Daily Mashriq

وہ کتنی دور سے پتھر اُٹھا کے لایا تھا

وہ کتنی دور سے پتھر اُٹھا کے لایا تھا

انتخابات کے حوالے سے جو تماشے ان دنوں ملک میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ان سے سیاست کا مکروہ چہرہ پوری طرح بے نقاب ہو رہا ہے۔ ہر سیاسی رہنما اقتدار کے حصول کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے پر تلا بیٹھا ہے اور مخالف سیاسی جماعت یا دھڑے کو نیچا دکھانے کیلئے ہر اصول کو پاؤں تلے روندنے کو تیار ہے۔ ایک دوسرے پر اعتراضات کئے جا رہے ہیں‘ پگڑیاں اُچھالنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جا رہا اور مخالفین کی کمزوریوں کو اگر انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت نہیں اُچھالا جاسکتا تو سوشل میڈیا پر وہ وہ طوفان بدتمیزی برپا ہے جسے دیکھ کر یقیناً شیطان بھی انگشت بہ دنداں ہوگا۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر سیاسی جماعت انتخابی سیاست میں اسلئے اُتر رہی ہے کہ وہ اقتدار اپنے پروں میں سمیٹ لے اور اس کے رہنما اگلے پانچ برس کیلئے ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بن کر حکومت کریں تو دوسروں پر کیوں اعتراضات کئے جا رہے ہیں؟ تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھیں تو اقتدار کی ہوس نے باپ بیٹے‘ بھائی بھائی اور ماں بیٹوں کو بھی ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کیا۔ صدیوں پہلے برصغیر میں چندر گپت موریا کے دور میں ایک فلسفی گزرا تھا جس کا نام تھا اچاریہ کوٹلیہ چانکیا۔ اس نے حکمرانی کے جو رہنما اصول بنا کر اپنے وقت کے حکمرانوں کو دئیے انہیں ایک کتاب ارتھ شاستر میں محفوظ کیا تھا۔ اقتدار کے اصول کے تحت وہ حصول اقتدار کیلئے اپنے مدمقابل کو جان سے مارنے تک کی ترغیب دیتا ہے اور اس حوالے سے وہ اپنے مخاطب سے کہتا ہے کہ جب تم کسی کو ہلاک کرنا چاہو تو اس کے دوست بن جاؤ۔ جب اسے ہلاک کرنے لگو تو اس سے گرمجوشی سے بغل گیر ہو جاؤ اور جب اسے ہلاک کر چکو تو اس کی لاش پر بین کرو۔ برصغیر کے رہنے والے ہندوتوا کے اصل فلسفے کے پیچھے چانکیہ کے اصولوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اُردو زبان میں رائج محاورہ بغل میں چھری منہ میں رام رام دراصل چانکیہ ہی کے فلسفے کا نچوڑ ہے۔شیکسپیئر کے ڈرامے جولیس سیزر میں جب جولیس سیزر پر حملہ کیا جاتا ہے اور دوسروں کیساتھ ساتھ اس کا قریب ترین دوست بروٹس بھی خنجر سے وار کرتا ہے تو جولیس سیزر حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہتا ہے یو ٹو بروٹس یعنی بروٹس تم بھی۔ اس پر شیکسپیئر نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا کہThe unkindest cut of all یعنی سب سے غیر مہربان زخم۔ تاریخ کے یہ اوراق اسلئے ذہن کے دریچوں میں روشن ہوگئے کہ ان دنوں عمران خان کیخلاف اپنے گرد لوٹوں کو جمع کرنے اور پارٹی کے بے لوث کارکنان کو نظرانداز کرنے پر مخالفین کی یلغار تو جاری ہی ہے جبکہ انکے دھرنا شریک بھائی علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی بروٹس کی طرح اپنی زبان کے خنجر سے نامہربان وار کئے ہیں اور گزشتہ روز میڈیا کیساتھ گفتگو میں فرمایا ہے کہ جیتنے والے گھوڑے ہی ناگزیر تھے تو پھر دھرنوں کی کیا ضرورت تھی، طاہر القادری نے کہا کہ ہم اس دھن‘ دھونس‘ دھاندلی اور کرپشن زدہ نظام کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ طاہر القادری موجودہ نظام پر یقین ہی نہیں رکھتے جبکہ ہم آئین کو اہمیت دیتے ہوئے سسٹم کے اندر رہنا اور انتخابی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ خیر یہ تو اب ڈاکٹر طاہر القادری پر منحصر ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ترجمان کے بیان کو کس نقطہ نظر سے دیکھتے‘ پرکھتے اور پھر اپنے مخصوص لہجے میں جواب دیکر اسے چپ کراتے ہیں۔ البتہ ایک بات مزید واضح ہوگئی ہے کہ عمران خان بھی اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کیلئے تیار چانکیہ اور میکاولی کے اصولوں پر ہر صورت عمل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ دوسرے رہنماؤں کی طرح ان کا مطمح نظر بھی کرسی اقتدار ہے جس کیلئے ہر قسم کی بے اصولی کو اصول بنانا ان کے نزدیک کوئی بری بات نہیں۔ خواہ ماضی قریب میں ان کی دھرنے کے دوران کی جانے والی تقریروں میں امپائر کی انگلی اٹھنے کی تکرار ہو یا پھر اب دوسری جماعتوں کے لوگوں کی مدد سے کسی نہ کسی طور لیلائے اقتدار کے ممکنہ حصول کی خواہش اور یہ سب بے اصولیاں موصوف کے کردار کو طشت ازبام کر رہی ہیں۔ بقول مجید لاہوری
عہدوں کا ہمیشہ ہی طلبگار رہا ہوں
کرسی کا بہرحال پرستار رہا ہوں
سب جانتے ہیں حامئی سرکار رہا ہوں
حاکم ہو کوئی اس کا وفادار رہا ہوں
تاہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر سیاسی لیڈر کرسی اور اقتدار کا متمنی ہے اور ماضی میں بھی رہا ہے تو عمران خان بے چارہ وزیراعظم بننے کی خواہش پال کر کیوں مطعون ہو رہا ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں اگر موصوف کی یہ خواہش پوری ہو جائے تو جو حشر نشر اس کی سربراہی میں اس کی پارٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا اور خصوصاً صوبائی دارالحکومت پشاور کا کیا ہے اور پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور باوجود یہ سب حشر کرنے کے اس کے لگائے ہوئے وزیراعلیٰ سے لیکر وزراء تک مسلسل جھوٹ بول کر صوبے کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے دعوے کر رہے ہیں دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور یہاں احتساب کے ادارے کو بند کرکے خود کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک بلکہ منزہ عن الخطا قرار دے رہے ہیں حالانکہ دیگر کاموں کو رکھئے ایک طرف سینیٹ انتخابات میں خود ہی اپنے ممبران پر فروخت ہونے کے الزامات عائد کر دیتے جس پر کوئی کیا تبصرہ کرسکتا ہے۔ اسی لئے کے پی کے عوام کی خواہش ہے کہ موصوف کو ایک بار حکمران بنا کر باقی پاکستان کا بھی وہ حشر کرنے کی اجازت دی جائے جو ہمارے صوبے اور پشاور کا کرکے رخصت ہوگئے ہیں۔
وہ کتنی دور سے پتھر اٹھا کے لایا تھا
میں سر کو پیش نہ کرتا تو اور کیا کرتا

اداریہ