Daily Mashriq

’’ووٹ کی عزت‘‘

’’ووٹ کی عزت‘‘

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکمران پارٹی کے قائد یا سپریم لیڈر میاں محمد نواز شریف جب سے انہیں عدالت عظمیٰ نے پبلک عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا ہے ووٹ کو عزت دو کی مہم چلا رہے ہیں ۔مختلف شہروں میں جلسے کر رہے ہیں جس میں اس بیانیئے کو زور و شور سے عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔ اور خود وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت متعدد وزراء اس مہم میں میاں صاحب کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔میاں صاحب نے اس مہم کا آغاز اس شکایت کے ساتھ کیا کہ بیس کروڑ عوام کے نمائندے کو پانچ ججوں نے چلتا کر دیا۔ حالانکہ عدالتوں کے فیصلے آئین کے مطابق ہوتے ہیں عوامی مقبولیت کی بنا پر نہیں۔ یوں بھی سابق وزیر اعظم کی پارٹی کو 2013ء کے عام انتخابات میں کل ساڑھے چار کروڑ ووٹوں میں سے کل ڈیڑھ کروڑ ووٹ ملے تھے۔ اس لیے ان کا بیس کروڑ عوام کے نمائندہ ہونے کا دعویٰ محض مغالطہ آرائی ہے۔ اس جملہ معترضہ سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک طرف حکمران جماعت کے لیڈر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت ووٹ کو ’’عزت دو‘‘ کی مہم چلا رہے ہیں ، دوسری طرف وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے سینیٹ کے حالیہ انتخابات کو مورد الزام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیا چیئرمین سینیٹ لایاجانا چاہیے۔ اکثریتی ووٹ سے منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی کوئی عزت نہیں ہے۔ منتخب چیئرمین سینیٹ کے بارے میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ جملہ نقل کفر کفر نہ باشد کی دلیل کے سہارے یہاں درج کیا گیا ہے لیکن یہ جملہ نہایت نازیبا ہے اور ایوان بالا کی توہین کے مترادف ہے جو نہیں کہا جانا چاہیے تھا۔ جواز انہوں نے یہ پیش کیا ہے کہ ’’ضمیر فروشوں کے ووٹ خرید کر سینیٹ میں لائے جانے والے شخص صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنایا گیا ہے۔ ‘ان کا یہ کہنا ہے کہ ’’سینیٹ کے انتخاب میں پیسہ چلا‘‘ ،’’صادق سنجرانی ووٹوں سے نہیں نوٹوں سے‘‘ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے ہیں۔شاہد خاقان عباسی ایک ذمہ دار عہدے پر فائز ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ محض الزامات کی بنیادپر یہ کہنا کہ فلاں کی کوئی عزت نہیں اگر جرم تو نہیں تو کم از کم غیر ذمہ دارانہ رویہ ضرور ہے۔ ذمہ دار عہدے پر فائز شخص سے ایسے غیر ذمہ دارانہ رویئے کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ ایسا رویہ جمہوری اصولوں کی بھی نفی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے میڈیا میں پھیلائے گئے اس تاثر کے حوالہ سے نیا چیئرمین سینیٹ لانے کا بیان دیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلا ہے۔ ووٹ خرید کر نشستیں حاصل کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف نے تحقیقات بھی شروع کر رکھی ہیں لیکن اب تک یہ حقیقت سامنے نہیں آئی کہ کس نے ووٹ خریدا اور کس نے بیچا۔ ووٹ خریدنا اور بیچنا جرم ہے لیکن اس جرم کی سزا سنانے سے پہلے جرم ثابت ہونا چا ہیے ۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلا ہے تو یہ جرم انہی کے دورِ حکومت میں سرزد ہوا ہے۔تمام تحقیقاتی ادارے ان کے حکم پر حرکت میں آ سکتے ہیں اور وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کر سکتے ہیں کہ کتنے سینیٹرز نے ووٹ خریدے اور کتنے ارکان اسمبلی نے ووٹ فروخت کیے۔ ان رپورٹوں میں درج ثبوتوں اور شواہد کی بنا پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی عدالتی کارروائی شروع کروا سکتے ہیں۔ اور ووٹ خریدنے اور ووٹ فروخت کرنے کے مرتکب افرادکو سزا دلوا سکتے ہیں ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔بات صرف الزامات لگانے تک ہی محدودہے۔ جب فضا میں ایسا تاثر گردش کر رہا تھا کہ سینیٹ کی رکنیت کے لیے ووٹوں کی خرید و فروخت کی گئی ہے تو منتخب ایوانوں کے احترام کے تحفظ کے لیے وزیر اعظم کو اور ان کی حکومت کو ایسی تحقیقات کروانی چا ہیئے تھیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کے سپریم لیڈر نے تو ساڑھے چار کروڑ ووٹوں میں صرف ڈیڑھ کروڑ ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بیس کروڑ عوام کے مینڈیٹ کے حامل ہیں ۔شاہد خاقان عباسی تو ایک سینیٹر کے بارے میں یہ حتمی ثبوت نہیں لا سکے کہ اس نے ووٹ خرید کر سینیٹ کی نشست حاصل کی ہے اور منتخب چیئرمین سینیٹ پر الزام لگا دیا کہ وہ ووٹوں کی بجائے نوٹوں سے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔ اس طرح انہوں نے منتخب ایوانوں کے ارکان اور منتخب سینیٹرز اور چیئرمین سینیٹ کی توہین کی ہے۔ کیا یہی ’’ووٹ کو عزت‘‘ دینے کا طریقہ ہے۔ اگرچہ وہ ایک بھی سینیٹر کے نشست کے لیے ووٹوں کی خریداری اور فروخت کا ثبوت پیش نہیں کر سکے تاہم ایک استدلال یہ بھی پیش کیا جا رہا ہے کہ چھ ووٹوں کا نمائندہ کیسے چیئرمین منتخب ہو گیا۔ لیکن چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عین جمہوری طریق کار اور آئین کے مطابق ہوا ہے۔ نتائج سے پہلے کے بیانات اور نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ صادق سنجرانی کو نہ صرف بلوچستان کے آزاد ارکان نے ووٹ دیا بلکہ تحریک انصاف ‘ پیپلز پارٹی ‘ فاٹا کے آزاد ارکان اور دوسری پارٹیوں کے بعض ارکان نے بھی ووٹ دیا۔ اس طرح اکثریت حاصل کرنے کے بعد صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔ جمہوری نظام میں اقلیت کے ساتھ اگر دیگر ووٹ شامل ہو جائیں تو یہ اکثریت بن جاتی ہیں۔ اسی سینیٹ میں حکمران مسلم لیگ نے بھی اقلیت ہونے کے باوجود انتخابی اصلاحات کا بل منظور کروایا تھا ۔ اگر آئین اور جمہوری طریق کار کے مطابق ایک اقلیتی گروپ کا نمائندہ اکثریت حاصل کر کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گیا ہے تو جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اس انتخاب کو تسلیم کیا جائے کیونکہ یہ دراصل اکثریت کا ووٹ ہے جس کے بل پر یہ انتخاب ہوا ۔ مسلم لیگ ن اگر جمہوریت کی پاسداری کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے ووٹ کو عزت دینی چاہیے اور صادق سنجرانی کے انتخاب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ لیکن شاہد خاقان عباسی نے لگتا ہے یہ طے کر لیا ہے کہ جمہوری فیصلہ نہیں ماننا۔ اس کے لیے انہوں نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے کہ چیئرمین سینیٹ سب پارٹیوں کے اتفاقِ رائے سے بنایاجانا چاہیے۔ سب پارٹیاں کسی کو ووٹ دے دیں تو یہ ان کی صوابدید ہو گی لیکن آئین کہیں یہ تقاضا نہیں کرتا کہ سینیٹ کا چیئرمین سب پارٹیوں کے اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق اکثریت کے نمائندہ ہونے کے بنا پر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو چکے ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی کا استدلال ہے کہ سینیٹ چونکہ وفاق کی نمائندگی کرنے والا ادارہ ہے اس لیے اس کا چیئرمین سب سیاسی پارٹیوں کے اتفاق رائے سے بننا چاہیے ۔ لیکن چیئرمین سینیٹ جب منتخب ہو جاتا ہے تو وہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ سارے ایوانِ بالا کا چیئرمین منتخب ہوتا ہے۔ اگر یہ دلیل مان لی جائے تو صدر مملکت کا عہدہ بھی سب پارٹیوں کے اتفاقِ رائے سے تفویض ہونا چاہیے۔ وفاقی کابینہ بھی تو اکثریتی پارٹی کی ہونے کے باوجود وفاق کی نمائندگی کرتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو چیئرمین سینیٹ اور سینیٹ کے بارے میں اپنے الزامات واپس لینے چاہئیں اور ان پر قوم سے معذرت طلب کرنی چاہیے کہ ایوان بالا سب سے اعلیٰ جمہوری ادارہ ہے۔

اداریہ