Daily Mashriq

'گرین لینڈ کی برفانی تہہ کہیں زیادہ تیزی سے پگھل رہی ہے'

'گرین لینڈ کی برفانی تہہ کہیں زیادہ تیزی سے پگھل رہی ہے'

واشنگٹن — اگر کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج کی موجودہ رفتار جاری رہی تو آئندہ ہزار سالوں کے دوران گرین لینڈ کی برف کی چادر مکمل طور پر پگھل چکی ہو گی۔ یہ انکشاف دنیا بھر میں سطح سمندر کے بارے میں ہونے والی مطالعاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

سمندری سطح کے لحاظ سے، گرین لینڈ کی برفانی تہہ سات میٹر (گز) کے برابر خیال کی جاتی ہے۔

’یونیورسٹی آف الاسکا‘ میں قائم ’فیئربینکس جیو فزیکل انسٹی ٹیوٹ‘ میں تحقیق سے وابستہ معاون پروفیسر، اور مطالعاتی رپورٹ کے سربراہ، اینڈی ایشوینڈن کے مطابق، ’’اگر صورت حال یہی رہی تو سارا گرین لینڈ پگھل جائے گا‘‘۔

یہ تازہ ترین انتباہ ہے جو دنیا کے سرد ترین خطوں کے درجہ حرارت کے بارے میں جاری کیا گیا ہے۔

ایشوینڈن نے کہا ہے کہ ’’گیس کے اخراج کے سلسلے میں جو کارستانیاں جاری ہیں، مستقبل قریب میں ان کا آئس لینڈ کی برفانی چادر پر طویل مدتی اثر پڑے گا، اور اسی اعتبار سے یہ برف پگھلے گی اور سطح سمندر اور انسانی معاشرے پر اس کے ناقابلِ یقین اثرات مرتب ہوں گے‘‘۔

اس مطالعاتی رپورٹ میں ناسا سے حاصل کردہ ’آئس برج‘ کی فضائی رپورٹ استعمال کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ’سائنس ایڈوانسز‘ میگزین میں شائع ہوئی ہے۔ یہ تازہ ترین مطالعاتی رپورٹ ہے جس میں پرانے ماڈلز کی نفی ہوتی ہے۔

اس ماڈل میں برفانی تودوں کے بہاؤ سے متعلق اصل حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

اس ماڈل کو دیکھ کر یہ نقشہ ابھرتا ہے کہ گلیشیئرز سے ندی نما بہاؤ جاری ہے، جس کا پانی سمندر میں جا گرتا ہے۔

مطالعاتی رپورٹ کے بارے میں اپنے بیان میں ناسا نے کہا ہے کہ ’’گلیشیئرز برف کی چادر پگھلنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن، اس سے قبل نمودار ہونے والے ماڈلز سے حاصل کردہ ڈیٹا سے بہاؤ کے پیچیدہ خد و خال درست طور پر سامنے نہیں آ پا رہے تھے‘‘۔

ناسا نے کہا ہے کہ ’’مطالعاتی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ جس رفتار سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں، اندازاً 200 سالوں میں گرین لینڈ کے علاقے سے برف کی 40 فی صد چادر چھٹ چکی ہوگی‘‘۔

گذشتہ دو عشروں کے دوران سمندری پانی خاصا گرم ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں تیرتی ہوئی برف پگھل رہی ہے، جو پہلے گلیشیئرز کے نکاس کے راستے میں حائل تھی اور راستے کو جمی ہوئی ٹھوس حالت میں رکھتی تھی۔

اس کے نتیجے میں، ’’گلیشیئرز کے راستے کھل گئے ہیں، اور اسے روکنے والی راہیں تیزی سے پگھل کر پانی بن رہی ہیں۔ اس کے باعث، گرم ہوا برفانی تہہ کے مزید رقبے کو گھیر لیتی ہے، جس سے مزید علاقے کے پگھلنے کی راہ ہموار ہوتی ہے‘‘۔

ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے، معلوم ہوتا ہے کہ اگر موجودہ رفتار جاری رہی تو اگلے 200 برسوں کے دوران، عالمی سطح سمندر میں 48 سے 160 سینٹی میٹر (19سے 63 انچ) پانی کی سطح کا اضافہ ہوگا، یعنی پانی کی یہ سطح پچھلے اندازوں سے 80 فی صد زیادہ ہے۔

اکتوبر میں، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کی بین الحکومتی فیصلہ ساز کمیٹی نے بتایا ہے کہ عالمی ماحولیاتی بگاڑ سے بچنے کے لیے معاشرے اور عالمی معیشت کی کلیدی اصلاح کی ضرورت ہوگی۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ صورت حال، سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے، اور خبردار کیا کہ اس آفت سے بچنے کے لیے وقت تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں