Daily Mashriq

قوموں کا عروج وزوال، اشرافیہ کا کردار

قوموں کا عروج وزوال، اشرافیہ کا کردار

قوموں کے عروج وزوال میں معاشرے کے بااثر افرد جنہیں عرفِ عام میں اشرافیہ کہا جاتا ہے کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ یہ صراطِ مستقیم کو اپنا لیں تو قوموں کی ڈوبتی کشتی کنارے لگ جاتی ہے لیکن اگر یہی لوگ چکربازی میں پڑ جائیں تو ٹائی ٹینک بھی ڈوب سکتے ہیں اور معاشرتی، معاشی اور اقتصادی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا، قدیم سے لیکر عصرِحاضر تک تاریخ کا سبق یہی ہے۔ ہر ایک ملک کی داستان جو غریب ہوا اور ہر وہ ملک جس نے ترقی کی رفعتوں کو چھویا کے پیچھے اشرافیہ کے کردار کی کہانی پڑھی جا سکتی ہے۔ اس وقت میرے سامنے امریکہ کا وہ عہدنامہ پڑا ہے جسے تاریخ میں ''ڈکلیئرنس آف انڈی پنڈنس'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے بڑوں نے جن چار حقوق کو انسانوں کے ناقابل تنسیخ حقوق قرار دیا ان کی پاسداری کیلئے امریکی ہمیشہ کاربند رہے۔ تیرہ ریاستوں نے برطانوی شہنشاہ کی غلامی کا طوق اُتار کر آزادی کا علم بلند کیا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بنیاد رکھی۔ یہ ریاست دورجدید کی پہلی ریاست تھی جس کو باضابطہ لکھے ہوئے معاہدہ عمرانی پر استوار کیا گیا۔ صرف سات آرٹیکلز پر مشتمل امریکی آئین پر کاربند رہتے ہوئے امریکہ نے استحکام اور ترقی کا راستہ اختیار کیا تو اس کی واحد وجہ امریکی اشرافیہ کا کردار تھا۔ جارج واشنگٹن امریکہ کے پہلے صدر بنے۔ انہوں نے دوسری مرتبہ منتخب ہونے کے بعد تیسرا صدارتی الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا حالانکہ آئین کی رو سے ان پر ایسی کوئی پابندی عائد نہ تھی۔ بعدازاں صدارتی منصب پر فائز ہونے والے ہر صدر نے ان کی روایت کی پیروی کی۔ تقریباً ڈیڑھ سوسال تک بغیر کسی آئینی پابندی کے امریکہ میں یہ روایت رہی کہ دو مرتبہ صدر رہنے والا تیسری مرتبہ صدارت کا انتخاب نہیں لڑے گا۔ دوسری جنگ عظیم کے معروضی حالات میں روز ویلٹ نے اس روایت کو توڑا تو امریکیوں نے بائیسویں آئینی ترمیم منظور کر کے تیسری مرتبہ صدر بننے پر پابندی عائد کر دی۔

جنوبی افریقہ کے عظیم صدر نیلسن منڈیلا کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ اپنی زندگی کی 29بہاریں وہ پس دیوار زنداں رہا مگر جب اقتدار ملا تو صدارت کی ایک ٹرم سے زیادہ اُس نے منصب سے چمٹے رہنا گوارہ نہ کیا۔ وہ چاہتا تو تاحیات جنوبی افریقہ کا صدر رہ سکتا تھا لیکن پھر تاریخ اس کو بیسویں صدی کے عظیم ترین رہنماؤں کی صف میں شاید شمار نہ کرتی۔

کسی ملک کی اشرافیہ قانون شکن ہو' عہد توڑنے والی ہو' کرپٹ ہو' اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو' چور اور رسہ گیر ہو' غنڈہ گردی کرنے والی اور بدمعاش ہو' جھوٹی اور بددیانت ہو' عیار اورمکار ہو' فریبی اور دغا دینے والی ہو اور پھر بھی کوئی توقع کرے کہ وہ ملک سیاسی استحکام پائے گا اور معاشی ومعاشرتی ترقی کی منازل طے کرے گا تو ایسا شخص احمقوں کی جنت میں رہنے والا ہوگا۔ ثریا کی رفعتوںکو چھونے والی اقوام اور تنزلی کے گڑھے میں گرنے والی قوموں کے بااثر افراد کے کردار میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک قوم کے بڑے اصول پسند ہوں' عہد کی پاسداری کرنے والے ہوں' سچے اور ایماندار ہوں' قانون اور آئین کی راہ پر چلنے والے ہوں' بلند اخلاق والے ہوں اوراپنی قومی ذمہ داریوںکو کماحقہ ادا کرنے والے ہوں اور وہ قوم تنزلی کا شکار ہو جائے اور اقوام عالم میں ذلیل ورسوا ہو جائے۔ ہمیشہ خودغرض قیادت نے معاشروںکو ڈبویا ہے۔ اپنے معمولی ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو قربان کرنے والی قیادت معاشروں کو تباہی سے دوچار کر دیتی ہے۔ بے عیب ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن عیبوں سے لدھی قیادت جو بضد ہے کہ اپنے عیب دور نہیں کرنے بلکہ ان عیبوں پر کاربند رہ کر اپنے مخالف کو زیر کرنے کا کام جاری رکھنا ہے سے ہم خیر کی کیا توقع کر سکتے ہیں۔ جوکام ان کے کرنے والاہے وہ یہ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ قیادت ری ایکٹو نہیں ہوتی بلکہ وہ پروایکٹو ہوتی ہے۔ یہاں فقط عمل اور ردِعمل کا منظر ہے اور اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ارادہ۔ میاں شہباز شریف نے میثاق معیشت کی تجویز دی جو دریں حالات میں ایک بہترین تجویز ہے مگر ان کی اپنی جماعت میں سے ہی ردِعمل کی نفسیات کے حامل مخالفانہ بیان داغ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی صرف حکومت گرانا چاہتے ہیں' ان کے بھی پیش نظر یہ بات نہیں کہ مل جل کر پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کی تدبیر کی جائے۔ پاکستان کو سیاسی ومعاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے جو حل تجویز کرے وہ ان کی ذات سے شروع ہو۔ جب تک قیادت اپنے مفادات کی قربانی دینے پر آمادہ نہ ہوگی اور قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح نہیںدے گی پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے۔ میثاق معیشت درحقیقت ماضی کی غلطیوں کے اعتراف' ان غلطیوں کی تلافی وازالہ اور مستقبل میں قیادت کے مثبت کردار کی ضمانت پر مشتمل دستاویز ہوگی توکام چلے گا ورنہ پاکستان آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے ادوار جیسے تیسے گزار لئے اور اپنا بوجھ اگلی حکومت کے سر لاد دیا' اب اگر تحریک انصاف بھی یہی راہ اپناتی ہے تو بتدریج ملک کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے اگر دلیری دکھاتے ہوئے اصلاح احوال کا سوچا ہے تو ملک کی بڑی جماعتوں کی قیادت کو ان کا دست وبازو بننا چاہئے اور ملک کی بقا اور خوشحالی کیلئے ان کا ساتھ دینا چاہئے مگر اے پی سی کا یہ ایجنڈا قطعاً نہیں ہوگا اور یہی بحیثیت قوم ہماری بدقسمتی ہے۔

متعلقہ خبریں