Daily Mashriq


معیشت کی تصوراتی دنیا؟

معیشت کی تصوراتی دنیا؟

ملک کی اقتصادی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے مگر اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ میاں نوازشریف گوکہ سیاسی منظر سے غائب ہوچکے ہیں مگر حکومت مسلم لیگ ن کی ہے جو میاں نواز شریف کی سیاست کیلئے ہر حیلے بہانے سے راستے تلاش کرتی اور رکاوٹیں دور کرنے میں مصرف اور مگن ہے۔ خود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہہ چکے ہیں کہ اصل وزیراعظم میاں نوازشریف ہیں۔ پانچ سال دودھ اور شہد کی نہروں کی نوید اور کہانیاں سنانے والے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سرکاری خرچ پر لندن میں محو ِ استراحت ہیں۔ وہ معاشی نظام سے بظاہر الگ تو ہیں لیکن استعفیٰ دینے کو تیار نہیں مگر وہ ملک کی موجودہ اقتصادی حالت کی ذمہ داری قبول کرنے کو بھی تیار نہیں۔ میاں نوازشریف کے خیال میں نہ صرف یہ کہ پاکستان کی اقتصادی حالت میں بگاڑ کی وجہ ان کی نااہلی ہے بلکہ ان کا بس چلے تو وہ اوزون میں سوراخ اور زلزلوں اور سیلابوں کی وجہ بھی اپنی نااہلی کو قرار دیں۔ ان کے تصور کے مطابق پانامہ فیصلے سے پہلے تو ملک کی اقتصادیات راکٹ کی رفتار سے بلندی کی طرف مائل تھی۔ خدا جانے یہ کہانیاں اور افسانے اور فرضی دنیا کے نظارے کس کو دکھائے اور سنائے جا رہے ہیں۔ خود پاکستانی عوام تو اس معیشت تلے برسوں سے کراہتے رہے ہیں اور انہی کے حافظے کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اچانک پانچ روپے ریکارڈ اضافہ نے ملک کے اقتصادی مستقبل کے حوالے سے فکرمندی کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ خوشحالی اور اقتصادی استحکام کی جس خوبصورت معاشی دنیا کی تصویر کشی حکمران کر رہے تھے وہ محض خیالی اور تصوراتی ثابت ہو رہی ہے۔ اب اندازہ ہو رہا ہے کہ اقتصادیات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ محض ایک مصنوعی عمل تھا، ایک نقاب اور سراب تھا۔ یہ نقاب اور میک اپ اُتر گیا تو اب ملکی اقتصادیات کا چیچک زدہ چہرہ پوری طرح عیاں ہو گیا ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے بین الاقوامی تجارت میں ادائیگیوں کا توازن بگڑتا جا رہا ہے۔ خام تیل اور دیگر اشیاء کے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتے ہی چند گھنٹوں میں ملکی قرضوں میں پانچ سو ارب کا اضافہ ہو گیا ہے۔پاکستان کی معیشت کو سدھارنے کے ہر دعویدار نے معیشت کو آکسیجن ٹینٹ کے سہارے زندہ رکھنے کی وقتی پالیسی اختیار کئے رکھی۔ بیمار معیشت کو فی الحقیقت ایک گرینڈ سرجری کی ضرورت تھی مگر اسے اُدھار کی اینٹی بائیوٹک کے سہارے کھڑا رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ ہر حکمران کی دلچسپی صرف اپنے دور اقتدار میں عوام کو مطمئن رکھنے میں رہی۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ اس سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ اس ذہنیت کیساتھ ملکی معیشت میں پائیدار اور حقیقی بہتری کبھی نہیں آسکتی۔ ہر حکمران نے آئی ایم ایف کا پسندیدہ معاشی جادوگر اپنے ساتھ رکھا جو ہاتھ کے کمالات اور جادو کے کرشمے دکھا کر وقت گزارتا رہا۔ یہ جاودگر عالمی اقتصادی اداروں سے آسان شرائط پر قرض لیکر قوم کو خوش کرکے وقتی واہ واہ سمیٹتا رہا۔ جب وہ حکمران اور معاشی جادوگر منظر سے ہٹ جاتے تو معیشت کا سارا مصنوعی پن اور میک اپ تبدیلی کی پہلی پھوار سے دھل جاتا رہا۔ کسی بھی حکومت نے ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کرنے کی بجائے ٹیکسوں کو بڑھانے کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں افراد کے ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد چند لاکھ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اسی طرح کرنسی کو مستحکم رکھنے کیلئے مصنوعی طریقے اختیار کئے گئے جس سے مہنگائی بڑھتی چلی گئی جبکہ نئے شعبوں تک ٹیکسوں کا دائرہ بڑھانے کی طرف توجہ ہی نہیں دی گئی۔ سیلز ٹیکس، گیس اور کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ کرکے مریض جاں بلب کو چند سانسیں دی جاتی رہیں۔ کئی اشیاء پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرکے حکومتی آمدنی میں اضافے کا راستہ اپنایا گیا۔ حکومتی آمدن میں کچھ اضافہ تو ہوا مگر پیداواری شعبے میں لاگت بڑھنے سے نقصان کا گراف اس سے کہیں بلند تھا۔ اب پاکستان کو مجموعی طور پر قرض کی ادائیگیوں میں عدم توازن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملکی معیشت کیلئے یہ خطرناک صورتحال ہے۔ بلاشبہ ملک کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال نے بھی حالات کو اس نہج پر لے جانے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کیا ہوگا مگر ناقص منصوبہ بندی اور ایڈہاک ازم اس کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور ایٹمی ممالک اس طرح کی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایسے میں جب پاکستان کی صلاحیت اور وجود کے گرد مغربی طاقتوں نے سرخ دائرہ بھی کھینچ کر رکھا ہو یہ معاملہ اور بھی گمبھیر ہو رہا ہے۔ آزاد معاشی ماہرین کے مطابق اب پاکستان کے پاس مغربی طاقتوں کے اشارے پر کام کرنیوالے آئی ایم ایف کے آگے دست سوال دراز کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔ آئی ایم ایف اس کے بدلے میں کیا منوائے گا اس صورتحال سے نکلنے کیلئے غیر مقبول اور تلخ فیصلے کرنا ناگزیر ہیں تو حکمرانوں کو ان سے کسی طور گریز نہیں کرنا چاہئے۔ صنعتکاروں کو مزید رعایتیں دینا ہوں گی تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے اور اپنی منڈیوں میں اپنا مال مناسب داموں پر پہنچ سکے۔ کراچی کی بزنس کمیونٹی سے وابستہ ایک شخصیت کا یہ بیان خاصا حیرت انگیز ہے کہ سی پیک کی مبارکبادیں وصول کرنے کے بعد اس کے حقیقی مقاصد سے فائدہ تاحال اُٹھایا نہیں گیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی سرگرمی کہلانے والے اس منصوبے کے اثرات پاکستان کی ڈولتی ہوئی معیشت میں کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ پاکستان سی پیک سے پہلے بھی دست بہ کشکول تھا اور اب یہ کشکول کچھ اور بڑا اور وزنی ہو کر رہ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں