Daily Mashriq


بارشوں سے پیدا شدہ صورتحال

بارشوں سے پیدا شدہ صورتحال

پشاور سمیت صوبے کے وسیع علاقے میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کہنا ضروری نہیں کہ ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے لوگ بے موت مرتے ہیں، غریبوں کے اثاثے پانی میں غرق ہو جاتے ہیں۔ کچے مکانوں کی دیواریں اور چھتیں بیٹھ جاتی ہیں، مویشی بہہ جاتے ہیں، بیماریاں پھوٹتی ہیں اور اگلے سال پھر یہی ہوتا ہے۔ یوں تو پورے خیبر پختونخوا میں بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک اور تکلیف دہ ہوتی ہے مگر صوبائی دارالحکومت پشاور اور ضم شدہ ضلع خیبر میں ہر سال موسم گرما کی بارشوں سے عوام خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ ضلع خیبر میں ہر سال سیلاب کے باعث اموات اور خاص طور پر برساتی نالوں میں طغیانی آنے سے سیلابی ریلے کا شکار ہو کر قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ سال گزشتہ باراتیوں کی گاڑی کے سیلابی ریلے کی زد میں آنے سے 27افراد لقمہ اجل بنے جبکہ اس سال کئی بڑے ٹرالر اور قیمتی سامان سیلاب برد ہوگئے اور جانی نقصان بھی ہوا۔ شدید بارشوں میں سڑکوں پر تھوڑی دیر کیلئے پانی کا جمع ہونا اور نکاسی آب کے نظام پر دباؤ اور معطلی کی تو گنجائش ہے لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور میں معمول کی بارشوں سے بھی شہر تالاب کا منظر پیش کرنے لگتا ہے اور نکاسی آب کا نظام اتنا ناقص ہے کہ شہر میں نکاسی آب کا سرے سے کوئی انتظام نہ ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ شہر میں جیسے جیسے سڑکوں کی ازسرنو تعمیر وتوسیع یا پل تعمیر کئے جانے لگے ہیں نکاسی آب کا نظام سرے سے معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ رہی سہی کسر بی آر ٹی کے تعمیراتی کام نے پوری کر دی ہے۔ اس وقت عملاً شہر کی مرکزی سڑک کھنڈرات اور جگہ جگہ تالابوں سے گر چکی ہے۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ شہر میں بارش کا پانی سیلابی صورت اختیار کر جانے اور سڑکوں کے گہرے تالاب میں تبدیل ہونے کے عمل کا منصوبہ بندی کے دوران خیال کیوں نہیں رکھا جاتا۔ تعمیرکے وقت بارشوں کے دوران متعلقہ محکمے کے عمال اور کنسلٹنٹ موقع پر آکر صورتحال ملاحظہ کرکے اس کے حل کی سبیل نکالنے پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔ اب ہر بننے والے پل کے نتیجے میں ایک گہرے تالاب کی بھی خود سے گنجائش نکل آئی ہے۔ بارش کے پانی کی نکاسی اس قدر سنگین مسئلہ نہیں کہ اس کا کوئی حل ہی نہ نکالا جاسکے۔ سڑکوں کی تعمیر میں نکاسی آب کے انتظامات اور بارشوں کی شدت کے مطابق اس میں وسعت اور گنجائش رکھنے کی ضرورت کا احساس اور اس کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی ایک سادہ عمل ہے جس کیلئے کسی ماہر انجینئر اور کنسلٹنٹ کی ضرورت نہیں مگر یہاں کروڑوں روپے مشاورت اور نگرانی کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔ متعلقہ محکموں میں انجینئرز پہلے سے موجود ہوتے ہیں جو اس صورتحال سے لاعلم نہیں بلکہ بخوبی علم رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود پرنالہ وہیں کا وہیں ہوتا ہے اور بند ملتا ہے۔ ہمارے ارباب اختیار کو کبھی تو یہ خیال آنا چاہئے کہ اس سالانہ تباہی کو روکنے کا بندوبست کریں جو امکان سے باہر نہیں ہے۔ نکاسی آب کے راستوں کو صاف رکھنا یوں بھی سارا سال ضروری ہے لیکن برسات میں یہ لازمی ہونا چاہئے۔ پہاڑی ندی اور نالوں کی گزرگاہوں کی نشاندہی ہونی چاہئے جہاں ضروری ہو ان کیلئے گزرگاہیں تعمیر کی جانی چاہئیں تاکہ یہ آبادیوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ مخدوش اور کچے مکانات کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور پکے مکان بنانے کیلئے قرضے، نقشے اور نگرانی کا نظام وضع کیا جانا چاہئے۔

بے قابو چوہے

صوبائی دارالحکومت پشاور میں موٹے اور سخت جاں چوہوں کا مسئلہ حکومت رفتہ کیلئے صوبائی اسمبلی کے فلور سے لیکر عوامی حلقوں تک جگ ہنسائی اور مذاق کا باعث اسلئے رہا کہ سابق حکومت نے بجائے ان پر قابو پانے کے اقدامات کے عجیب وغریب تاویلیں اور وجوہات پیش کرنا شروع کیں۔ اگر اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات کو ضروری خیال کرتے ہوئے چوہوں کی روک تھام اور تلف کیلئے اقدامات کئے جاتے تو پشاور کے شہریوں کو آج اس مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اب خود ایک نگران اور مہمان حکومت ہے لیکن سرکاری محکمے بہرحال اس وقت بھی موجود تھے اب بھی ہیں اور آنے والی حکومت میں بھی سرکاری محکموں ہی نے اس سنگیں مسئلے کا تدارک کرنا ہے۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ شہر میں چوہوں کے پلنے اور بڑے بڑے سوراخ بنا کر لوگوں کے گھروں کی بنیادوں کو ڈھے جانے کے خطرات کا باعث بننے تک ان کو تلف کرنے پر حکام نے توجہ کیوں نہیں دی اور اب شہریوں کے بار بار کے مطالبات اور احتجاج کے باوجود خاموشی اختیار کیوں کی جا رہی ہے۔ کیا سرکاری مشینری میں اتنی بھی سکت اور منصوبہ بندی باقی نہیںکہ چوہے مار مہم شروع کرسکیں۔ بہتر ہوگا کہ متعلقہ سرکاری ادارے اور محکمے اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر چوہوں کو سائنسی اور جنیاتی بنیادوں پر تلف کرنے کیلئے ماہرین کی مشاورت اور رہنمائی سے اقدامات کریں۔

متعلقہ خبریں