Daily Mashriq

ہر قیمت پر اس عمل کو مکمل ہونا چاہئے

ہر قیمت پر اس عمل کو مکمل ہونا چاہئے

شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کے دوران افغانی سرزمین سے دہشتگردوں کی جانب سے ہونے والے حملے میں ایک سپاہی شہید جبکہ جونیئرکمیشنڈ افسر کے زخمی ہونے کا واقعہ ان واقعات کا تسلسل ہے جو باڑ لگانے کے عمل کے دوران سرحد پار سے فائرنگ کے دوران پیش آتے رہے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل جاری تھا کہ اس کام میں مصروف اہلکاروں پر سرحد پار سے حملہ کیا گیا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے میں افغانستان کا تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پر 2611 کلو میٹر لمبی باڑ لگائی جا رہی ہے جس میں355 کلومیٹر طویل باڑ لگانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے جبکہ چند روز میں مزید4 سو کلو میٹر لمبی باڑ لگانے کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا بنیادی مقصد سرحد پار سے عسکریت پسندوں کو ملک میں داخل ہونے اور دہشتگرد کارروائیاں کرنے سے روکنا ہے۔ رواں سال اپریل میں بھی سابق فاٹا کی کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں پر افغانستان سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 2سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ5زخمی ہوئے تھے۔ رواں ماہ 15جون کو سرحد پار سے پاکستانی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں 3اہلکار شہید ہو گئے تھے جبکہ پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں 5دہشتگرد مارے گئے تھے۔ اس سے قبل بھی افغان سرزمین سے متعدد بار پاکستان پر حملے کئے جاتے رہے ہیں جن میں کئی فوجی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، تاہم ہر بار پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی میں دشمن کو خاموش ہونے پر مجبور کیا۔ اس مرتبہ بھی اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے دہشتگردوں کو بھرپور جواب دیا۔ گوکہ اس ضمن میں سرحد پار سے دہشتگردوں کے حملے ہی کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں لیکن سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کی افغانستان سے شدید مخالفت اور اس کو روکنے کی مساعی میں افغانستان کی فوج کی مداخلت اور سرحدی چوکیوں اور باڑ لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا بھی عندیہ ملتا ہے۔ اس امر کو تقویت اس بات سے بھی پہنچتی ہے کہ طورخم سرحد گیٹ کی تعمیر وتنصیب کے موقع پر افغان فورسز نے باقاعدہ حملہ کر دیا تھا جس میں میجر چنگیزی شہید ہوگئے تھے اس موقع پر دونوں ملکوں کے فوجوں کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں اور بالآخر پاک فوج نے اس مقام پر پاکستانی حدود کے اندر گیٹ کی تعمیر وتنصیب اور پاک افغان سرحد پر آمد ورفت کو باقاعدہ بنانے کو مکمل بنایا تھا۔ محولہ تناظر میں دیکھا جائے تو افغان فوج خواہ مخواہ وہ جس روپ میں ہو سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں مداخلت کرتی ہے یا پھر وہ دہشتگردوں کو ایسا کرنے کیلئے موقع دیتی ہے بہرحال اس سے بحث نہیں کہ حملہ آور کس روپ میں ہوتے ہیں افسوسناک امر یہ ہے کہ سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے افغان حکومت اور فوج نہ تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے اور نہ ہی پاکستان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا موقع دیتی ہے۔ پاک افغان سرحد سے دہشتگردوں کی آمد کی روک تھام ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اس طویل اور پیچ وخم والی پہاڑی اور مشکلات سے بھرپور سرحد کی حفاظت کرنا پاک فوج ہی کا وتیرہ ہے اس کام کو قدرے آسان بنانے کیلئے پاک فوج اور پاکستان کی حکومت جس میں پنجاب کی گزشتہ حکومت نے بھی معاونت کی، بھرپور وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے اور اس ناممکن کام کو ممکن بنانے کی دن رات مساعی ہو رہی ہے۔ اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں، طورخم سرحد پر آمدورفت کو دستاویزی اور باقاعدہ بنانے سے بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور سابق فاٹا اور موجودہ خیبر پختونخوا میں قیام امن کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرحدوں کو محفوظ بنائے بغیر اگر فاٹا کا انضمام عمل میں لانا ممکن ہی نہ تھا اور نہ ہی اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہونا تھا۔ یہ نہایت خوش آئند امر ہے کہ اب خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے افغانستان کی سرحد تک وسعت پاگئے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ اور اعلانیہ سرحد کا وجود عمل میں آگیا ہے۔ سرحد کی باقاعدہ نشاندہی ہی نہیں ہوئی بلکہ اسے محفوظ بنانے کی ذمہ داری بھی نبھائی جا رہی ہے اگر اس ضمن میں افغانستان کی حکومت مدد کرتی اور کم ازکم روڑے اٹکانے اور بلاجواز مخالفت کا رویہ اختیار نہ کرتی تو اب تک یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہوتا بہرحال جو بھی صورتحال پیش آئے ہر قیمت پر سرحدوں کو محفوظ بنانے کے عمل کو مکمل ہونا چاہئے اس ضمن میں جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت پڑتی ہے اس کو پورا کرنے کا پاک فوج کا عمل کسی سے پوشیدہ نہیں گزشتہ روز کا واقعہ بھی اسی کا تسلسل ہے ایک بار جب اس عمل کی تکمیل ہوگی تو یہ مخمصہ اور جھگڑا ہی ختم ہوگا بلکہ وہ دعوے اور اس ذہنیت کا بھی تدارک ممکن ہوگا جو مسائل ومشکلات کا باعث بنتا آرہا ہے۔

اداریہ