Daily Mashriq

زیرآب دنیا کے راز جاننے کیلئے دنیا کی پہلی سافٹ روبوٹک فش تیار

زیرآب دنیا کے راز جاننے کیلئے دنیا کی پہلی سافٹ روبوٹک فش تیار

امریکی ماہرین نے دنیا کی پہلی سوفٹ روبوٹک فش تیار کرلی جس میں کسی بیٹری یا سیل کے بجائے بلکہ برقی مائع ہے جو مچھلی کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ بغیر کسی تار کے سمندر کی تہہ میں یہ دو پر اور ایک دم رکھنے والی مچھلی زیر آب دنیا کے راز سامنے لائے گی۔ مچھلی کا نام سوفی رکھا گیا ہے جو سافٹ اور فش کے ابتدائی دو دو حروف سے تشکیل پایا ہے۔ یہ روبوٹک مچھلی زیرآب دنیا کے راز جاننے میں معاون ثابت ہوگی، اسے بنانے کا خیال حال ہی میں منظر عام پر آنے والی دنیا کی سب عظیم الحبثہ شارک کی تصاویر اور ویڈیوز کے بعد آیا تھا۔ چونکہ ایسے حیرت انگیز مناظر اب تک عام افراد کی نگاہوں سے اوجھل تھے اسی لیے سائنس دانوں نے ایسے مزید رازوں سے پردہ اُٹھانے کے لیے روبوٹک مچھلی ایجاد کرنے فیصلہ کیا تھا۔ روبوٹک مچھلی کا پہلا کامیاب تجربہ بحیرہ جنوبی میں واقع ملک فجی کے پانیوں میں 50 فٹ گہرائی میں کیا گیا۔ سوفٹ روبوٹک مچھلی مسلسل 40 منٹ تک سمندر کی تہہ ہر سمت سے تیرتی رہی۔ اس دوران ایک دلچسپ بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ سمندری حیات نے اس نقلی مچھلی کو قبول کرلیا جو سائنسدانوں کی بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ یہ مچھلی مکمل طور الیکٹرانکس اور میکنیکل توانائی کے باہمی اشتراک سے بنائی گئی ہے، اسے کنٹرول کرنے کیلئے ایک ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے سمندر کی تہہ میں تیراکی کرائی جاتی ہے جو مچھلی کی رفتار اور سمت کو کنٹرول کرتی ہے تا کہ تیز رفتار لہروں میں اس کی سمت تبدیل نہ ہو جائے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیٹریاں ایسے آلات اور روبوٹ کا وزن بڑھادیتی ہیں اور یوں وہ کسی کام کا نہیں رہتا، پھر کچھ بھی کرلیا جائے روبوٹ کی حرکت اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر یونیورسٹی کے ماہرین نے چالیس سینٹی میٹر طویل مچھلی سلیکون سے تیار کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں