Daily Mashriq

 ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے

ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے

بیرون ممالک سے لائے گئے موبائلز کی رجسٹریشن کیلئے ڈیٹا چوری کا اسکینڈل سامنے آنا اور مسافروں کے ڈیٹا کا غلط استعمال متعلقہ اداروں کیلئے چشم کشا اور متعلقہ عملے کے حوالے سے سنجیدہ شکوک کا باعث ہے۔ اکا دکا واقعات کی گنجائش نہیں تھی کجا کہ مسافروں کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے 44ہزار943 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے ایئرپورٹس پر بائیو میٹرک نظام نافذ کرنا احسن قدم ہے۔ اس ضمن میں جہاں مزید اقدامات کا جائزہ لینے اور ان کے نفاذ کی ضرورت ہے وہاں اس امر کی تحقیقات کے بعد ذمہ دار عملے اور خامیوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ معلومات کا تحفظ کیوں نہیں کیا جا سکا اور اس کے ذمہ دار کون تھے ان کیخلاف کیا کارروائی ہوئی۔ غیررجسٹرڈ اور سمگل شدہ موبائل فونز کی تجارت سے طاقتور مافیا وابستہ رہی ہے اور اب بھی ان کی کوشش ہے کہ وہ جعلی سافٹ ویئر اور دیگر ممکنہ ذرائع سے کام چلا سکیں حکومت نے پابندی لگانے کے بعد سمگل شدہ اور غیرقانونی فونز مارکیٹ اور گوداموں سے اُٹھانے اور اس کی تجارت کرنے والوں سے کوئی تعرض نہ کیا، اب بھی یہ دھندہ کسی نہ کسی طرح جاری ہونے کا گمان ہوتا ہے جس کی تحقیقات اور حقائق معلوم کر کے انسدادی اقدامات پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ مسافروں کی معلومات کے افشا کے بعد ٹیکس گزاروں میں بھی عدم تحفظ اور نئے حکومتی اقدامات بارے بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس فطری امر ہے۔ موبائل فونز رجسٹریشن معلومات کے افشا ہونے سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایف بی آر کو اس سے کہیں زیادہ حساس معلومات کے تحفظ اور صرف متعلقہ شخص ہی کو تفصیلات تک رسائی دینے کے معاملے کو یقینی بنانے پر توجہ دینے اور پراعتماد نظام قائم کر کے عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹ کمیٹی سے شکایات، سنجیدہ قدم

خیبر پختونخوا حکومت کا پن بجلی کے خالص منافع اور ان کے اربوں روپے کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے مسئلے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو اعتماد میں لینے اور ان سے اس سلسلے میں تعاون طلبی سنجیدہ اقدام ہے اور صوبے کے حق کے حصول کیلئے قابل ستائش کاوش ہے۔ ہمارے تئیں مرکزی حکومت اور وزارت پانی وبجلی اور متعلقہ اداروں کی اس حوالے سے پالیسی لیت ولعل کی رہی ہے وہ اس ضمن میں تعاون کی راہ اپنانے پر تیار نہیں صوبوں کو حقوق دینے کی بجائے معاملے کو اُلجھانے کیلئے سب کمیٹی کا قیام بھی تاخیری حربہ کے بغیر کچھ نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو موجودہ حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم سے بجلی کے خالص منافع کی رقم بمع بقایاجات کی تسلسل کیساتھ ادائیگی کی جو توقعات اور مطالبات تھے وہ پوری نہیں ہوئیں اور ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، وقت کیساتھ ساتھ اس میں اضافہ فطری امر ہوگا، لہٰذا جتنا جلد ہو سکے اس معاملے کو طے کر دیا جائے اور صوبے کی حکومت بیوروکریسی اور عوام کو مزید مایوس نہ کیا جائے۔

''زہ مڑہ ''کے نمبر پلیٹ

محکمہ ایکسائز کی غفلت اور نااہلی کے باعث درجنوں موٹر سائیکلوں کو جاری کئے جانے والے نمبر پلیٹ پر ''زہ مڑہ،، کے الفاظ کا درج ہونا محکمہ ایکسائز کے مونوگرام بھی بغیر کسی اجازت اور اختیار کے نمبر پلیٹ پر لگانا اختیارات سے تجاوز اور الفاظ کی تحریر تو مضحکہ خیز اور سرکاری ادارے کو مذاق بنا دینے کے مترادف ہے جبکہ ٹریفک پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ہماری بااختیار اور شتر بے مہار ٹریفک کو اس پر تو اعتراض نہیں لیکن یہی ٹریفک پولیس گاڑیوں کے اندر لٹکی ہوئی رومال اور کسی قسم کی شناخت کو ہٹانے کا تو اختیار رکھتی ہے اور اس کیلئے مہم بھی چلاسکتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں نمبر پلیٹ پر کوئی اضافی تحریر ونشان لگانے کی گنجائش نہیں اور نہ ہی اس کی مثال ملتی ہے اور نہ ہی وفاقی دارالحکومت اور دیگر صوبوں سے جاری ہونے والے نمبر پلیٹ پر ''زہ مڑہ'' اور ''پپو یار تنگ نہ کر'' قسم کے کوئی جملے درج ہوتے ہیں۔ اپنی نوعیت کی واحد مثال اور نمبر پلیٹ کو مذاق بنا دینے پر متعلقہ محکمے کو انعام ملنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں