Daily Mashriq


کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

گزشتہ ہفتہ وار کالم میں لکھنے لکھانے بارے جو معروضات پیش کی تھیں اس پر مثبت رائے اپنی جگہ دیرینہ قاری ملنگ جان کا برقی پیغام قابل توجہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا میڈیا کے حوالے سے سوچ بچار اور تجربہ کافی وسیع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخباری کالم اور تحاریر اب متروک ہونے کی طرف گامزن ہیں۔ بلاشبہ حرف مطبوعہ کی اہمیت کبھی ختم تو نہ ہوگی لیکن حروف ہائے مطبوعہ اور لکھاری جس کیفیت سے گزر رہے ہیں اسے خود احتیاطی کا نام دیا جائے، مصلحت قرار دیا جائے، دباؤ کا نتیجہ گردانا جائے، ضابطہ اخلاق سے تعبیر کیا جائے، اخبارات میں خبروں سے لیکر کالموں تک ایک خود ساختہ احتیاط سچ اور مکمل سچ کو سامنے لانے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ جہاں تک وقت اور تیز رفتاری کا معاملہ ہے اس کی سمجھ آجاتی ہے مگر سچ کو سات پردوں میں احتیاط سے لپیٹ کر جس طرح پیش کیا جانے لگا ہے وہ اس تیز رفتار دور کے قاری کو منطور نہیں۔ اب اطلاعات انگلیوں کی پوروں پر ہیں اور سیکنڈوں کا وقت ہے جس کا مقابلہ پرنٹ میڈیا نہیں کر سکتا۔ الیکڑانک میڈیا بھی بھول بھلیوں میں گھری ہوئی ہے اس میں بھی تشنگی رہ جاتی ہے مگر سوشل میڈیا آزاد بے باک اور ہر جگہ سیکنڈوں میں رسائی اور جوابی رسائی رکھتی ہے۔ بات مختصر جامع اور خاص طور پر اطلاع تیز ترین ہوتی ہے۔ پھر ہمارے نوجوانوں کا ذوق بھی تبدیل ہو رہا ہے کس کے پاس وقت ہے کہ وہ اگلے دن کا یا نیوز بلٹن کا انتظار کرے۔ قابل قدر قاری نے جو کچھ لکھا ہے پتھر پہ لکیر ہے اس میں اضافے کی گنجائش ہے اور نہ کچھ کہنے کی۔

اب آگے چلتے ہیں حیات آباد فیز6 سے ایک خاتون کے برقی پیغام کی طرف ان کا کہنا ہے کہ وہ دس سال سے اس علاقے کی مستقل رہائشی ہیں۔ ان کا مشاہدہ ہے کہ سالانہ دو مرتبہ تواتر کیساتھ پی ڈی اے کا شعبہ باغیانی سڑکوں کے کنارے شجرکاری کرتا ہے اسے شجرکاری کا نام دینا مناسب نہ ہوگا بلکہ ضیاع پودہ گاں قرار دیا جائے تو مناسب ہوگا۔ ہر سال دو مواقع پر پہلے سے موجود ان گڑھوں سے تھوڑی سی مٹی نکال لی جاتی ہے پھر ان میں پودے لگائے نہیں بلکہ پھینک دیئے جاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ دبا دئیے جاتے ہیں، اس کے بعد عملہ نظر نہیں آتا بمشکل ایک آدھ پودا ہی بچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈبل روڈ سے ایف سی کمپلیکس تک کا علاقہ صوبے میں سونامی اور تین ارب پودے لگانے کی مہم کے دوران بھی مستقل ویرانی کا منظر پیش کرتا رہا۔ ہر سال دو مرتبہ ہونیوالی شجر کاری میں سوائے پودوں کے ضیاع اور نمائشی اقدام کے اور کوئی سنجیدہ کام نظر نہیں آتا۔ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو خدارا ان چھوٹے چھوٹے پودوں کو تو ضائع نہ کریں۔ پی ڈی اے کے حکام اتنی مہربانی کریں کہ شجرکاری کی زحمت ہی نہ کریں ۔

