Daily Mashriq


انتخابی سیاست کا اختتام

انتخابی سیاست کا اختتام

ملک بھر کی طرح میرے شہر میں بھی انتخابی گہما گہمی ہے۔ پوسٹروں، بینروں، پینا فلیکسوں کی بہار ہے۔ انتخابی مہم کے آخری مرحلہ پولنگ والے دن کی صبح کے 9بجکر چالیس منٹ ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران الزاماتی سیاست فتوؤں اور بدزبانیوں کے ریکارڈ قائم ہوئے۔ منگل کو بیرون ملک مقیم ایک دوست نے کہا۔ شاہ جی! حیران ہوں کہ آپ بھی اسے الیکشن سمجھتے ہیں حالانکہ یہ سلیکشن ہے۔ یہ تاثر بلاوجہ نہیں 1956کی دستورساز اسمبلی سے 2018ء تک کے انتخابی سفر میں فقط ایک بار سو نہیں ستر فیصد شفاف الیکشن ہوئے۔ اتفاق سے یہ 1970ء کے انتخابات تھے، متحدہ پاکستان کے ان آخری انتخابات میں جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت جماعت اسلامی اور مسلم لیگ قیوم گروپ پر مہربان تھی۔ دونوں جماعتوں سے ریاست نے بھرپور تعاون کیا۔ ان انتخابات کے دوران مغربی اور مشرقی پاکستان کے 27علماء نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینا حرام قرار دیتے ہوئے فتوے میں جو زبان استعمال کی وہ انتخابی مہم میں اسلام پسندوں کا بیانیہ بن گئی۔ ہمارے جنم شہر ملتان میں تو پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی صورت میں نکاح ٹوٹ جانے کا فتویٰ صادر ہوا لیکن لوگوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیئے، تجدید نکاح کی تقریبات بہرطور نہ ہوئیں۔ تاج وتخت اُلٹ گئے، بدقسمتی سے یہ انتخابات پاکستان کو متحد نہ رکھ پائے۔ 16دسمبر 1971ء کو پاکستان ٹوٹ گیا، دائیں بازو کے سیاست کار، مولوی، دانشور، ادیب اور صحافی اس صورت میں راگ الاپنے لگے کہ پاکستان بھٹو نے توڑا ہے۔ بھٹو کا پاکستان توڑنے میں کتنا کردار تھا؟ اس سوال پر بحث اٹھانے والوں نے مغربی پاکستان کی سول ملٹری اشرافیہ سرمایہ داروں اور رجعت پسندوں کے منفی کردار اور لوٹ میں ساجھے دارری کی پردہ پوشی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔معاف کیجئے گا بات بہت پیچھے چلی گئی لیکن ایک بات اور عرض کرنا ضروری ہے کہ مسائل کا آغاز قرارداد مقاصد کے بائیس نکات سے ہوا، مشرقی پاکستان کے جمہوریت پسند ریاست کے مذہبی تصور سے متفق نہیں تھے۔ مغربی پاکستان میں اکا دکا لوگ بنگالیوں کے ہمنوا تھے لیکن بٹوارے سے مسلط ہوئی قیادت کی بقاء ریاست کے مذہبی تصور میں تھی۔ یہ بائیس نکات مقامی قومیتوں، تہذیبوں، تاریخ وتمدن اور شعور سے کھلے انکار کا اعلان تھے۔ المیہ یہ ہے کہ تب سے آج تک ہم انکار پر ہی کھڑے ہیں۔ ایک قومی، جمہوری فلاحی ریاست کا جو خواب دکھایا گیا تھا وہ ریاست کے مذہبی تصور نے چھین لیا۔ ایک ستم یہ بھی ملا کہ بٹوارے سے جنم لینے والے بھارت کو دشمن نمبر ون کے طور پر پیش کیا گیا، 14اگست 1947ء تک جو کردار موجودہ پاکستان کے خطے میں ولن سمجھے جاتے تھے 15اگست کو ہیرو قرار پاگئے۔ مقامی ہیرو چور ڈاکو باغی اور لٹیرے قرار پائے۔ ستر برسوں سے ہم تاریخ کی غلط سمت کھڑے بلکہ ہانکے جا رہے ہیں۔ اس دوران چند سر پھروں نے قومی شناختوں، مقامی تاریخ کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش ضرور کی مگر مذہبی بیانیئے کی چھتر چھایہ میں جینے والوں نے ان پر زمین تنگ کر دی۔ 15اگست 1947ء سے 25جولائی 2018ء کے درمیان کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ غربت،کم علمی، بیروزگاری اور دوسرے مسائل آبادی میں اضافے کیساتھ بڑھتے گئے۔ اس فہم کو پر لگ گئے کہ اللہ، امریکہ اور آرمی کی خوشنودی لازم ہے۔ پاکستان کے دولخت ہو جانے کے بعد سے آج تک ہونے والے دسویں انتخابات میں انتخابی عمل پر عوام کا سوفیصد اعتماد بحال نہیں ہو پایا۔ 25جولائی کے انتخابات بارے مفنی آراء مثبت سے زیادہ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست کس کی پشت پر ہے۔ میڈیا کی جابنداری کیساتھ احکامات کے ذریعے پارٹیاں تبدیل کروانے کا عمل بھی ہے۔ان تین وجوہات کے باوجود مجھ سے طالب علم کی امید پرستی قائم ہے۔ وجہ وہی ہے جو تواتر کیساتھ ان کالموں میں عرض کرتا آیا ہوں کہ اشرافیہ کی بالادستی والے نظام سے عوامی جمہوریت کیلئے لڑا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے 25جولائی کی انتخابی مہم کے دوران نون لیگ پر بھارت نوازی کے الزامات لگائے گئے۔ افسوس کہ کچھ عرصہ قبل پیپلز پارٹی بھی نواز شریف کو مودی کا یار کہہ رہی تھی۔ ایم ایم اے قائد مولانا فضل الرحمن نے تحریک انصاف اور عمران خان بارے جو زبان استعمال کی وہ بھی افسوسناک ہے۔ بہرطور لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ان سطور کے لکھے جانے کے لگ بھگ 8گھنٹے بعد پولنگ کا عمل مکمل ہوگا، نتائج مرتب ہوں گے، جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں کہ مستقبل کا منظرنامہ واضع ہو چکا ہوگا۔ جیتنے والے جیت اور ہارنے والے ہار چکے ہوں گے۔ ممکن ہے پی ٹی آئی کا دعویٰ برتری درست ہو لیکن لگتا یہ ہے کہ ایک ایسی پارلیمان (قومی اسمبلی) تشکیل پانے جارہی ہے جو سودے بازوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہے گی۔ کیا ان انتخابات کے نتیجے میں مستحکم نظام کی عمارت اٹھانے میں مد دملے گی؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد سیاسی استحکام مشکل سے ہی قائم ہو پائے گا۔ خدا کرے کہ یہ خدشات غلط ثابت ہوں مگر جو دکھائی دے رہا ہے اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔ اندریں حالات پر عرض کرنا ضروری ہے کہ اجتماعی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدم استحکام سے بچنے کی ضرورت ہے۔ مسائل گمبھیر ہیں، ستم بالائے ستم انتخابی مہم میں ہوئی بدزبانیوں کی وجہ سے پیدا ہونیوالی نفرتیں ہیں۔ مؤدبانہ درخواست یہ ہے کہ اختلافات اور نفرتوں کو 25 اور 26جولائی کی درمیانی رات میں دفن کر کے 26 جولائی کی صبح میں قدم رکھئے کہ یہی ہماری ضرورت ہے۔ کیا ہم اُمید کریں کہ ہمارے سیاسی رہنما اور اہل دانش کیساتھ ساتھ سول ملٹری اشرافیہ بھی بالغ نظری کا مظاہرہ کر پائے گی؟۔ کالم لکھ چکا تھا تو لاڑکانہ اور لیاری میں ہونیوالے جھگڑوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، دونوں شہروں میں جو ہوا وہ اچھا ہرگز نہیں ہے۔ انتخابی عمل کو نفرتوں کے الائو میں جلانے کی روش سب کچھ جلا کر خاکستر کرسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں