Daily Mashriq

نام نہ لینا۔۔

نام نہ لینا۔۔

قومی اسمبلی کے ایوان میں وزیراعظم عمران خان کیلئے سلیکٹیڈکا سابقہ استعمال کرنے پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پابندی عائد کردی، اس پابندی کے بارے میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا موقف ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے ایوان میں جو ممبر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتا ہے اور کسی بھی ممبر کیلئے سلیکٹیڈ لفظ کا استعمال اس ایوان کی توہین کے مترادف ہے۔ گزشتہ اتوار کے روز منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے کئی ارکان کی طرف سے بار بار اس لفظ کے استعمال کے بعد وفاقی وزیر عمرایوب خان نے ڈپٹی اسپیکر کی توجہ اس امر کی طرف دلائی اور کہا کہ ایوان عوام کا منتخب کردہ ہے اور وزیراعظم کو بھی عوام کے منتخب کردہ ایوان کے ذریعے ہی منتخب کیا جاتا ہے اس لئے کسی کیلئے سلیکٹیڈ کا لفظ استعمال کرنا ایوان کی توہین کے زمرے میں آتا ہے چنانچہ ڈپٹی اسپیکر نے تنبیہ کرتے ہوئے ممبران اسمبلی کو اس لفظ کے استعمال سے گریز کا کہہ دیا۔ وزیراعظم کیساتھ سب سے پہلے سلیکٹیڈکا لفظ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے پر قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں جوڑا تھا، کہا جاتا ہے اس موقع پر کئی ارکان اسمبلی نے سلیکٹیڈ لفظ کی ادائی پر ڈیسک بجائی تھیں، بلاول بھٹو نے اسمبلی میں کسی کیلئے بھی سلیکٹیڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے یہ لفظ استعمال کیا تھا تب خود عمران خان نے بھی تالیاں بجائیں تھیں واللہ علم بالصواب، بہرحال پارلیمانی تاریخ میں یہ ہوتا رہا ہے کہ مخالف ممبر ایک دوسرے کو طنزیہ طور پر یا پھر ازراہ تفنن کیلئے کسی ناکسی لقب کیساتھ یاد کر جاتے ہیں لیکن اس میں پارلیمانی آداب کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ عمران خان نے ایک جلسہ میں بلاول بھٹو کو صاحب کہنے کی بجائے صاحبہ کہہ کر پکارا جس پر پی پی اور دوسرے سیاسی حلقوں میں بڑی لے دے کی گئی۔ اس ردعمل کے بعد پی ٹی آئی کے مخالفین کثرت سے سلیکٹیڈ کا لفظ عمران خان کیلئے استعمال کرنے لگے حتیٰ کہ حزب اختلاف کے ارکان نے اسمبلی کے اجلاسوں میں بھی اس لفظ کا استعمال معمول بنا ڈالا، گوکہ وزیراعظم کیلئے اس لفظ کے استعمال کی اختراع بلاول بھٹو کی جانب سے ہوئی تھی مگر دیگر سیاستدانوں نے بھی اس لفظ کو مخالفانہ انداز میںخوب اُچھالنا شروع کر دیا حتیٰ کہ مسلم لیگ کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے بھی اپنی ٹویٹس میں اس لفط کا گاہے بگاہے استعمال جاری رکھا۔ اس میں شک نہیں کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کی جانب سے مسلسل اس لفظ کا استعمال کا واحد مقصد یہ ہی نظر آیا کہ عوام کو یہ تاثر دینا ہے کہ موجودہ حکومت منتخب نہیں بلکہ عوام پر مسلط کردہ ہے، پارلیمان کی یہ روایت ہے کہ معزز اراکین انتہائی مخالفت کے باوجود ایوان میں کوئی غیرمہذب لفظ ادا نہیں کیا کرتے، چاہے اسمبلی میں ان کیساتھ حسن سلوک پر فرق بھی پڑ رہا ہو۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے حزب اختلاف کے کئی ارکان جن میں مولانا مفتی محمود مرحوم بھی شامل تھے سیکورٹی کے اہلکاروں کے ذریعے ایوان سے زبردستی اُٹھوا کر باہر بھیجوا دیا تھا جو آج تاریخ کا حصہ ہے اور آج تک کسی نے اس واقعہ کی حمایت نہیں کی، چنانچہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری اور وفاقی وزیر عمرایوب خان کا مؤقف یکسر طور پر درست ہے تاہم اس امر کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ ایوان کے معزز ارکان کیلئے حکومتی اطراف سے بھی کچھ الفاظ استعمال کئے جاتے رہے ہیں جو قطعی غیرپارلیمانی ہی نہیں بلکہ اور کچھ بھی کہا جا سکتا ہے جس میں چور، ڈاکو کی بھی لفاظی شامل ہے۔ جہاں تک سلیکٹیڈ لفظ کا تعلق ہے کہ یہ غیرپارلیمانی ہے یا نہیں اس پر سوال اپنی جگہ ہے لیکن ادائی الفاظ کی نیت کے پس منظر کو بھی دیکھنا ہوگا۔ بہرحال ڈپٹی اسپیکر نے ایک روایت کا آغاز کیا ہے اب ان کو چاہئے کہ وہ چور، ڈاکو اور غدار جیسے الفاظ کو جو غیرپارلیمانی ہی نہیں بلکہ گالی کے زمرے میں آتے ہیں ان کے استعمال کی جانب توجہ دیں۔ ادھر سابق صدر پاکستان اورپی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ سلیکٹیڈ لفظ پر پابندی کیخلاف پارلیمنٹرینز سے مشاور ت کریں گے اور پتہ کریں گے کہ حکومت ایسے لفظ پر پابندی لگا بھی سکتی ہے یا نہیں۔ چلیںآصف زرداری کی قانونی کاوشوں کے ذریعے یہ بات کھل جائے گی کہ سلیکٹیڈ لفظ غیرپارلیمانی ہے یا نہیں ہے۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ الفاظ کو غیرپارلیمانی یا پارلیمانی قرار دینا حکومت یا اسپیکر کا صوابدیدی اختیار نہیں ہے، آخر میں چلتے چلتے یہ حقیقت بھی بیان ہو جائے کہ زبردستی کی پابندیاں کبھی کارگر ثابت نہیں ہوا کرتیں، ایک مشہور واقعہ ہے کہ جسارت اخبار کے ایڈیٹر صلاح الدین مرحوم کو بھٹو مرحوم کے دور میں زندان میں ڈال دیا گیا تھا اور کوئی بیس بائیس کے لگ بھگ ان پر مقدمات قائم کر دئیے گئے تھے چنانچہ جب بھی صلاح الدین مرحوم کی عدالت میں پیشی ہوتی تو اس موقع پر ان کے چاہنے والے صحافیوں کا ایک گروپ اور دوسرے چاہنے والے بھی عدالت پہنچ جاتے تھے۔ اس موقع پر یہ حاضرین صلاح الدین مرحوم کیلئے زندہ باد اور بھٹو مرحوم کیلئے مردہ باد کے نعرے بھی بڑے جوش میں لگاتے تھے چنانچہ حکومتی وکیل کی شکایت پر عدالت کے سربراہ نے کسی کا بھی نام لیکر نعرے بازی پر پابندی لگا دی جس کے بعد سے مرحوم صلاح الدین کے چاہنے والوں نے کچھ اس طرح نعرے بازی شروع کر دی کہ نام نہ لینا مردہ باد، نام نہ لینا زندہ باد اور جب تک صلاح الدین مرحوم کی پیشیاں ہوتی رہی ایک ہجوم احاطہ عدالت میں یہ نعرہ بازی کرتا رہا کہ نام نہ لینا زندہ باد اور نام نہ لینا مردہ باد۔ اس کا بہتر طریقہ یہ تھا کہ اسپیکر ایک غیرجانبدار حیثیت کا حامل ہوتا ہے اور ایوان کے تمام اراکین کیلئے پراعتماد ہوتا ہے انہیں چاہئے تھا کہ اس بارے میں دوطرفہ افہام وتفہیم سے کوئی فیصلہ کر لیتے اگرچہ حزب اختلاف کی جانب سے اسپیکر کے روئیے پر کبھی کبھی تحفظات کا اظہار ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی اسپیکر مفاہمانہ طرزعمل سے حالات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر لیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں