہد کے بعد آج جمہوریت جس مقام پر کھڑی ہے اس کے استحکام اور مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی اور عوام کے مینڈیٹ کو سوچ سمجھ کر اس طرح سے استعمال کیا جائے گا جس کا عوامی مینڈیٹ متقاضی ہے ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر سیاستدان ہی عوامی مینڈیٹ کو قابل احترام نہ گردانیں گے تو غیر جمہوری قوتوں سے اس کے احترام کی توقع کیسے کی جائے۔

متعلقہ خبریں