Daily Mashriq

گھی، آٹے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا، وزیر مملکت

گھی، آٹے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا، وزیر مملکت

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے مالیات حماد اظہر نے چینی پر ٹیکس بڑھانے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اس بات سے انکار کردیا کہ کھانے پکانے کا تیل، گھی، آٹا اور خام گوشت پر کوئی نیا ٹیکس لگایا ہے۔

قومی اسمبلی میں جہاں اپوزیشن حکومت سے بجٹ میں بھاری ٹیکسز کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے وہیں پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ چینی، گھی اور کھانے پکانے کے تیل پر ٹیکس بڑھانے کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

ساتھ ہی اسد عمر نے اس بات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا کہ کیوں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب حکومت میں ان کی کوئی سنتا نہیں ہے۔

تاہم اس حوالے سے وزیر مملکت برائے مالیات حماد اظہر نے 20-2019 کے بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ چینی پر ٹیکس 11 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کیا گیا ہے اور اس اقدام سے محض ساڑھے 3 روپے تک فی کلو اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے گھی، آٹا، پھلوں، سبزیوں اور خام گوشت پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا اور ٹیکسز صرف ’برانڈڈ کارن فلور‘، ’درآمدی پھلوں اور سبزیوں‘ اور ’پرسیسڈ گوشت‘ پر لگایا گیا ہے۔

گھی سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گھی کی فی کلو گرام قیمت پر موجود ٹیکس پر نظرثانی کی تھی لیکن اس کے نتیجے میں اس کی قیمت میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں گزشتہ 2 ماہ میں اضافہ ہوا کیونکہ حکومت نے شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی تاکہ انہیں ٹیکس کی عدم ادائیگی سے روکا جائے۔

حماد اظہر نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکس کے نفاذ، بیروزگاری سے متعلق غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سابق دور کی چھوڑی گئی اقتصادی صورتحال کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت میں موجود ان ساختی خامیوں کو دور کرنے کے لیے مشکل اقدامات کیے جو سابق حکومتوں کی جانب سے نہیں کیے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں