Daily Mashriq

درست سمت، اہم اقدامات

درست سمت، اہم اقدامات

ڈویژن حکومت پاکستان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سٹیٹ بنک آف پاکستان نے چالیس ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈ واپس لینے کا نوٹیفکیشن کا اجرائ، کاروبار کی رجسٹریشن آسان بنانے کیلئے کمیٹی کا قیام، یکم جولائی سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کے خودکار نظام کا متوقع اجراء وہ عملی اقدامات ہیں جن پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے سے ملک کے معاشی حالات کی بہتری اور مشکلات پر قابو پانے کی ابتداء ہوسکتی ہے۔ یہی اقدامات اگر سال قبل اُٹھائے جاتے تو وزیراعظم کو اپنی معاشی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کی ضرورت نہیں پڑتی، مجوزہ اقدامات شافی حل نہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہے کہ معاشی مشکلات پر باآسانی قابو پایا جائے البتہ یہ ایک درست سمت میں قدم ضرور ہے جس سے ٹیکس بچانے والوں اور خاص طور پر کالادھن رکھنے والوں کو حاصل آسانیاں مشکلات میں بدل سکتی ہیں اور وہ ملکی معیشت سے کھلواڑ سے باز آجائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بازیگروں کے پاس مواقع کی کمی نہیں ہوگی ممکن ہے وہ اس کا بھی توڑ نکال لیں، قانونی پیچیدگیاں آڑے آئیں۔ ایف بی آر کے حکام اور عملہ سے تعلقات بدعنوانی،چارٹرڈ اکاؤنٹس فرم کی خدمات کا حصول غرض کئی قسم کے فرار کے راستے ہوں گے جن سے ہماری واقفیت نہ ہو ان سارے امکانات اور حکومتی اقدامات میں ممکنہ مشکلات واسقام کے باوجود اگر خلوص نیت سے حکومت پالیسیاں بنائے اس پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہو جائے خاص طور پر حکومت معاشی بہتری کے حوالے سے کسی مصلحت اور دباؤ سے بالاتر ہو کر کام کرے اور معاشی ومالیاتی پالیسیوں کے نفاذ میں تسلسل اور سختی برتے، کامیابی پر متعلقہ عملے کی حوصلہ افزائی اور ناکامی پر سخت تادیبی کارروائی بلاامتیاز ہو تو مشکلات پر قابو پانے کی اچھی ابتدا ممکن ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب عوام کو بہت حد تک ملک کی معاشی مشکلات کا ادراک ہو چکا ہے اور لوگ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے ذہن بنا چکے ہیں مگر ابھی تک اعتماد کی وہ فضا اور کیفیت اور وہ آسانیاں نہیں کہ لوگ جوق درجوق ٹیکس دینے اور فائلر بننے پر تیار ہوں۔ کیا یہ واقعی لمحہ فکریہ نہیں کہ آپ ایف بی آر سائیٹ پر جاکر ٹیکس نیٹ شمولیت فارم یا کم ازکم اس کا نمونہ تلاش کریں تو نمونے کا فارم تک دستیاب نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو معلومات اور سادہ وآسان طریقۂ کار کے ذریعے ہی ان کو قائل ومائل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکس وصولی اور معاش کو دستاویزی بنانے کا سہل، خودکار اور بااعتماد نظام لاکر ہی ایف بی آر کو ریونیو کے ہدف کے حصول میں آسانی ہوسکتی ہے۔ قبل ازیں عوام یقیناً ان عناصر کیخلاف اقدامات کے خواہاں ہیں جنہوں نے دولت کے ناجائز طور پر انبار لگائے۔ اس ضمن میں حکومت کا تازہ اقدام حوصلہ افزاء ہے جس کے تحت 40ہزار کے انعامی بانڈز مزید فروخت نہیں کئے جائیں گے اور نہ ہی 40ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی ہوگی جن لوگوں کے پاس 40ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز موجود ہیں وہ انہیں 31مارچ 2020 ء تک تبدیل کراسکیں گے۔ انعامی بانڈز سرٹیفکیٹس میں تبدیل کرائے جاسکیں گے، انعامی بانڈز کی واپسی کی صورت میں رقم کی کیش ادائیگی نہیں کی جائے گی بلکہ یہ رقم انعامی بانڈز کے مالک کے بنک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کا یہ اقدام تجوریوں، الماریوں اور تہہ خانوں سے بھاری رقوم کو بینکوں میں لانے اور کاروبار میں لگانے کی یہ ترغیب بھی ہے اور کالے دھن کو مزید بآسانی چھپائے رکھنے بڑے موقعے کا خاتمہ بھی۔ حکومت کے اس تازہ اعلامیہ سے ایک دن قبل جب صرف رجسڑیشن کرانے کی شرط کی اطلاعات تھیں چالیس ہزار مالیت کا پرائزبانڈ انتالیس ہزار روپے میں فروخت ہونے لگا تھا۔ اس واضح اور حتمی اعلان کے بعد بڑے بڑے پرائز بانڈز رکھنے والوں میں کھلبلی مچ جانا فطری امر اس لئے ہوگا کہ ان میں اکثریت ان عناصر کا خیال کیا جاتا ہے جن کو دولت چھپانا مقصود تھا جن کے پاس چالیس ہزار مالیت کے دوچار آٹھ دس پرائز بانڈز ہوں اور وہ اس کا حساب کتاب بھی رکھتے ہوں یا نہ بھی رکھتے ہوں ان کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، فکر ان عناصر کو لاحق ہے جن کے پاس درجنوں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں بانڈز ہیں۔ اب ان کو بینک لانے اور رجسٹرڈ کرانے پر سوالات اور احتساب کا سامنا ہونے کا ڈر ہے، ممکن ہے اس کے بعد بتدریج دیگر بڑے پرائز بانڈز اور بالآخر پانچ ہزار کا نوٹ بھی ختم کرنا پڑے۔ حکومت کو اب اس امر پر توجہ کی ضرورت ہے کہ اس ملک کے لاتعداد طبقے کہ جن میں بڑے چھوٹے ہر قسم کے ہنرمند بھی شامل ہیں اور تاجر بھی اچھی خاصی رقم کما رہے ہیں لیکن وہ اپنے کاروبار کی رسید کسی کو نہیں دیتے اور نہ ہی ان کا کلائنٹ ان سے پیسے بطور فیس یا قیمت ادا کر کے رسید لینے کا مطالبہ کرتا ہے' لہٰذا پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کون کتنا کما رہا ہے۔ بھاری رقوم کے سودے کیش پر ہوتے ہیں، دستاویزی معیشت اور خاص طور پر بنکوں کے ذریعے ادائیگی کرانے کو یقینی بنانے جیسے اقدامات کوئی راز نہیں اور نہ ہی مشکل۔ دنیا میں جس ملک نے بھی جتنی جلدی یہ طریقۂ کار اپنایا معاشی مشکلات سے نکل آیا، معیشت مستحکم ہوگئی۔ ہماری حکومت بھی جتنی جلد یہ راہ اپنائے ٹیکس نیٹ میں خودبخود اضافہ اور کالادھن چھپانا مشکل ہو جائے گا۔ پیسہ مارکیٹ اور منڈی میں آئے گا، کاروبار بڑھے گا تو روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہوگا، درست معاشی فیصلے اور ان کا عملی اور حقیقی نفاذ ہی ملکی مشکلات کا حل ہے بس یہ خیال رہے کہ یہ بلاامتیاز اور غیرسیاسی خالصتاً اور یکساں ومساوی ہوں اور اعتراضات کی گنجائش کم سے کم ہو۔

متعلقہ خبریں