الیکشن کمیشن کا ’’نادر شاہی‘‘ حکم

الیکشن کمیشن کا ’’نادر شاہی‘‘ حکم

بالآخر کم ازکم اے این پی کے مرکزی رہنماء اور این اے ون پشاور ون سے منتخب ممبر قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے تو اس مطالبے کی تائید کر لی ہے جس پر روزنامہ مشرق پشاور کے ادارتی صفحے پر چھپنے والے ادارتی تجزئیے میں راقم نے 8مارچ کو ہی الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ این اے ون کو پشاور سے چھن کر چترال لے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو تبدیل کرکے پشاور سے اس حق کو نہ چھینا جائے‘ مگر افسوس ہے کہ ماسوائے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے 8مارچ سے 23مارچ تک کسی بھی دوسری سیاسی جماعت یا سیاسی رہنماء کو یہ خیال نہ آیا کہ وہ اس مطالبے کی پذیرائی کرتے ہوئے اس میں اپنی آواز بھی شامل کرلے۔ اے این پی کے مرکزی رہنماء نے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا احمد خان کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ پشاور کے حلقہ این اے ون کا نام تبدیل نہ کیا جائے۔ پشاور شہر کو این اے ون کسی خیرات میں نہیں ملا‘ پشاور بہت پرانا تاریخی شہر ہے لہٰذا یہ نمبر چھین کر اس کی سیاسی اہمیت‘ اس کی افادیت‘ عزت اور مقام نہ چھینا جائے‘ خیبر گیٹ آف انڈیا تھا۔حاجی غلام احمد بلور نے اپنے کھلے خط میں چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی ہے کہ پشاور کی اہمیت اور افادیت وعزت کو اس کے مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے این اے ون سے محروم نہ کیا جائے کیونکہ اس نمبر کی تبدیلی سے ملک وقوم کو تو کوئی فائدہ نہیں لہٰذا پشاور کی قربانیوں کا پاس رکھتے ہوئے اسے این اے ون ہی رہنے دیں‘ اوپر کی سطور میں جس ادارتی تجزئیے کا حوالہ میں نے دیا ہے اس میں آفتاب احمد شیرپاؤ کے بیان کو بنیاد بنا کر (جو انہوں نے نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ایک عمومی اعتراض کیا تھا) این اے ون پشاور کے بارے میں جو استدلال میں نے اختیار کیا تھا اس میں پشاور کے دارالحکومت ہونے پر زور دے کر لکھا تھا کہ اصولی طور پر بھی دارالحکومت کا یہ حق بنتا ہے اور اسی وجہ سے انگریزوں ہی کے دور سے یہ اصول مسلمہ تسلیم کرتے ہوئے چونکہ یہ شہر درہ خیبر کے بعد آنے والے قافلوں اور حملہ آوروں کے پہلے پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا اور ہر حکمران نے اسی شہر کو اپنی فوجوں کیلئے بھی ایک لحاظ سے مضبوط چھاؤنی بنا رکھا تھا اسلئے اس کی اہمیت وافادیت واضح ہوتے ہوتے مستحکم ہوتی چلی گئی تھی۔ بدیں وجہ اسے ہمیشہ اولیت حاصل رہی اور اس شہر کی اس حیثیت کو ختم کرنے کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا۔ ماسوائے اس کے کہ کوئی شخص محض ذاتی اغراض ومقاصد کیلئے اس سے اس کی یہ حیثیت چھیننے پر تلا ہوا ہو۔ اس پر تو مجھے نادرشاہ یاد آرہا ہے جس نے دلی میں قتل وغارت گری اور لوٹ مار کے بعد اپنی حریص نظریں تخت طاؤس اور بالآخر محمدشاہ رنگیلا کے تاج میں جڑے کوہ نور ہیرے پر گاڑ دی تھیں۔ اس نے ایک ترکیب سوچی اور مغل بادشاہ محمدشاہ رنگیلا کو ایک دن کہا‘ کیوں نہ ہم بھائی بن جائیں۔ اس نے حامی بھری تو نادرشاہ نے فوراً اپنی عام پگڑی اُتار کر اس کے سر پر اور شاہی تاج اپنے سر پر رکھتے ہوئے کہا‘ آج سے ہم پگڑی بدل بھائی بن گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اپنی سپاہ کو تخت طاؤس اُٹھا کر ہندوستان سے ایران منتقل کرنے کا بھی حکم دیدیا۔ محمدشاہ رنگیلا کیا کر سکتا تھا کہ یہ ایک اور نادر شاہی حکم تھا اور سلطنت دلی اس سے سرمو انحراف کی پوزیشن میں نہیں تھا اور حالات کے اس جبر کو یوں واضح کیا جاتا ہے
شامت اعمال ما
صورت نادر گرفت
تو کیا پشاور کے رہنے والے بھی یہ سمجھیں کہ خدانخواستہ الیکشن کمیشن کے اندر بھی کوئی نادر شاہی حکم چلانے والا آگیا ہے جو اس شہر کے تاج میں جڑے کوہ نور ہیرے کی چکا چوند کو ماند کرنے اور اس کے سر سے اولیت کا یہ تاج چھیننے کیلئے بلاوجہ اس قسم کے احکامات جاری کر رہا ہے؟ تاہم اُمید ہے کہ درحقیقت ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اہل پشاور نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس کی اتنی بڑی سزا اس شہر کو دی جا رہی ہے کہ جمہوری دور کے اول دن سے اس کو اسمبلی حلقوں کے حوالے سے جو اہمیت حاصل ہے اسے بلاوجہ، بلاجواز کوئی چھین کر اپنی ’’انا‘‘ کو تسکین دینے پر تلا بیٹھا ہے اور اگر ایسا ہونے یا کرنے پر کوئی بضد ہے تو کل کا آنیوالا مورخ اوپر کے مشہور زمانہ شعر میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہو کر کہہ سکتا ہے کہ
شامت اعمال ’’تو‘‘
صورت ای سی گرفت
شعر میں انگریزی کے حروف ای سی سے مراد ظاہر ہے الیکشن کمیشن ہی ہو سکتے ہیں جبکہ پہلے مصرعے میں ’’ما‘‘ کی جگہ ’’تو‘‘ بھی الیکشن کمیشن کے اندر موجود اس کردار کی جانب اشارہ ہے جس نے یہ نادر شاہی حکم جاری کیا ہے جس کا جواز تو کیا تک ہی نہیں بنتی۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ بلاوجہ کسی کو آکر چھیڑا جائے اور وہ جو پشتو میں کہا جاتا ہے کہ ’’چہ کوم زے دے نہ گریگی ھسے یے مہ چھیڑہ‘‘ یعنی جہاں خارش نہیں ہو رہی ہے اسے مت چھیڑو۔ آخر اس فیصلے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز تو اہل پشاور کو بتایا جائے نا کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ اقدام ضروری تھا۔ کیا پشاور کے دیگر سیاسی رہنماء اس معاملے پر چپ کا روزہ توڑیں گے یا پھر مجھے اپنے کرمفرما خورشید ایڈووکیٹ کے کورٹ میں بال پھینکنے پر مجبور ہونا پڑے گا جنہوں نے پشاور کے مسائل کو حرز جاں بنا رکھا ہے؟۔
تری محفل میں سبھی کچھ ہے مگر داغؔ نہیں
مجھ کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا

اداریہ