Daily Mashriq


کھائی ہے مار۔ وئی وئی

کھائی ہے مار۔ وئی وئی

الیکشن2018ء کی تیاریوں کے حوالہ سے ڈپٹی کمشنر پشاور عمران حامد شیخ کا کفن پھاڑ بیان سامنے آنے کے بعد زندہ تو زندہ زیر کفن مردے بھی تھرانے لگے، کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیان میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ الیکشن کے پرامن انعقاد کیلئے جو جو تیاریاں کی گئی ہیں ان میں ایک ہزار کفن بھی تیار پڑے ہیں، ان کے اس بیان کے بعد الیکشن2018 میں حصہ لینے والے ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں ایک ہلچل مچ گئی اور ہر کس وناکس خوف وہراس کا شکار ہونے لگا، افواہ طراز طبقے کو موقع ہاتھ لگ گیا اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق اس ہوائی کو اونچا، اور اونچا اڑانے کی کوشش کی جانے لگی، ڈپٹی کمشنر پشاور جیسے ذمہ دار آفیسر کی زبان سے جاری ہونیوالے اس بیانیہ کا نوٹس صوبہ خیبر پختونخوا کی نگران حکومت نے بھی لیا اور ڈپٹی کمشنر پشاو کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر ان کی بازپرس کی جانے لگی اور انہیں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا نوٹس دیدیا گیا، جس کے جواب میں یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی کے مصداق وہ اتنا ہی کہہ سکے کہ میرے بیان کا وہ مطلب نہیں بنتا جو لیا گیا ہے۔ بڑے سادہ دل سچے اور ستھرے واقع ہوئے حضرت ڈپٹی کمشنر پشاور۔ مرزا محمود سرحدی نے ایسے ہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے

سچ کہہ کر کون دار پر لٹکے

خان بہادر ڈپٹی کمشنر پشاور کے اس بیان کو آپ لاکھ لعن طعن کا شکار کریں میں ان کے اس برملا کہے جانیوالے سچے کھرے اور منہ بولتے سچ کی داد دئیے بناء نہیں رہ سکتا، ان کو کم ازکم اس حقیقت کا ادراک ضرور تھا کہ الیکشن2018ء کے عنوان سے جو میدان سج رہا ہے یہ کسی فری سٹائل کشتیوں یا میدان جنگ سے کم درجے کی اہمیت نہیں رکھتا، انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ اس میں جانے کتنوں کے سر پھٹول ہونگے، کتنوں کی پگڑیاں اچھلیں گی، کتنوں کے گریبان تار تار کئے جائیں گے، کتنے بھاڑ میں جھونکے جائیں گے اور اللہ نہ کرے کتنوں کو جان کی بازی لگانی پڑے گی، جبھی تو انہوں نے ایک ہزار کفن بنا کر تیار رکھنے کے راز سے پردہ اٹھایا اور سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کو ببانگ دہل یہ بات بتا دی کہ آپ بے فکر رہیں، اس دارالفناء سے دارالبقاء کی جانب کوچ کر جانے کا مناسب اقدام کر لیا ہے ہم نے۔

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے

زمانہ گزرا ہم نے الیکشن کے حوالہ سے ایک غنائی تمثیلچہ لکھا تھا جو ہمارے دھول سے اٹے کاغذوں کے پلندوں میں بے گور وکفن دفن پڑا تھا، جناب ڈپٹی کمشنر کے اس بیان کی دھنک جب اس تک پہنچی تو وہ کاغذوں کے پلندوں کی اوٹ سے سر نکال کر ٹھیک کہتے ہیں، ٹھیک کہتے ہیں جناب ڈپٹی کمشنر صاحب کا شور مچانے لگا، ہم نے اسے کاغذوں کے پلندوں کے بیچ سے نکال کر زیرنظر کالم کے قارئین کی عدالت میں پیش کر دیا تاکہ وہ اپنا مؤقف بیان کرکے ڈپٹی کمشنر کو سچا ثابت کر سکے۔ ہمارے اس غنائی تمثیلچے میں ایک باپ مشہور فلمی گیت، ’’گا میرے منوا، گاتا جارے، جانا ہے ہم کا دور‘‘ کی پیروڈی یا تحریف مضحک کرتے ہوئے کہہ رہا ہے،جا میرے بٹوا، جلدی جا رے، دینا ہے تونے ووٹ۔ دینا ہے تونے ووٹ۔ نکل نکل تو جلدی نکل، یہ لے پہن لے اپناکوٹ۔ یہ لے پہن لے اپنا کوٹ۔ پرچی کاغذ کی ہے یہ ظاہر، قیمت میں ہے یہ بھاری، اس کی طاقت کا نہ پوچھو وار ہے اس کا کاری، دے دینا جس کو جی چاہے، دل میں نہ لانا کھوٹ، دل میں نہ لانا کھوٹ، لمبی چوڑی پیروڈی گانے کے بعد باپ اپنے بیٹے کو ووٹ پول کرنے کیلئے رخصت کرتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد لہولہان بیٹا گھر آکر دھڑام سے باپ کے سامنے گر جاتا ہے، باپ بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر چیخ چیخ کر پکار اٹھتا، ’’پھٹے ہوئے یہ کپڑے، اُڑا اُڑا سا رنگ، ہوا ہے کیا، ۔۔لہو؟ ارے پڑا یہ رنگ میں کیسے بھنگ، تجھے کہا تھا ووٹ کا، تو کرکے آگیا ہے جنگ، بتا یہ کیا ہے ماجرا؟ مجھے تو کر گیا ہے دنگ۔ باپ کی بات سن کر بیٹا عیسی خیلوی کی آواز میں گائے ہوئے ایک گیت کی طرز میں رورو کر کہنے لگتا ہے۔ ’’کھائی ہے مار۔ وئی وئی، کھائی ہے مار۔ وئی وئی۔، پہنچا جو میں وہاں، دیکھا عجیب منظر، کھوے سے کھوا چھلتا ہوتا تھا زیر وزبر، رن تھا وہاں پہ جاری، چلتی تھی وار۔ وئی وئی، کھائی ہے مار وئی وئی، کھائی ہے مار۔ وئی وئی، ملنے والے سے پوچھا، کیسے میں ووٹ دونگا، اپنے میں دل کی رائے، جاکے کس اوٹ دونگا؟، مہنگا پڑا مجھ کو، کرنا اظہار وئی وئی، کھائی ہے مار وئی وئی۔ کھائی ہے مار وئی وئی۔ زخمی بیٹا یہ پیروڈی گانے کے بعد اپنے ابو سے مخاطب ہوکر کہنے لگتاہے، جا میرے ابا، اب تو جارے، دینا ہے تو نے ووٹ، جس کے جواب میں ابا کہتا ہے، نہ میرے بٹوا، میں نہ جاؤں، آئے گی مجھ کو چوٹ۔

راقم السطور کا یہ غنائی تمثیلچہ کاغذوں کے پلندوں کی اوٹ سے سر نکال کر ڈپٹی کمشنر پشاور کو سچا ثابت کرنے لگا، کون سچا ہے کون جھوٹا اس کا فیصلہ ہم اپنے پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں۔

متعلقہ خبریں