Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک آدمی کو بڑا تقرب حاصل تھا۔ اس پر ایک دوسرے آدمی نے حسد کرنا شروع کردیااور ایک دن بادشاہ سے جا کر شکایت کی کہ یہ شخص جو آپ کامقرب ہے ، اس کا گمان ہے کہ بادشاہ گندہ دہنی(منہ کی بدبو)کے مرض میں مبتلا ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ آپ اس کو قریب بلائیں تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا، تاکہ اس کی بدبو سونگھ سکے۔ بادشاہ نے کہا اچھا ہم دیکھیں گے۔ یہ آدمی بادشاہ کے پاس سے نکل کر اس آدمی کے پاس گیا اور اپنے گھر کھانے پر بلایا اور کھانا میں لہسن زیادہ ڈالا ، تاکہ کھانے کی وجہ سے منہ میں بدبو ہوجائے ۔ یہ آدمی اس کی سازش سے بے خبر تھا ۔ وہاں سے نکلا اور اپنی ڈیوٹی پر بادشاہ کے پاس گیا ۔ تو بادشاہ نے کہا قریب آئو، یہ شخص یہ خیال کر کے کہیں لہسن کی بدبو سے بادشاہ کو تکلیف نہ ہو۔ اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔ بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ اس کی شکایت جو اس آدمی نے کی ہے ۔ وہ صحیح ہے ۔ بادشاہ نے اپنے ایک گورنر کو اپنے ہاتھ سے لکھا کہ یہ خط لے کر آنے والے کو قتل کر دو اور خط کو سربمہر کر کے اس کودیا اور کہا کہ گورنر کے پاس یہ خط لے جائو۔ جب یہ آدمی خط لے کرنکلا تو وہ آدمی باہر نکلا جس نے سازش کی تھی اور پوچھا کہ یہ کیا خط ہے۔ تو اس نے کہا کہ بادشاہ نے غالباً میرے لیے انعام کا پروانہ لکھا ہے ۔ اس نے کہا کہ یہ تم مجھے دے دو۔ اس نے اس پر رحم کر کے یہ دے دیا۔ جب وہ اس کولے کرعامل کے پاس گیا تو بادشاہ کے خط کے مطابق گورنر نے ا س کو قتل کر دیا۔ معلوم ہواکہ حسد سے جہاں اخروی نقصان ہوتا ہے وہیں دنیوی نقصان بھی ہوتا ہے ۔ 

حضرت مسروقؒ فرماتے ہیں کہ کسی گائوں میں ایک آدمی کے پاس تین جانور گدھا ، کتا اور مرغ تھے۔ ایک دن ایک لومڑی آئی اور اس کے مرغ کو پکڑ کر کھاگئی ۔ پس اس آدمی کے اہل خانہ بہت غمگین ہوگئے ۔ لیکن وہ آدمی بہت نیک تھا۔ اس شخص نے کہا ، شاید اس میں ہمارے لئے بہتری ہو۔پھر اس کے بعدایک بھیڑیا آیا اور اس نے گدھے کو چیر پھاڑ کر قتل کر دیا۔ پس اس آدمی نے کہا کہ شاید اس میں اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ہمارے لئے بہتری ہوگی ۔ پھر اس کے بعد کتا بھی بیمار ہو کر مرگیا۔ پس اس آدمی نے کہا ، شاید اللہ تعالیٰ کی طرف اس میں ہمارے لئے کوئی بھلائی ہوگی ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ جب صبح سویرے وہ آدمی اور اس کے اہل خانہ بیدار ہوئے تو انہوںنے دیکھا کہ ان کے آس پاس کے تمام پڑوسیوں کو گرفتار کرلیاگیا ہے ۔

ان کی گرفتاری کی وجہ یہ تھی ان کے پالتو جانوروں کی آوازوں سے بادشاہ کو تکلیف ہوتی تھی۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ ان تینوں جانوروں کی ہلاکت میں اللہ تعالیٰ کی یہ مصلحت کار فرما تھی کہ ہم گرفتاری سے بچ گئے ۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم کے اسرار کو سمجھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہر فعل پر راضی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اس لئے ہر حال میں صبروشکر کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں