Daily Mashriq

تمہاری کرچیاں کوئی یہاں سمیٹتا ہے

تمہاری کرچیاں کوئی یہاں سمیٹتا ہے

زہر لگتے تھے وہ لوگ جو اسے علاج کا مشورہ دیتے یا علاج کیلئے راضی کرنے کی کوشش کرتے۔ وہ ان کا منہ نوچ لینا چاہتا تھا، ان کا گلا گھونٹ کر انہیں موت کی گھاٹ اُتارنا چاہتا تھا، منشیات کی علت نے اسے وحشی اور درندہ بنا دیا تھا، انسانیت اور انسانی ہمدردی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی اس میں،

نصیحت سنتا نہیں بے وقوف کبھی

عقل والوں کو اس کی ضرورت نہیں

عقل کل سمجھتا تھا وہ اپنے آپ کو، جبھی بہت برے لگتے تھے اسے نصیحت کرنیوالے جسے دیکھو منہ اُٹھائے چلا آتا ہے، اگر وہ غالب شناس ہوتا تو چیخ چیخ کر کہتا رہتا کہ

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا

اس سے پہلے کہ اسے نصیحت کرنے والا زاہد واعظ یا مبلغ اپنے مواعظ حسنہ پورے کر پاتا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر اس کے چنگل سے بھاگ اُٹھتا اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو کچلنے یا توڑنے پھوڑنے کے سے انداز میں گرتا پڑتا اپنے یاروں کے اس ڈیرے کی جانب چل پڑا جسے دنیا والے نفرت اور حقارت سے 'چنڈوخانہ' کے نام سے یاد کرکے ناک بھوں چڑھاتے رہتے ہیں۔ جہاں وہ سیگرٹوں کے مرغولوں میں اُڑتا کہاں سے کہاں جا پہنچتا، سگرٹ، نسوار اور چرس کے نشے کو وہ نشہ مانتا ہی کب تھا، گٹکا، صمد بانڈ اور خواب آور گولیوں جیسے کتنی نشہ آور چیزیں تھیں جو اس کی نظر میں فرسودہ ہوچکی تھیں، اسے آئس پینے کی علت میں مبتلا تھا، جس کیلئے وہ اپنی تمام تر جمع پونجی لٹانے کے بعد ہر اس دیوار میں نقب لگانے کو تیار رہتا، جس سے آئس یا میتھ کرسٹل جیسا نشہ خریدنا اور اسے خرید کر چھپے چوری پھونکنا آسان ہوجاتا، کم وبیش تین ہزار روپے گرام ملنے والی آئس خریدنے کیلئے وہ اپنے کاروبار، نوکری حتیٰ کہ بیوی بچوں تک سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا، ایک چھوٹا سا موروثی مکان تھا اسے بھی کسی کو اونے پونے میں دیکر آئس کے نشہ میں جھونک ڈالا، کچھ بھی نہیں بچا تھا اس کے پاس، وہ پھوٹی کوڑی کو محتاج ہوکر رہ گیا، لیکن اس کو اس بات کا کوئی دکھ نہیں تھا اگر دکھ تھا تو آئس کے نہ ملنے کا، جس کیلئے وہ پشاور شہر سے بھاگے ہوئے اپنے ضعیف العمر والدین کی کٹیا میں پہنچ کر ان کے دروازے پر دستک دینے کی بجائے زوردار لات مارتا، بوڑھے ماں باپ ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتے، ماں کہتی میرا لعل آگیا ہے، باپ کہتا بھاڑ میں جائے تمہارا لاڈلا، عذاب بن کر اُترا ہے ہمارے جرم ضعیفی کی پاداش میں، والد اسے برا بھلا کہہ کر کوستا تو وہ ننگی گالیاں دینے لگتا اپنے بوڑھے ماں باپ کو، گلی محلہ کے لوگ اپنے کان کھڑے کرکے سننے لگتے ہر دوسرے دن نشر ہونے والا ناخلف بیٹے اور اس کے کم نصیب والدین کا یہ دردناک ڈرامہ، کوئی جرأت نہ کرسکتا اس دہکتی آگ میں کودنے کی

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

وہ اسے کتنی بار پولیس کے حوالے کروا چکے تھے، اسے شہر کے مہنگے ترین ہسپتال میں داخل کروا کر اس کے علاج پر اپنی جمع پونجی لٹوا چکے تھے، انہوں نے این جی اوز سے بھی رابطہ کرکے اس کا علاج کروایا لیکن ان کی ساری کوششیں نقش برآب ثابت ہوئیں، باپ اپنے لاڈوں پالے ناخلف بیٹے کی زبانی ننگی گالیاں سن کر کربھی کیا سکتا تھا، وہ آنسو ضبط کر کے صبر کے گھونٹ پینے لگتا اور اپنے گورکفن میں سے کچھ رقم نکال کر اپنی بوڑھی ٹیڑھی شریک حیات کی جانب بڑھا کر کہنے لگتا، دیدو اس کم بخت کوکہ خرید لائے وہ زہر جسے وہ تریاق سمجھ کر پیتا ہے، آئس ایسا نشہ ہے جس کو پھونکنے کے بعد اس کے عادی ایک یا دو دن کیلئے زندہ ہو جاتے ہیں، اس کے بعد وہ ایک بار پھر دہشت اور بربریت کی وادی میں اُتر کر وحشی بن جاتے ہیں، ان کے دماغ کی رگیں سن ہونے لگتی ہیں اور ان کے انگ انگ سے اُٹھنے والے درد کی ناقابل برداشت ٹیسیں مرنے یا مارنے پر آمادہ کرنے لگتی ہیں، آج جب وہ چنڈو خانے پہنچا تو اس کی جیب میں پیسے بھی تھے اور وہاں آئس میتھ یا کرسٹل بیچنے والوں کا ایجنٹ بھی موجود تھا، دونوں کی آنکھیں ملیں، آنکھوں نے آنکھوں سے کچھ کہا اور پھر دونوں ایک دوسرے کے قریب آن بیٹھے، یہ کہانی فرضی یا کسی قصہ پارینہ کی نہیں، آج26 جون کی بات ہے کیونکہ آج کا دن پاکستان سمیت ساری دنیا میں انسداد منشیات کے نام سے منسوب ہے، ریلیاں نکل رہی ہیں، سیمینار ہورہے تھے لیکن ہوش والوں کی ان ساری سرگرمیوں سے بے خبر چنڈو خانوں کے مدہوش جن، بھوت، آسیب، سائے اور پریاں فضا میں پھیلے دھویں کے بادل بن کر اُڑ رہی ہیں، ہم نے منشیات زدہ لوگوں کے مفت علاج کیلئے فقیرآباد پشاور میں ہسپتال اور بحالی سنٹر کھول دیا ہے، اس کے جرم ضعیفی کی سزا میں بنتال والدین تک پہنچی مگر ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ وہاں داخل ہونے والے مریضوں نے ہسپتال کی عمارت کے شیشے توڑ ڈالے، یہ خبر سن کر اس کے بوڑھے والدین ایک بار پھر کرچی کرچی بکھر کر کہنے لگے

اسے بتانا کہ تم جہاں بھی ٹوٹتے ہو

تمہاری کرچیاں کوئی یہاں سمیٹتا ہے

متعلقہ خبریں