Daily Mashriq

شکر ہے کہ نئی نسل سوال کرتی ہے

شکر ہے کہ نئی نسل سوال کرتی ہے

اکثر مواقع پر نوجوان سوال کرتے ہیں ’’ آپ لوگ (صحافی) صرف سیاستدانوں کی کرپشن کا رونا روتے رہتے ہیں‘ دوسرے شعبوں میں ہونے والی کرپشن اور اپنے طبقے (صحافت) کی کرپشن پر کیوں نہیں بولتے؟ ‘‘۔ کل شب شادی کی ایک تقریب میں روشن آنکھوں والے ایک پر عزم نوجوان نے سوال کیا۔ اگر چند درجن سیاستدان کی کرپشن کو سیاست اور جمہوری عمل کے لئے گالی بنا دینا جائز ہے تو اس اصول کا اطلاق دوسرے شعبوں پر کیوں نہیں کرتے انہیں بھی بد ترین گالیاں دیجئے اور عوام میں نفرت بھریں ان اداروں کے خلاف۔ ہر دو تین سوال اور طنز کا سامنا پہلی بار نہیں کرنا پڑا کئی مواقع سفر حیات میں اس طرح کے آتے رہے۔ سچ یہی ہے کہ چونکہ سیاستدان چکنی مٹی ہے جیسی چاہیںمورت گھڑ لیں۔ دوسرے ادارے‘ اللہ توبہ کون بات کرے۔ پچھلی شب ان سوالوں کا تجزیہ کرتے ہوئے تشکر کے جذبہ سے مالک دو جہاں کے حضور سجدہ شکر ادا کیا کہ ساڑھے چار عشروں کی قلم مزدوری میں اداروں کا بھونپو بننے یا سیاسی جماعتوں کا میڈیا منیجر بننے کی بجائے زمین زادوں کے ساتھ کھڑا رہنے کا حق ادا کرتے ہوئے بیروزگاری‘ حوالاتیں‘ جیل‘ شاہی قلعہ جیسے عقوبت خانوں کے عذاب بھگتے مگر کہا لکھا وہی جو لازم و واجب تھا۔ استاد گرامی قدر سید عالی رضوی مرحوم فرمایا کرتے تھے۔ ’’ صحافت مشن ہے فہم و آگہی کی ترویج کا منافع بخش کاروبار نہیں‘‘۔ کاروبار بہر طور ہو بھی نہیں سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ساڑھے چار عشروں کی قلم مزدوری میں دو اعزاز ہمارے حصے میں آئے۔ پہلا یہ کہ مجموعی طور پر پانچ سال جیل کاٹی دوسرا یہ کہ جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم میں سوا سال سے زیادہ لاہور کے شاہی قلعہ کے عقوبت خانہ میں وحشیانہ تشدد برداشت کیا اور پھر خصوصی فوجی عدالت سے تین سال قید کی سزا پائی۔حال ذات کی یہ چند سطور خود ستائی کے لئے نہیں بلکہ نوجوان ساتھیوں کے لئے تحریر کی ہیں کہ ہم ایسے لوگوں کا ایمان ہے کہ قلم سے آزار بند تو سینکڑوں ہزاروں لوگ ڈال لیتے ہیں حق یہ ہے کہ قلم کو ظالم طبقات کے خلاف تلوار اور مظلوموں کے لئے مدد گار بنا لیا جائے۔ جن سوالات کا ابتدائی سطور میں ذکر کیا ان کی سچائی اور سچائی میں چھپے دکھ سے مجھے قطعاً انکار نہیں اہل صحافت کے کوچہ میں ظاہری طور پر عروج انہی لوگوں کو حاصل رہا اور ہے جو ادارہ جاتی بھونپو تھے اور ہیں یا ہم عقیدہ وہم خیال جماعتوں ے میڈیا منیجر۔ ہر دو قسم کے لوگوں نے خاص ترکیبوںسے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ لوگ جمہوریت کو گالی دینے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بذات خود بھی حسن جمہوریت کے تصور کو اجاگر نہیں کر پائیں دیکھاوے کے انتخابات اور تقرریاں ( جماعتوں کے اندر) جمہوری روایات کو کیسے پروان چڑھا سکتی ہیں؟ ظاہر ہے جواب نفی میں ہوگا۔ یہ امر بھی بجا ہے کہ سیاسی عمل میں شریک سو فیصد افراد کرپٹ نہیں مگر ہمارا کتا ٹومی اور تمہارا کتا کتا والی صورتحال ہے۔ اجتماعی احتساب کے قوانین بن پائے نہ ادارہ اس پر ستم یہ ہے کہ پارلیمان کو لونڈی برابر اہمیت بھی دینے کو کوئی تیار نہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ ان قوتوں نے اٹھایا جو اپنے کجوں کو چھپانے کے لئے بلونگڑوں کے ذریعے سیاستدانوں اور سیاسی عمل کو کرہ ارض کی برائی کے طور پر پیش کرواتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کرپشن نہیں ہوئی۔ لیکن کرپشن واحد مسئلہ ہر گز نہیں اس سے سنگین مسئلہ نجی لشکر بنوانا تھا پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے اور چودھری بننے کا شوق رہا ان شوقوں کی تکمیل کے لئے اصل مالکان نے جو طریقے اختیار کئے ان پر بات کرتے ہوئے بہت سارے ساتھیوں کی زبانیں لڑ کھڑا جاتی ہیں۔ ہم میں سے بھی کسی میں ہمت نہیں کہ ایسے میڈیا ہائوس کا ذکر کریں جس نے ٹیکس ادا کرنے کی بجائے حکم امتناعی لے لیا اور پھر پورے پانچ سال پیپلز پارٹی کے کپڑے سکرینوں اورصفحات پر اتارتا رہا اور اگلے پانچ سال شریف خاندان کی میڈیا منیجری سنبھال لی۔ ادارہ جاتی کرپشن ہو یا انفرادی بہر طور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔جس چیز کو ہمارے یہاں نظر انداز کیاجاتا ہے وہ یہ ہے کہ چار بار اس ملک میں تطہیر کے نام پر فوجی حکومتیں تشریف لائیں سیاسی عمل میں ان حکومتوں کی معرفت جو سود خور داخل ہوئے انہوں نے سیاسی کلچر کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ ستم یہ ہے کہ جغرافیائی وحدت‘ سماجی اتحاد و ارتقا کی دشمن ان غاصب حکومتوں کے گیت گانے والے آج بھی ہمارے چاراور موجود ہیں۔ نظام عدل‘ تعلیم‘ صحت‘ دفاع سمیت کس ادارہ میں کرپشن نہیں کیا اس کے لئے بھی سیاست دان ذمہ دار ہیں؟ اس سوال کے جواب میں یہی عرض کرسکتا ہوں کہ اجتماعی احتساب کے سخت قوانین اور ادارے کی عدم موجودگی بہر طور سیاست دانوں کا جرم ہے لیکن ساعت بھر کے لئے رک کر ہم ایک اور سوال پر غور کرتے ہیں کیا ہمارے ملک میں آج سیاستدان کہلانے والے سیاستدان ہیں یا پھر سیاست کار؟ جمہوریت ہے یا جمہوریت کے نام پر طبقاتی نظام جیسے تطہیر کے نام پر 34 سال کی چار فوجی حکومتیں کیا ان چار فوجی حکومتوں کے سربراہوں کے خاندانوں کے اثاثے حکومتوں پر قبضہ کرنے والے چاروں آمروں کے خاندانی پس منظر اور اثاثوں سے میل کھاتے ہیں؟ معاف کیجئے گا ہم ایسے بد قسمت لوگ ہیں تین سے چار نسلیں جعلی تاریخ پر پروان چڑھا چکے اب بھی وہی جعلی تاریخ پڑھا رہے ہیں اس تاریخ کے متاثرین کے نزدیک لشکر نجات دہندہ ہوتے ہیں۔ عموماً ان سطور میں یا پھر کہیں گفتگو کے لئے بلایا جائوں تو عرض کرتا ہوں اصلاحات کا آغاز دو کاموں سے کیجئے اولاً نصاب تعلیم پر نظر ثانی اور ثانیاً دستیاب جماعتوں کے اندر جمہوری کلچرکو پروان چڑھانے سے۔ جس دن ہم نے یہ دو کام کرلئے ہمیں چند برسوں کی محنت سے تعلیم یافتہ باشعور سیاسی کارکن اور قیادت مل جائے گی وہی درحقیقت نجات دہندہ ہوگی۔ کاش خواہشیں اور امیدیں بوئی جاسکتیں اور ہم منافع بخش فصلیں اٹھاتے رہتے۔

اداریہ