بہت سے والدین جن کے بچے نجی سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اس امر پر زوردے رہے ہیں کہ چونکہ عدالتی احکامات کی تعمیل میں نصف فیس کی ادائیگی کر چکے ہیں اسلئے ان سے اس ضمن میںبقایاجات کی وصولی کا نجی اداروں کا نوٹس بلاجواز ہے۔ عدالت ہی کا حکمنامہ تھا جو اس وقت تک مروج تھا جب تک اعلیٰ عدالت سے فیصلہ نہ آیا چونکہ یہ عدالتی معاملہ ہے اور قانونی معاملات سے مجھے زیادہ واقفیت نہیں اسلئے میں والدین کو یہی مشورہ دوں گی کہ وہ اس ضمن میں قانونی ماہرین اور عدالت ہی سے رجوع کریں۔ اگر اس معاملے میں نجی سکول مالکان کا مؤقف درست بھی تسلیم ہو تو وہ بہت سی ناانصافیوں اور بہانے بہانے سے رقم بٹورنے کے جو حربے اختیار کرتے ہیں اس بارے بھی تو قوانین عملدرآمد کے متقاضی ہیں۔ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ سارے معاملات سامنے لائے جائیں۔ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں والدین کی رہنمائی کریں۔ حکام سکولوں کے دورے کر کے وہاں سہولتوں اور خاص طور پر اساتذہ کے تجربے اور پڑھانے کے معیار کا بھی اندازہ کر لیں۔ طلبہ کی مشکلات معلوم کی جائیں۔ اگر نجی سکول مالکان فیسیں لیکر طلبہ کو ٹیوشن پڑھنے کے اضافی بوجھ سے نجات دلا سکتے ہیں تو چھٹیوں کے دو ماہ کی آدھی فیس گھاٹے کا سودا نہیں اور اگر وہ طالب علموں کو برائے تعلیم دینے کے قصووار ٹھہرائے جائیں تو عدالت اور اتھارٹی اس کا بھی نوٹس لے۔ فی الحال چھٹیاں ہیں، والدین نوٹس اور انتباہ کے باوجود انتظار کریں کہ صورت کیا نکلتی ہے۔ بہرحال عدالت کا حکم سر آنکھوں پر۔ رہے مجبور والدین ان کیلئے کسی حکومت میں قانون سازی کی بھی توقع نہیں کہ اس مافیا کا اسمبلیوں پر بھی تسلط ہے اور حکومتوں پر بھی، تبھی تو سرکاری سکولوں کی حالت بہتر نہیں بنائی جاتی اور زبانی جمع خرچ ہوتا رہتا ہے کہ نجی سکولوں کا کاروبار اور تعلیم کی تجارت پھلے پھولے۔

ایک غصیلے قاری کا برقی پیغام محکمہ معدنیات کی ملازمتیں نوشہرہ اور صوابی کے لوگوں میں بانٹنے کے بارے میں ملاہے۔ معلوم نہیں کس کی حکومت بنتی ہے اور احتساب کا کیا بنتا ہے۔ آپ سے میری یہی گزارش ہوگی کہ ناانصافی اور میرٹ کی خلاف ورزی کی شکایت احتساب بیورو سے تحریری طور پر کر کے تو دیکھیں ممکن ہے تکا لگ جائے، وگرنہ یہاں احتساب مذاق سے کم نہیں۔ لوگ قومی خزانہ ڈکار گئے، سارا ملک کھا گئے، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، قرضے لیکر قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی ہو رہی ہے مگر کوئی نہیں جو اس ملک کی آئندہ نسل کا سوچے۔ سب زبانی جمع خرچ ہے اقتدار ملنے پر کم ہی کوئی مختلف ثابت ہوتا ہے، اب تک تو کوئی ہوا ہی نہیں۔ لقمہ بناتے وقت چھوٹی بڑی انگلیوں کا ایک جتنا ہو کر لقمہ اٹھانے کیلئے سبھی آمادہ تیار اور بے صبر ہیں۔ اس ملک کا بس خدا ہی بھلا کرے ہم نے تو کوئی کسر چھوڑی نہیں۔

متعلقہ خبریں