Daily Mashriq

پاکستان کے سادہ لوح عوام

پاکستان کے سادہ لوح عوام

کے عام انتخابات میں چند مہینے باقی ہیں مگر ہمارے سیاستدانوں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے ورکروں کا پارہ ابھی سے چڑھا ہوا ہے۔ ہر سیاستدان ووٹروں کو ترغیب دینے اور قد کاٹھ بڑھانے کیلئے دوسرے سیاستدانوں پر طعن وتشنیع میں لگا ہوا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے کارکن میسنجر، واٹس اپ، فیس بُک اور ٹویٹر کے ذریعے ایک دوسرے کیخلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔ ہر پارٹی کا لیڈر دوسروں کو جلسے، جلوسوں اور پبلک میٹنگز میں ہدف تنقید بناتا ہے جبکہ پارٹی ورکرز اپنے قائدین کے نقش قدم پر چل کر سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے اوپر کیچڑ اُچھالنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے۔ بعض اوقات آپس کی کشمکش، غیر سنجیدہ اور بچگانہ گفتگو انتہائی منفی اور ڈرامائی صورت اختیار کرتی ہے۔ تمام پارٹی کے ورکرز اپنے لیڈروں اور قائدین کو ولی اللہ اور دوسروں کو جاہل سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی سمجھئے یا بدقسمتی کہ ہم بہت جلدی بھولنے والی قوم ہیں۔ ہمارے ساتھ ہمارا حکمران طبقہ جو کچھ کرتے ہیں ہم وہ جلدی بھول جاتے ہیں۔ ہمارے لیڈر اور قائدین جو تقریباً 6،7ہزار کے قریب ہیں، سب اندر سے ایک ہیں اور اپنے ورکروں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے عمران خان آصف زرداری کو بُرا بھلا کہتے تھے مگر دونوں نے سینیٹ الیکشن میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو اکٹھے ووٹ دئیے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو پاکستان کے سیاستدان ہمیں رنگ ونسل، لسانیت، ذات پات پر تقسیم کرکے ہمیں لڑاتے ہیں۔ انگریزی کا محاورہ ہے Divide and rule کہ آپس میں لڑا کر ان پر حکومت کرو۔ ماسوائے نواز شریف اور بینظیر بھٹو خاندان کے سب سیاستدانوں کے آپس میں گہری رشتہ داریاں ہیں۔ پاکستان کے کم تعلیم یافتہ، سیدھے سادھے پارٹی ورکرز یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے سیاسی قائدین ایک دوسرے کے سخت حریف اور ان کیلئے رول ماڈل ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ان میں قائدانہ صلاحیتیں بالکل نہیں مگر اس کالم کی توسط سے پاکستان کے 21کروڑ عوام کو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سب ایک ہیں۔ ان کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں اور یہ ایک دوسرے کی ہر قسم کے غمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے درمیان انتہائی خوشگوار فیملی لیول کے تعلقات اور روابط ہیں۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے ورکرز اپنا جائز کام کسی لیڈر کو بتاتے ہیں تو وہی لیڈر چھپ جاتے ہیں اور اکثر وبیشتر اپنے فون کو بزی کرتے ہیں۔ ایم این اے لاجز میں یہ ایک دوسرے کے کمروں میں آرام فرما ہوتے ہیں مگر پاکستان کے عوام ان کی خاطر لڑتے ہیں۔ اس ملک میں علاج یہ نہیں کرتے، ان کے بچے پاکستانی سکولوں اور کالجوں میں نہیں پڑھتے۔ پاکستان ان کیلئے سونے کی ایک چڑیا ہے۔ یہاں یہ پیسے کماتے اور باہر ملکوں میں بھیجتے ہیں۔ ان کے اربوں روپے باہر کے اکاؤنٹس میں جمع ہیں۔ پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ کبھی سیاستدانوں کے نعروں میں نہ آئیں۔ قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کے درمیان 1960ء کے دہائی میں مقابلہ ہوا تھا مگر بدقسمتی سے میرے عزیزوں میں ایسے لوگ ہیں جن کے اب تک اختلافات چلتے آرہے ہیں حالانکہ اس الیکشن کے 57 یا اس سے زیادہ سال ہوئے۔ بعض لوگوں نے تو پارٹی کو ایک مقدس چیز کی شکل دی ہوئی ہے حالانکہ ہمارے اس تنزلی کے ذمہ دار سیاستدان، فوجی آمر اور سول افسر شاہی ہے۔ جس ملک میں وہ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے، اس ملک کے ہسپتالوں میں علاج نہیں کرتے تو ایسی لیڈرشپ سے ہم کیا توقع کیا کر سکتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان بننے کے بعد 120ممالک وجود میں آئے مگر میں وثوق سے کہتا ہوں کہ ان ممالک میں پاکستان سماجی اقتصادی اعشاریوں میں سب سے نیچے ہے۔ جنوبی ایشیاء جس میں چین، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ، بنگلہ دیش شامل ہے ان ممالک میں پاکستان ہر لحا ظ سے نیچے ہے۔ ملک لیڈر بناتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کو وہ قیادت میسر نہیں جو وطن عزیز کو آگے لے جا سکے اور افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں ایسی لیڈرشپ میسر نہیں جو ملک اور قوم کو آگے لے جا سکے۔ جو لیڈر امریکہ کے سابق صدر اوبامہ سے پرچی پر پہلے سے لکھی ہوئی تحریر پڑھیں وہ ملک اور قوم کیلئے کیا کر سکے گا۔ پہلے یونیورسٹی، کالجوں اور ٹریڈ یونینوں سے لیڈر بنتے تھے مگر اب تو طلباء یونین، فیکٹریوں اور کارخانوں میں یونین سازی نہیں جس کی وجہ سے اچھی لیڈرشپ پروان نہیں چڑھتی۔ شیخ رشید احمد، ہاشمی، سراج الحق، امیرالعظیم، مشتاق احمد خان اور ایسے ہزاروں نام لے سکتا ہوں جو ان اداروں سے پروان چڑھے۔ باربار مارشل لاء اور مطلق العنان حکومتوں کی وجہ سے اچھی لیڈرشپ وجود میں نہیں آئی۔ میں وطن عزیز کے تمام لوگوں سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان لیڈروں اور نام نہاد سیاسی جماعتوں کیلئے نہ لڑیں، نہ ایک دوسرے کو گالی دیں بلکہ آپس میں پیار وخلوص سے رہیں۔

اداریہ