Daily Mashriq

شکائی کا بی ایچ یو، نوابوں کی مارکیٹ، کرک سمندر برد

شکائی کا بی ایچ یو، نوابوں کی مارکیٹ، کرک سمندر برد

میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ قبائلی اضلاع سے ملنے والے پیغام پر مجھے خوشی ہوتی ہے اس لئے کہ قبائلی اضلاع کے عوام جس حالات سے گزر چکے وہ دہشت گردی اور تخریب کا دور تھا۔ اب وہاں کے لوگ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، ان کے مسائل پر دکھ ضرور ہوتا ہے مگر اطمینان کا لمحہ یہ ہوتا ہے کہ کم ازکم اب وہاں کے عوام یرغمال نہیں آزاد ہیں اور ان کی سوچ منفی نہیں مثبت ہے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً چوبیس کلومیٹر دور علاقہ شکائی جسے ہم اکثر شکئی لکھتے ہیں سے ایک قاری اپنے علاقے میں سکولوں کی حالت زار اور خاص طور پر علاقے کے بی ایچ یو کے حوالے سے کافی تشویش رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی ایچ یو میں ایک ڈاکٹر اور دو لیڈیز ڈاکٹرز نام کی حد تک تو مقرر ہیں لیکن عملی طور پر وہ لوگوں کا علاج معالجہ اور خدمت کرنے کی بجائے گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں۔ قبائلی اضلاع ہی میں نہیں یہ تو بڑے بڑے قصبہ جات اور اضلاع کا بھی عمومی مسئلہ ہے البتہ پسماندہ اضلاع میں تو یہ عام اور یقینی طور پر ہوتا ہے، حکام کو بھی بخوبی علم ہے لیکن افسوس کہ سب آنکھیں موند لیتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی ڈومیسائل کی بنیاد پر ڈاکٹروں کا ان کے علاقوں میں تبادلہ اچھی کاوش ہے جس کی مزاحمت ہورہی ہے اور بعض قوانین کا سہارا لیکر ڈاکٹر اس سے بچنے کی تگ ودو میںبھی ہیں۔ حکام اور کچھ نہیں کرسکتے وسائل نہیں مشکلات ہیں تو کم ازکم جو لوگ تنخواہیں لیکر عوام کی خدمت نہیں کرتے ان کو تو ڈیوٹی کا پابند بنائیں یا پھر جواب طلبی، شوکاز اور ملازمت سے برخواستگی کی کارروائی کریں تاکہ یا تو وہ کام پر جائیں یا پھر روزگار کے منتظر نوجوانوں کیلئے جگہیں خالی ہوں۔

حیات آباد فیز6 کے نواب مارکیٹ کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہ واقعی نوابوں کی مارکیٹ ہے جہاں دکانوں کے کرائے لاکھ روپے، صارفین آنکھیں بند کر کے اشیائے صرف کے منہ مانگے دام دینے پر تیار اور دکاندار صارفین کے گلے پر کند چھری پھیرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس بارونق اور مہنگے ترین مارکیٹ میں سارے گاہک متمول نہیں آتے، بہت سے گاہک سفید پوش ملازمت پیشہ اور کم آمدنی کے حامل ہوتے ہیں جن میں سے ایک نے محولہ تبصرہ کیساتھ شکایت کی ہے کہ نواب مارکیٹ میں نانبائیوں نے روغنی روٹی پندرہ روپے کی کردی ہے۔ وزن بھی درست نہیں، ایک ہی مرتبہ پکا کر باسی روٹی بیچی جاتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ میرے خیال میں ساری مہنگائی ایک طرف جس دن روٹی کی قیمت بڑھے اس دن عام آدمی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا، نانبائی بیچارے بھی کیا کریں، آٹے اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا، نانبائیوں نے انتظامیہ کو روٹی کی قیمت بڑھانے کی درخواست بھی دیدی ہے مگر بہرحال خود سے روٹی کا نرخ بڑھانے کا کوئی جواز نہیں۔ نواب مارکیٹ میں سارے نواب نہیں آتے کا جملہ کمال کا ہے، پرائس مجسٹریٹ کو اس بھرپور طنز کو سمجھنا اور اس پر ایکشن لینا چاہئے۔ علاقے کے مکینوں کو اضافی نرخ آنکھیں بند کر کے دینے کی بجائے مزاحمت کرنی چاہئے جب تک روغنی روٹی مہنگی اور سادہ نان کی قیمت کم ہے تب تک کم ازکم روغنی روٹی کی بجائے سادہ نان ہی کھا لیں۔ صارفین جہاں بھی ہوں ان کو نرخ پوچھنے، شکایت کرنے اور آواز اُٹھانے کا رویہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ دکانداروں اور انتظامیہ دونوں کو احساس ہو۔ نواب مارکیٹ کے نواب گاہکوں سے عرض ہے کہ وہ مقررہ نرخوں سے زائد ادائیگی کرکے ریٹ خراب کرنے کا باعث نہ بنیں۔

