Daily Mashriq


ہر خرابی کی وجہ پاک فوج

ہر خرابی کی وجہ پاک فوج

پاکستان میںہر خرابی کی وجہ فوج ہے یہ ہر اس شخص کا خیال ہے جو سستی شہرت چاہتا ہے اور فوج پر تنقید کی وجہ سے میڈیا اور فوج کے مخالفین ایسا کرنیوالے کو ’’عظیم‘‘ دانشور کا درجہ دے دیتے ہیں اور بین الاقوامی خاص کر دشمن میڈیا تو انہیں شہرت کی ان بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی درجے کا رہنما بن جاتا ہے جیسا کہ آج کل ایک فہم وفراست سے عاری نوجوان منظور پشتین کو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے بلکہ اسے پختون نوجوانوں کا آئیڈیل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر بیماری کی دوا بھی پاک فوج ہے، سیلاب ہو، طوفان ہو، زلزلہ ہو کوئی حادثہ ہو یا قدرتی آفت کسی جگہ فوج کے بغیر کام مکمل نہیں ہوتا بلکہ چلتا ہی نہیںہے لیکن پھر بھی یہی فوج ہر خرابی کی ذمہ دار ہے۔ ایسا کہنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔ حال ہی میں ہمارے ایک عزت مآب جج نے اپنے ہی ملک کی فوج کو بُری طرح تنقید بلکہ شرمناک تنقید کا نشانہ بنایا اور معاشرے کی سماجی بنیاد تک میں خرابی کا ذمہ دار ان کو قرار دیا، کیسے شاید یہ انہیں بھی معلوم نہیں۔ عدالت عالیہ کے اس عزت مآب منصف کا پس منظر بھی ٹھیک ٹھاک سیاسی ہے اور الیکشن میں بُری طرح ناکامی کا مُنہ بھی دیکھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں گم ہونیوالے اگر ہر شخص نہیں تو اکثریت کی ذمہ داری آئی ایس آئی پر ہے بلکہ الزامات کی نوعیت مزید سنگین یوں ہوئی کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ آئی ایس آئی انہی واقعات سے غیر قانونی کمائی کرتی ہے اور پھر اسے اپنے اخراجات کیلئے استعمال کرتی ہے، وہ پولیس کیساتھ بھی ایسے واقعات میں ملوث ہے اور ان سے باقاعدہ اپنا حصہ وصول کرتی ہے لہٰذا پولیس بھی معاون ومددگار ہے۔ عرض یہ ہے کہ یہ ان گمشدہ یا لاپتہ افراد کو افغانستان، طالبان اور داعش کے حلقوں میں تلاش کریں تو ان کی بازیابی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔ اگر یہ تمام لوگ آئی ایس آئی کے پاس ہیں تو خودکش دھماکوں میں ملنے والے پاکستانی سر کن کے ہوتے ہیں۔ ابھی مستونگ کے سانحے میں خود کو اُڑانے والا حفیظ نواز کون تھا جس کی دو بہنیں اور بھائی کچھ عرصہ پہلے افغانستان منتقل کئے گئے اور اب بھی وہاں ہیں یعنی اُن کو محفوظ کر کے اس تخریب کار کو پاکستان بھیج کر ایک سو اُنچاس محب وطن پاکستانیوں کی جان لے لی گئی۔ بھارت کے جھنڈے کو پیروں میں روندنے والا اور پاکستانی پرچم کو سینے سے لگانے والا پاکستان کا بلوچ سپاہی سراج رئیسانی جو ان کا خاص نشانہ تھا بھی شہید ہوگیا لیکن ان جیسے سفاکوں کیلئے بھی اگر لاپتہ افراد کے الفاظ استعمال کرکے انہیں بھی آئی ایس آئی کے کھاتے میں ڈال دیا جائے تو پھر حقائق سے فرار اور آسان فیصلے کے علاوہ اسے کیا کہا جا سکتا ہے۔ کیا یہ ان لوگوں کو تسلی دینے اور سہولت فراہم کرنے کے برابر نہیں جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ فوج اور آئی ایس آئی خود کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہیں تو کیا یہ فاضل جج اپنے بارے میں ایسا نہیں سمجھتے۔ عدلیہ کو فیصلوں کی آزادی ضرور حاصل ہونی چاہئے اور اس سے کسی کو اختلاف تب تک نہیں جب تک انصاف کا ترازو درست ہو لیکن ایسا بھی نہیں کہ ملک کے مختلف اداروں کے بارے میں اپنی ذاتی جانبدارانہ رائے کے ذریعے نفرت اور اختلاف پیدا کیا جائے۔ فوج کسی بھی ملک کی محافظ ہوتی ہے اگر اسے ہی متنازعہ بنانے کی شعوری کوشش کر کے عوام اور اس میں خلیج پیدا کی جائے اور اسے قابل نفرت بنایا جائے تو یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ اس جذبے سے دشمن سے ٹکرائے کہ وہ آئندہ ملک اور عوام کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے لیکن بات وہی ہے کہ خود کو دانشور بھی تو ثابت کرنا ہے اور ایسے کچھ دانشور آپ کو مختلف روپوں میں مختلف محاذوں پر متعین نظر آئیں گے۔ ا ن کی ایک قابل ذکر تعداد آپ اپنے میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں جن میں سے کچھ زیادہ اور کچھ کم سرگرم عمل ہیں۔ یہاں ایسے کئی کردار موجود ہیں اور اسی روئیے سے عام سے خاص بن جاتے ہیں حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس وقت دہشت گردی کیخلاف لڑتی ہوئی فوج کے دست وبازو بنتے بلکہ سب مل کر فوج بنتے اور اس ناسور کو ملک سے اکھاڑ پھینکتے لیکن ہمارا المیہ وہی ہے کہ ہم منصوبے بہت اچھے بناتے ہیں اور پھر اُسے تباہ بھی بہت اچھا کرتے ہیں۔ ہم نے نیشنل ایکشن پلان بنایا کہ ہم مل کر دہشتگردی ختم کریں گے اور ایسا کرنیوالی اپنی فوج کی مدد کریں گے لیکن ہم پھر حفیظ نوازوں کو اپنے گھروں میں پناہ دے دیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کو اطلاع دینے کی بجائے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہم کبھی ان کو قانونی سہولت فراہم کرتے ہیں اور کبھی ابلاغی۔ اگر انہیں براہ راست مدد بہم نہیں پہنچا پاتے تو ان کیخلاف لڑنے والوں کو ذلیل کر کے ان کے ہاتھ مضبوط کر دیتے ہیں۔ میرے خیال میں اب عوام کو آگے بڑھ کر ایک اور جنگ کا آغاز کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ ایسے کرداروں کو نہ صرف مسترد کریں بلکہ اُن کیخلاف صف آرا ہو کر ان کو پسپا ہونے پر مجبور کریں ورنہ ہمیں کامیابی کی اُمید نہیں رکھنی چاہئے اور خدا نخواستہ مزید جانی اور مالی نقصانات اٹھانے اور تنازعے بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہئے جبکہ اب قوم میں ہمت نہیں کہ وہ مزید حادثے سہہ سکے۔ خدارا قوم پر رحم کیجئے اور یہ سوچ لیجئے کہ آج آپ جو کر رہے ہیں کل آپ کی اولاد بھی اسے کاٹ سکتی ہے چاہے وہ جس قلعے میں بھی بند ہو جائے اور اگر وہ نرغے میں آگئی تو آپ کے پاس وقت کی گردش موڑنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں اور ان کے خیالات کے شر سے ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، آمین۔

متعلقہ خبریں