کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تنخواہ

کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تنخواہ

چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب میں 56کمپنیوں کی تشکیل کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے افسروں کو دی جانے والی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیل پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ملک کو ٹھیکہ داروں کے سپرد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چیف سیکرٹری کی تنخواہ دو لاکھ روپے ہے تو اس کے ماتحت لوگوں کی تنخواہ بیس لاکھ کیوں؟ انہوں نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ لیور اینڈ کڈنی ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹروں کی تنخواہ بارہ لاکھ روپے ہے اور سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی تنخواہ دو لاکھ روپے ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں میں یہ تفاوت بہت سے سوال اٹھاتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ اس کی وجوہ اور بیان کردہ حکمت زیرِ غور لائی جائے۔تنخواہوں میں اس قدر تفاوت ملازمین میں احساس کمتری جنم لینے کا باعث بھی ہے اور معاشرہ میں مزید تقسیم کا باعث بنتا ہے ۔ تاہم تنخواہوں کا معاملہ وسیع تر غور و خوض کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ اس میں جہاں اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تنخواہوں کی نسبت پرائیویٹ سیکٹر کے عہدیداروں کی تنخواہیں کیوں زیادہ ہیں، وہاں یہ سوال بھی اہم ہونا چاہیے کہ آیا کم از کم تنخواہ کا تعین اور اس سے اوپر کے عہدیداروں کی تنخواہوں کا تعین قرین انصاف ہے۔ ہر بجٹ میں کم ازکم تنخواہ کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس وقت کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ہے ۔ ہر بجٹ کے بعد حکومت سے میڈیا میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ میں چار افراد کے کنبہ کا بجٹ بنا کر دکھایاجائے ۔ لیکن حکومت کی طرف سے اس کا جواب نہیں آتا۔ کم از کم تنخواہ کا تعین کرتے وقت مصارف زندگی کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ یہ پندرہ ہزار تو سرکاری دفتروں کے کم از کم تنخواہ پانے والوں کی تنخواہ مقرر کی جاتی ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹر میں دکانوں‘ ہوٹلوں کے ملازموں اور گھریلو ملازموں پر اس اصول کا اطلاق کرنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کی کم از کم اجرت کا کوئی تعین نہیں کیا جاتا۔ اجرتوں کے معاملے پر سرکاری اور غیر سرکاری شعبے کے اہل دانش پر مشتمل ایک گروپ کو غور کرناچاہیے جس میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ ‘ مزدوروں کی انجمنوں اور تجارتی انجمنوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جاناچاہیے۔ نہ صرف اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں میں تفاوت ناقابلِ قبول ہونا چاہیے بلکہ تنخواہوں کے نظام پر از سر نو غور کر نے، کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تنخواہ میں فرق کم کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔

اداریہ