Daily Mashriq

روپے کی گرتی ہوئی قدر

روپے کی گرتی ہوئی قدر

چلئے ایک سیدھی سادھی حقیقت سے ابتدا کرتے ہیں، وہ یہ کہ زرِمبادلہ کی شرح میں کمی ہونا دنیا کا اختتام ہو جانا نہیں ہے، نہ ہی یہ کمی اپنے طور پر کسی آفت کی نشانی ہے۔ تقریباً تمام ممالک میں زرِمبادلہ کی شرح میں اُتار چڑھاؤ ہونا عام بات ہے۔ لہذا آج کا بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم گزشتہ جولائی سے اب تک4 مرتبہ کرنسی کی کمی دیکھ چکے ہیں بلکہ مسئلہ تو یہ ہے کہ مارچ 2014 سے لیکر جب سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار زرمبادلہ کو98 روپے فی ڈالر تک لانے میں کامیاب ہوگئے تھے، پھر ان کی رخصتی تک یہ فرق آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے 105 روپے تک جا پہنچا، اب تک دراصل ملک کو انتظامی طریقے سے کنٹرول کی جانے والی شرح زرمبادلہ(managed exchange rate regime) کے تحت چلایا جا رہا تھا۔ اگر 2014 سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ہندوستانی روپے کی قمیت کا فی ڈالر 68 روپے تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستانی روپے کی قیمت میں14 فیصد گرواٹ کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی قیمت17 فیصد گراوٹ کا شکار رہی ہے۔ 2018 میں مزید بلندیوں کے امکان پر یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا دیگر مرکزی بینک شرح سود کی نارملائزیشن سے تعبیر کرتے ہیں، جس طرح 2008 کے غیر معمولی مالی بحران کے بعد ریکارڈ کم شرح دیکھنے کو ملی تھی۔ یہ ویسے تو آپ کو تھوڑی پیچیدہ سی بات محسوس ہوگی مگر درحقیقت یہ ایک عام سا معاملہ ہے۔ اگر تمام معاملات اسی انداز میں چلنے لگیں جس کی ان سے توقع وابستہ کی گئی تھی تو شرح زرمبادلہ کو منڈی کی طلب اور رسد کے اشاروں کے مطابق بروقت ایڈجسٹ کیا جانا چاہئے۔ جو ممالک ہمارے ملک کے بڑے تجارتی ساتھی ہیں اگر ان عالمی کرنسیوں کی باسکٹ میں چڑھاؤ آرہا ہے تو روپے کی قدر میں کمی کی توقع کرنا ایک نارمل سی بات ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارے پاس ایک مسئلہ کھڑا ہوجائے گا کیونکہ شرح زرمبادلہ میں موجود ناہمواری کو درست کرنا پڑے گا اور جب اس نکتے کا وقت آئے گا تب جتنا بڑا فرق ہوگا اتنا ہی معیشت کو جھٹکا پہنچے گا۔ چند لوگوں کو شاید 2013 کا آخر اور 2014 کا آغاز یاد ہو، جب ڈار صاحب برآمدکاروں پر غصہ ہوگئے اور مطالبہ کیا کہ جلد ہی اپنی نیٹ اوپن پوزیشن کو بند کردیں اور فوراً (قانون انہیں90 دنوں تک اپنی پوزیشنز بند کرنے کی اجازت دیتا ہے) سے اپنے ایکسپورٹ پروسیڈز کو واپس لے آئیں ورنہ انہیں نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے کیونکہ وہ دھمکی دے چکے تھے کہ روپے کی قدر کو نیچے لانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ کچھ ہی عرصے کے بعد، فروری 2014 کے آخر میں، ایک دوست ملک کی جانب سے دواقساط میں تقریباً3.1 ارب ڈالر ملکی ذخائر میں آگئے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ ملک سعودی عرب تھا، اور یوں روپے کی قدر فی ڈالر 98 روپے تک پہنچ گئی، جس کا وزیر خزانہ نے وعدہ کیا تھا۔ پھر اسٹیٹ بینک سے وارننگ آئیں۔ مانیٹری پالیسی کے اعلان میں کہا گیا کہ ایک ہی بار ہونیوالی پیسوں کی آمد اور بیرونی قرضوں سے تھوڑی مدت کیلئے تو استحکام پیدا ہوسکتا ہے مگر دیرینہ استحکام کیلئے پرائیوٹ مالیاتی بہاؤ کے شیئر کو مستقل انداز میں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ روپے کی قدر دھیرے دھیرے105 روپے فی ڈالر تک جا پہنچی مگر یہاں پر گراوٹ کا سلسلہ رک گیا۔استحکام کا سراب قائم ودائم رہا مگر ایک بھاری قیمت پر اور اس بھاری قیمت کو اپنے قریب آتا دیکھ رہے ہیں۔ ڈار صاحب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ ایک مستحکم اور مضبوط روپیہ ہی سب سے اچھی چیز ہے (شاید چند صورتوں میں ایسا ہے بھی)اور اسے ہر قیمت پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ گزشتہ جولائی میں جب اچانک سے روپے کی قدر میں کمی آئی انہوں نے زور دے کر کہا کہ روپے میں3.1 فیصد کی کمی کا مطلب ہے سرکاری قرضے میں230 ارب روپے کا خسارہ۔ ہمیں اب بھی معلوم نہیں کہ آیا ان کی مراد بیرونی قرضے کیلئے اقساط کے واجبات میں اضافے سے تھی یا پھر قرض کے ذخیرے میں اضافے سے تھی۔
شرح زرمبادلہ کو کمزور رسی کی مدد سے قابو میں رکھنا ایک اچھی اقتصادی پالیسی نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ جو اتار چڑھاؤ ہوتا ہے ہونے دیں اور خود سے ہی راستہ نکلنے دیں۔ اس طرح آپ معیشت کو بے نظمی کے بھرپور دھچکوں سے بچا سکتے ہیں اور خسارے یا نقصان کے جذبات کو اُبھرنے اور ڈالر کی قدر میں بے قابو اضافے کو روک سکتے ہیں۔ اگر ان شرح زر مبادلہ کی حرکت کے رد عمل میں معیشت کے دیگر حصوں کو شرح زرمبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے تو انہیں ایڈجسٹ کرنے دیں۔ جھوٹ کیساتھ جینے میں کوئی فائدہ نہیں اور اقتصادی انتظام بھی اس بات سے مستثنی نہیں۔ (بشکریہ ڈان)

اداریہ