Daily Mashriq


حال شادی ہالوں کا

حال شادی ہالوں کا

اب کے جو رمضان المبارک کے فوراً بعد شادیوں کا سیزن شروع ہوا تو لوگوں کو شادی ہال کی بکنگ میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے کہ شادی رچانے والوں کے سمجھدار اور دوراندیش طبقے نے رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی شادی ہالز کی بکنگ کروالی تھی لیکن جو لوگ ایسا کرنے سے رہ گئے تو انہیں شادی کی تاریخوں میں تبدیلی کرنی پڑی کیونکہ شہر بھر میں کوئی ایسا شادی ہال نہیں مل رہا تھا جو ہفتہ اور اتوار کے دن کیلئے بک نہ ہوا ہو۔ سو ایسے لوگوں کو پیر منگل کیلئے شادی ہال بک کروانے پڑے اور جن لوگوں نے پیر اور منگل کے روز کیلئے بک کروانے میں دیر کر دی انہیں اپنے پروگرام کو بدھ جمعرات یا جمعہ کے روز تک مؤخر کرنا پڑا اور جو بے چارے شادی بیاہ کے معاملے کو نہایت سہل سمجھ کر پھر کبھی پھر کبھی کا رویہ اپنائے رہے ان کو شادی ہال کی بکنگ کے معاملے میں اچھی خاصی دقت اور پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شادی بیاہ رچانے کیلئے شادی ہال مستعار لینے کا رواج اتنا پرانا نہیں، ہمیں وہ زمانہ اچھی طرح یاد ہے جب شادی بیاہ کی جملہ تقریبات کسی گلی یا محلے کے لوگ مل جل کر کرتے، فصیل شہر کے اندر کی گلیوں میں ایک آدھ مکان ایسا ہوتا تھا جو رقبے کے لحاظ سے گلی کے دیگر مکانوں سے کشادہ ہوتا تھا اور گلی محلے کے لوگ غم اورخوشیوں کی تقریب برپا کرنے کیلئے ایسے ہی مکان کا انتخاب کرتے، اس مکان کے رہائشیوں یا وارثوں سے تقریب شادی خانہ آبادی کیلئے وہ مکان چند دنوں کیلئے مستعار لے لیا جاتا اور اگر وہ بوجوہ ایسا کرنے میں ناکام ہو جاتے تو گلی محلے کے لوگ اپنی اپنی بیٹھکیں اور صحن ایسی تقریبات کیلئے چشم ما روشن ودل ماشاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھول دیتے اور شادی بیاہ کی تقریبات میں خود بھی یوں شریک ہوتے جیسے وہ خود شادی بیاہ رچانے والے خانوادے کا حصہ ہوں۔جہاں بجتی ہیں شہنائیاں وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں۔ زندگی نام ہی دکھوں، دردوں، آہوں، سسکیوں کا ہے اور ان سے عارضی سی نجات کو ہم خوشی کہہ کر پکارتے ہیں اور خوشی کے ان لمحات یا تقریبات میں سے شادی بیاہ نام ہے ایسی ہی ایک تقریب کا، مگر بقول اسداللہ غالب

قید حیات اور بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

دکھوں دردوں اور ابتلاء کے ادوار میں سب سے پہلے یہی ہمسائے یا مائی باپ آگے بڑھ کر پرسا دیتے ہیں اور اپنے دریاؤں جیسے دلوں کی طرح اپنے مکانوں کے دروبام کو کھول کر دکھیوں کے دکھ سمیٹ لیتے تھے لیکن زمانہ جیسے جیسے ترقی کرتا چلا گیا آبادی میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا رہا شہر کی وسعتیں اور اس کا رقبہ پھیلتا رہا، لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مکانوں کی طرح ان کے دل بھی چھوٹے ہونے لگے۔ شادی بیاہ کی تقریبات کے انعقاد کیلئے شادی ہال بک کروائے جانے لگے۔ شادی ہال بک کروانے کی وجوہات بتاتے ہوئے ایک خاتون خانہ نے بتایا کہ اس طرح دلہا یا دلہن کے اہل خانہ بے پناہ تھکاوٹ اور بہت سے تکلفات سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ انہیں شادی خانہ آبادی کیلئے تیار کیا گیا کشادہ ہال، ناچنے گانے کیلئے آڈی ٹوریم، کھلا میدان، مردانہ وزنانہ پورشن، دلہن تیار کرنے کیلئے کمرہ، فرنیچر، کراکری، کیٹرنگ حتیٰ کہ مہمانوں کی تواضع کیلئے بیرے یا ویٹرز تک شادی ہال کی بکنگ کرواتے وقت ادا کی جانے والی فیس میں مل جاتے ہیں۔ اہل خانہ کو نہ مکان کی صفائی ستھرائی کا انتظام کرنا پڑتا ہے، نہ مہمان بلائے جان قسم کے لوگوں کو برداشت کرنے یا مابعد از شادیات کو سمیٹنا پڑتا ہے۔ یہ اور اس قسم کی مزید بہت سی وجوہات شادی بیاہ کے بندھن میں جکڑے جانے والے دلہا دلہن اور ان کے سجن بیلی اچھے اور مناسب شادی ہالوں کی بکنگ کی دوڑ میں شریک ہونے لگے۔ دوسری طرف شادی بیاہ یا اس قبیل کی دیگر تقریبات کیلئے شادی ہال تعمیر کرنے کا رجحان اس قدر بڑھا کہ قریہ قریہ اور نگری نگری ہی نہیں گلی گلی اور محلے محلے ایک سے ایک بڑھیا اور پر تعیش شادی ہال تعمیر ہونے لگا لیکن اس کے باوجود شادی بیاہ کے سیزن میں ان کا ایڈوانس میں بک ہو جانا ان کی بے پناہ مقبولیت میں اضافے کی جانب اشارہ کرتا ہے اور یار لوگ اپنے آباء کی چھوڑی ہوئی جائیداد پر زرکثیر خرچ کرکے اس پر شادی ہال تعمیر کرنے کو بہترین کاروباری مصرف سمجھتے ہیں۔ یہ سال 1979 کی بات ہے جب صوبائی دارالخلافہ پشاور میں شایان شان پبلک لائبریری بنانے کیلئے حاکم وقت کی جانب سے 77لاکھ روپے ملے تھے اور پشاوریوں کے ووٹ حاصل کرکے بلدیہ پشاور کی نشستوں پر رونق افروز ہونے والے کاروباریوں نے لائبریری کی بجائے تحصیل گور کھتری کی عمارت میں ایک شادی ہال تعمیر کرکے بزعم خود بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا تھا اور اس پر طرہ یہ کہ شادی ہال کے باہر پشاور میونسپل پبلک لائبریری کا سائن بورڈ آویزاں کرکے پڑھی لکھی اقلیت کی آنکھوں میں دھول جھونک دی تھی۔ یہ علمی اور ادبی پھکڑ پن کا مظاہرہ تھا جس پر لکھنے کے فرض کا قرض راقم السطور گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را کے مصداق ادا کرتا رہتا ہے، مگر اس کا کیا کیا جائے جو اس کا کہا ریت پر لکھی تحریر ثابت ہو جاتی ہے۔ ہم نے آخری خبریں آنے تک اس شادی ہال کا وہ حال دیکھا جو بدقسمتی سے شادی کے بعد ہوا کرتا ہے۔

ان سفینوں کا حال کیا کہئے

غرق جن کو کیا کناروں نے

متعلقہ خبریں