Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

جب حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے قیسار یہ کو فتح کر کے غزہ کا محاصر کیا تو وہاں کے گورنر نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ گفتگو کے لئے کوئی آدمی میرے پاس بھیجئے ، حضرت عمر و ؓ ایک عام آدمی کی حیثیت سے خود تشریف لے گئے اور گفتگو شروع کی ۔ غزہ کا گورنر ان کے حکیمانہ انداز گفتگو اور جرات وبے باکی سے متاثر ہوا، اس نے پوچھا:کیا تمہارے ساتھیوں میں تم جیسے کچھ اور لوگ بھی ہیں؟ حضرت عمر و ؓ نے فرمایا: یہ بات نہ پوچھئے ، میں تو ان میں سب سے کمتر آدمی ہوں جبھی تو انہوں نے مجھے بھیجنے کا خطرہ مول لیا ہے۔غزہ کے گورنر نے یہ سن کر انہیں کچھ تحفے دینے کا حکم دیا اور ساتھ ہی دربا ن کے پاس حکم لکھ کر بھیج دیا کہ’’ جب یہ شخص تمہارے پاس سے گزرے تو اسے قتل کر کے اس کا مال چھین لو‘‘حضرت عمرو ؓ جب واپس جانے کیلئے مڑے تو راستے میں غسان کا ایک عیسائی ملا، اس نے حضرت عمر و ؓ کو پہچان لیا اور چپکے سے بولا: ’’عمرو!تم اس محل میں اچھی طرح داخل ہوئے تھے، اچھی طرح ہی نکلنا‘‘یہ سن کر حضرت عمر و ؓ ٹھٹھک گئے ، وہ فوراً مڑے اور واپس گورنر کے پاس پہنچ گئے ، سردار نے پوچھا: کیا بات ہے واپس کیوں آگئے۔حضرت عمر وؓ نے جواب دیا: آپ نے مجھے جو تحفے دئیے ہیں۔ میں نے انہیں دیکھا تو اندازہ ہوا کہ یہ میرے چچازاد بھائیوں کے لئے کافی نہیں ہیں۔ لہٰذا میرے دل میں یہ آرہا ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو آپ کے پاس لے آئوں ، آپ یہ تحفے ان سب میں تقسیم کر دیں ، اس طرح آپ کا تحفہ ایک کے بجائے دس آدمیوں کے پاس پہنچ جائے گا۔ گورنر دل ہی دل میں خوش ہوا کہ اس طرح ایک کے بجائے دس آدمیوں کو قتل کرنے کا موقع ملے گا، چنانچہ اس نے کہا کہ : تم ٹھیک کہتے ہو۔انہیں جلدی سے لے آئو۔اور یہ کہہ کر دربان سے کہلا دیا کہ اب اس شخص کو جانے دو۔ حضرت عمر و ؓمحل سے نکل کر دور تک مڑ مڑ کر دیکھتے رہے اور جب خطرے کی حدود سے باہر نکل گئے تو فرمایا: آئندہ ان جیسے غداروں کے پاس نہیں آئوں گا۔
چند روز کے بعد غزہ کے گورنر کو صلح کی درخواست کرنی پڑی اس مقصد کے لئے وہ خود مسلمانوں کے پاس آیااور جب حضرت عمر وؓ کے خیمے میں داخل ہو کر انہیں امیر لشکر کی حیثیت سے بیٹھا دیکھا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔ اس نے بوکھلا کر پوچھا: کیا آپ وہی ہیں؟ جی ہاں ۔حضرت عمروؓ نے جواب دیا ’’میںتمہاری غداری کے باوجود زندہ ہوں‘‘(الوصا یا الخالدۃ ، مطابع العروبتہ یقطر)یہ حضرت عمرو ؓ کی فراست تھی کہ انہوں نے دشمن کی چال بھانپ لی اورکمال ہو شیاری سے اس کو ناکام بنا دیا۔
صحابہ ؓ کی فہم وفراست اور بہادری کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا تھا بلکہ دشمن بھی اس کا معترف ہوتا تھا اور ایک اکیلا صحابی ؓ کئی مشرک دشمنوں پر بھاری ہوتا۔

اداریہ