Daily Mashriq


گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بلاجواز ہے

گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بلاجواز ہے

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ 200 فیصد اضافے کی منظوری صارفین کیلئے پریشانی کا باعث ہے مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اوگرا کی جانب سے کئے گئے فیصلے کے تحت گیس کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ گھریلو صارفین کیلئے کیا گیاہے، ماہانہ 100یونٹ تک گیس استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین کیلئے قیمت 110سے بڑھا کر 314روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی جبکہ ماہانہ 200یونٹ تک گیس استعمال کرنیوالے صارفین کیلئے قیمت 220سے بڑھا کر 629روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی اور ماہانہ 300یونٹ سے زائد گیس استعمال کرنیوالے صارفین کیلئے قیمت 600 سے بڑھا کر 780روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی۔ کمرشل صارفین کیلئے گیس کی قیمتیں 700سے بڑھا کر 910روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہیں۔ عموماً اوگرا کی تیار کردہ سفارشات اور قیمتوں میں اضافے پر وفاقی حکومت کی طرف سے انکار کی روایت نہیں، زیادہ سے زیادہ اس میں معمولی رد وبدل کر کے وفاقی حکومت حاتم طائی کی قبر پر لات مار دیتی ہے۔ سیاسی ادوار میں پھر بھی عوام کے احتجاج کا خوف ہوتا ہے نگران حکومت کو اس کا بھی کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتیں انتخابات جیتنے کی دوڑ میں لگی ہیں ایسے میں اوگرا کیلئے اس سے بہتر موقع نہ تھا کہ وہ نرخوں میں ایک دو دس بیس فیصد نہیں سوفیصد بھی نہیں پورے دوسو فیصد کا اضافہ کر کے صارفین کو نچوڑ لے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک دوسو فیصد اضافے کی ضرورت کیوں پڑی۔ گیس تو ہمارے ملک کی پیداوار ہے اور اس قدرتی پیداوار کی صرف ترسیل اور انتظام ہی گیس کمپنیاں کرتی ہیں۔ ایک مرتبہ ٹرانسمشن لائن بچھانے کے علاوہ اس پر مزید کوئی اخراجات بھی نہیں آتے مگر ہماری کمپنیوں کے منہ کو گویا منافع اور بھاری رقم اینٹھنے کا چسکا پڑگیا ہے جبکہ حکمرانوں کو عوام کی مشکلات اور مسائل سے سرے سے کوئی سروکار نہیں۔ اس ساری صورتحال کا نگران وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہئے گیس کی قیمتوں میں یکایک دوسو فیصد اضافہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں اس کی بجائے گیس چوروں کی روک تھام اور خاص طور پر سی این جی سٹیشنوں میں ملی بھگت سے گیس چوری کے عمل پر قابو پایا جائے تو کمپنیوں کی آمدنی میں اچھی خاصی اضافہ ہوگا اور ان کو صارفین پر بے تحاشا بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ صارفین کا پہلے ہی بجلی وگیس کے بھاری بھر کم بل ادا کرتے ہی کمر ٹوٹ چکی ہے اب وہ مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس سے سی این جی سمیت صنعتوں کے اخراجات بڑھیں گے جس کے نتیجے میں وہ مصنوعات مہنگی کریں گی جس سے ٹرانسپورٹ کرایوں اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عوام کو منہگائی کے ایک نئے ریلے کا سامنا ہوگا۔

سیاسی جماعتوں کو کارکنوں کو دائرہ کار میں رکھنے کا مشورہ

عام انتخابات کا مرحلہ قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ معمول کی بات ہے۔ گزشتہ روز صوابی میں فائرنگ اور ہلاکت ومجروح ہونے کا افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ اس مرتبہ کے انتخابات میں ایک نئی افتاد یہ پڑی ہے کہ سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے اور اس میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے، کارکنوں نے سیاسی مخالفین کیخلاف سوشل میڈیا پر مورچے سنبھال لئے جس کے ذریعے ایک دوسرے کی قیادت پر تابڑتوڑ حملے کئے جارہے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ کا بھی بے دریغ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جماعتوں کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو اس عمل سے روکنے کی بجائے اس پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گھر بیٹھے اور اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی اس معاشرے میں توقع ہی نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سرگرم کارکنان جن کو اس وقت اپنی اپنی جماعتوں کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے میدان عمل میں نکل کر عوامی رابطوں کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا تھا وہ سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنے کارکنوں کو اس سے روکتے اس کیلئے ماہر عملہ رکھ کر لاکھوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ بہرحال کسی بھی ذرائع کا انتخابی عمل کیلئے اخلاق اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کرنے کی کوئی وجہ نہیں لیکن اس کا منفی استعمال، کسی رہنما کی ذات اور خاندان پر کیچڑ اُچھالنا اور گمرہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈہ کسی طور قابل برداشت امر نہیں جس کا متعلقہ حکام کو نوٹس لینا چاہئے۔ اس عمل کو اس وقت روکنے کی ضرورت ہے اس ضمن میں سیاسی قائدین کو ہوشمندی اختیار کرنی چاہئے اور کارکنوں کو لغویات اور ماحول کو خراب کرنے کا سبب بننے والی ہر قسم کی سرگرمیوں اور مواد کے اجراء سے روکنا چاہئے۔ ایسا نہ ہوا تو کسی سیاسی جماعت کے قائد اور امیدواروں کیلئے اپنی پگڑی سنبھالنا ممکن نہیں رہے گا۔

متعلقہ خبریں