ایک قاری نے میسج کیا ہے کہ میں ایک لسانی گروہ کے سربراہ کے حوالے سے کیوں کچھ نہیں لکھتی؟ معلومات نہیں تو وہ (قاری) مدد کریں۔ برادر قبائلی علاقوں میں خدا خدا کرکے امن کی بحالی اور دہشتگردی کے خاتمے کے بعد ابھی سکھ کا سانس لینے کا سوچا جارہا تھا کہ ایک لسانی گروہ نے بظاہر دل خوش کن اور بباطن قبائلی عوام کو گمراہ کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس حوالے سے معلومات کی کوئی کمی نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی لگی لپٹی رکھے بغیر ان عناصر کے بیرون ملک سے فنڈز لینے اور بیرونی ایجنڈا پر عمل پیرا ہونے کا بتایا ہے۔ معلومات کے حوالے سے میری رسائی ویسے بھی کافی وسیع ہے، مطالعہ بھی ہے لیکن بندہ کیا لکھے جب اپنے ہی ہموطن سرحد پار سے روابط رکھ کر اپنوں ہی کو گمراہ کرنے لگ جائیں۔ لر وبر اور ڈیورنڈ لائن پروپیگنڈہ نئی شکل میں کرنے لگ جائیں، ان کے حق میں دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ ہمارے نبی پاک حضرت محمدۖ سے جب کفار کے مظالم پر بد دعا کی فرمائش کی گئی تو آپۖ نے ارشاد فرمایا کہ موجودہ نہیں تو شاید ان کی اگلی نسلوں میں کوئی ہدایت یافتہ جنم لے۔ میری بھی بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور حکمران ان کے جائز مطالبات حل کریں اور یہ قضیہ ختم ہو جائے۔

کرک سے شاہ جہان نے ایک نہایت تلخ برقی پیغام بھیجا ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت ہم دیہاتیوں کو جینے کا حق دے اور اگر نہیں دے سکتی تو سمندر میں ڈال دے کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ بھائی آپ کی تلخی بجا لیکن زندگی کا حق نہ حکومت کا دیا ہوا ہے اور نہ ہی حکومت کسی کو سمندر برد کرسکتی ہے۔ کرک سے اس کالم میں لاتعداد برقی پیغامات میں پانی کی سخت تکلیف، سڑکوں کی شکستگی، بیروزگاری وغیرہ کے حوالے سے کافی شکایات آئی ہیں جو شامل کالم ہوتی رہی ہیں۔ صوبائی حکومت سے اتنی گزارش ہے کہ کرک کے بے آب وگیاہ علاقے کے تیل وگیس کے ذخائر کی رائیلٹی کو کم ازکم ان مفلوک الحال لوگوں پر خرچ کریں کہ یہ بیچارے موت مانگنے پر مجبور نہ ہوں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں