Daily Mashriq

''زرد حکمرانی'' اور بیوروکریٹک چالیں

''زرد حکمرانی'' اور بیوروکریٹک چالیں

ایک مؤقر قومی اخبار میں چھپنے والی خبر نے کئی برس پہلے کے واقعات یاد کرا دیئے، خبر یہ ہے کہ وفاقی سیکرٹیریٹ میں ''پیلی پرچیوں'' کا استعمال مقبول ہونے لگا ہے، جن کے ذریعے بیوروکریسی والے بقول شخصے اپنی ''کھال'' بچانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں کہیں وہ نیب کی گرفت میں نہ آجائیں۔بعض بیوروکریٹس نے اسے ''زردحکمرانی'' کا نام دیدیا ہے اور وہ فائلوں پر ایسے لوگوں سے جو کسی بھی صورت وزیروں کے عہدوں پر فائز نہیں ہیں کہ متعلقہ وزارتیں آئینی اور قانونی طور پر وزیراعظم کے پاس ہیں۔ مگر انہیں مشیر یا خصوصی معاونین کے طور پر ''مسلط'' کیا گیا ہے، تاہم فائلیں ان کے پاس ان کی رائے معلوم کرنے کیلئے بھیجی جاتی ہیں تاکہ ان سے ملنے والی ہدایات کی روشنی میں متعلقہ بیوروکریٹس فائلوں پر ہدایات کے تحت کارروائی کرتے ہوئے حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم کو بھیج سکیں۔ اس مقصد کیلئے ان فائلوں پر زرد رنگ کی پرچیاں چسپاں کردی جاتی ہیں جن پر ہدایات طلب اور وصول کی جاتی ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں نا کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے تو بیوروکریٹس نہ صرف ان فائلوں بلکہ ان پر چسپاں کردہ پیلی پر چیوں کی فوٹو سٹیٹ کرا کے محفوظ کر رہے ہیں بلکہ ان کی موبائل تصاویر بھی اُتار کر ریکارڈ میں رکھ رہے ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں ضرورت پڑنے پر خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس خبر نے ہمیںاس دور میں پہنچا دیا ہے جب ملک میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کا دوسرا دورتھا اور انہوں نے اپنے پہلے دور حکومت کے دوران جو غلطیاں کی تھیں اور مختلف وزارتوں کی جانب سے ملنے والی فائلوں پر خود ہی احکامات تحریر کر کے دستخط ثبت کر دیتی تھیں اور اس دور میں مختلف منصوبوں میں ان کے شوہر نامدار مبینہ طور پر دس فیصد وصول کر کے مسٹر ٹین پرسینٹ کے نام سے مشہور ہوئے تھے اور بعد میں ان پر غلام اسحاق خان نے جس طرح کرپشن کے الزامات لگا کر ان کی حکوت برطرف کر دی تھی تو اس تلخ تجربے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد محترمہ نے فائلوں پر خود احکامات صادر کرنے سے احتراز کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اسی طرح زرد پرچیوں کا استعمال شروع کر دیا تھا اور ہر فائل کے اوپر ہدایات لکھنے کیلئے پرچیاں استعمال کرنا شروع کر دی تھیں جن پر متعلقہ بیوروکریٹ کارروائی کرنے کے بعد ان فوٹو سٹیٹ کاپیوں کو محفوظ کرنے لگے، البتہ پرچیوں پرAs Orderedیا Needful Doneیا پھر As per your wishجیسے الفاظ لکھ کر فائل واپس بھیج دیا کرتے تھے۔ مگر محترمہ بیوروکریٹس کی چالاکی سے دوسری بار بھی ہار گئیں اور تب تو یہ بھی مشہور تھا (دروغ برگردن راوی) کہ وہ جو پہلے دور میں مسٹر ٹین پرسینٹ کا لقب پاگئے تھے دوسرے دور میں لوگ انہیں مسٹر سینٹ پرسینٹ کہنے لگے تھے،بیوروکریسی کی انہی ''پیشہ ورانہ'' ہوشیاری کے حوالے سے ازہر درانی کہتے ہیں۔

گوالا لاکھ کھائے جائے قسمیں

مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے

خدا جانے یہ''زرد حکمرانی'' کا لفظ کہاں سے آیا ہے، ممکن ہے کھیلوں کی دنیا خصوصاً فٹ بال اور ہاکی کے کھیلوں میں ریفری کسی کھلاڑی کو رولز توڑنے یا پھر جان بوجھ کر فائول کھیلنے پر جس طرح یلو کارڈ دکھا کر کھلاڑی کو تنبیہ جاری کرتا ہے اور بار بار فائول کھیلنے پر ریڈکارڈ دکھا کر میدان سے باہر نکال دیتا ہے، اسی طرح یلو سٹیکر وہیں سے کسی کے ذہن میں آیا ہو، یعنی یلوکارڈ کی طرح یلوسٹیکر، جس کا مقصد مقتدروں کو متنبہ کرنا بھی مقصود ہو کہ اگر محترمہ بینظیربھٹو جیسی زیرک سیاستدان بھی نہیں بچ سکی تھیں تو تم تو کل کے ''بچے''ہو۔ تمہاری فائلیں بھی کل ''نیب'' کے ہاتھوں میں پہنچ کر تمہارے لئے مشکلات پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایک اور بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ ماضی میں اس ملک کے اندر یلو اور ریڈکارڈ کی طرز پر سندھ کارڈ اور پنجابی کارڈ بھی استعمال ہوتے رہے ہیں، پیپلزپارٹی نے سندھ کارڈ استعمال کرکے ''متعلقہ حلقوں اور اداروں'' کو سیاسی طور پر پریشان کئے رکھا (بلیک میل کا لفظ ہم نے جان بوجھ کر نہیں لکھا) تو جواب میں پنجاب سے جاگ پنجابی جاگ، تری پگ نوں لگ گئی آگ'' کے نعرے بلند کئے گئے، تاکہ سندھ کارڈکا مؤثر توڑ کیا جاسکے، ان کے سنگ سنگ اب کچھ عرصے سے بلوچستان کے کچھ لوگ بیرون ملک بلوچ کارڈ پر کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ بعض حلقے ''پشتین کارڈ'' کو آزمانے کے چکر میں ہیں، ایک نجی ٹی وی چینل اپنے ایک حالات حاضرہ کے پروگرام کو رپورٹ کارڈ کا نام دیکر ملکی سیاسی، سماجی بلکہ ہر قسم کے حالات پر تبصرے کروانے کیلئے ماہرین سے استفادہ کررہا ہے تاہم دنیا میں بدلتے ہوئے حالات کے تحت سب سے اچھے کارڈز تو بنکوں کے ہیں جو کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے نام سے موسوم ہیں اور ان میں بھی آگے سلور، گولڈ اور ڈائمنڈ کارڈز شامل کئے گئے ہیں، ڈیبٹ کارڈز تو خیر ہم ایسے ہمہ شما کو تب دیئے جاتے ہیں جب ان کی رقم اکائونٹس میں مو جود ہو اور کارڈ کی نوعیت کے لحاظ سے انہیںاپنی حدود میں رہنے کی اجازت دی جاتی ہے، البتہ کریڈٹ کارڈز والے فائدے میں بھی رہتے ہیں اور نقصان میں بھی، یعنی جب چاہیں، جہاں چاہیں، جتنی چاہیں رقم خرچ کر ڈالیں مگر جو لوگ اس سنہری جال میں پھنس جاتے ہیں وہ پھر ساری زندگی ''سود سمیت اصل رقم'' واپس کرنے میں ویسی ہی دشواری محسوس کرتے ہیں جیسے کہ ہم من حیث القوم آئی ایم ایف کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں