Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

منورہ سے ایک سوار ایک قافلے کا پتہ پوچھتا پھر رہا تھا۔ کسی نے بتایا کہ وہ قافلہ فلاں جگہ ٹھہرا ہوا ہے۔ یہ سوار گھوڑا دوڑا کر اس جگہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ قافلہ مکہ مکرمہ روانہ ہوچکا ہے۔ اس کے چہرے پر اداسی کی ایک لہر آکر گزر گئی۔ اور وہ سرپٹ مکہ مکرمہ کے راستے پر روانہ ہوگیا۔ کچھ دیر بعد فاصلے پر اسے کچھ آثار نظر آئے۔ وہ گھوڑا دوڑا کر قریب آیا تو یہ دیکھ کر اس کا گرد و غبار سے اٹا ہوا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ یہ وہی قافلہ تھا وہ اپنے مطلوب شخص کے قریب آیا اور اس سے پوچھا۔

’’کیا مشہور شخص احمد بن طبیب سے آپ نے کپڑا خریدا تھا؟‘‘

’’جی ہاں۔‘‘ اس نے تجسس بھری نگاہوں سے نو وارد کی طرف دیکھ کرکہا۔

نووارد نے کہا۔ ’’دراصل میر ے ایجنٹ احمد بن طبیب نے آپ کو کپڑا بیچ کر جب اس کی قیمت مجھے دی تو میں نے اس سے پوچھا۔ تم نے کپڑا کس کو بیچا ہے؟‘‘

اس نے کہا۔’’ ایک مسافرکو بیچا ہے۔‘‘

میں نے پوچھا کہ کیا تم نے اس کپڑے کا فلاں عیب اس مسافر کو بتا دیا تھا؟‘‘

احمد بن طبیب نے کہا۔ ’’ وہ تو میں بھول ہی گیا۔‘‘

یہ سن کر مجھے بے حد پریشانی ہوئی اور میں نے اس پر غصہ کیا۔ وہ کہنے لگا کہ ’’ میں جان بوجھ کر نہیں بھولا۔ اس لئے میری اس غلطی کو بھول جائیے۔ میں آئندہ ایسا نہیں کروںگا۔ لیکن میں اس کے سر ہوگیا۔ اور آپ کا پتہ معلوم کرنے کو کہا۔ بڑی مشکل سے آپ کا ٹھکانہ معلوم ہوا۔ مجھے معلوم ہوا کہ آپ حاجیوں کے قافلے کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوچکے ہیں۔ میں نے یہ برق رفتار گھوڑا کرائے پر لیا اور آخر آپ تک پہنچ گیا تاکہ آپ کو بتا دوں کہ اس کپڑے میں فلاں نقص ہے۔ اس لئے آپ کو اختیار ہے کہ آپ یہ کپڑا واپس کرکے اپنے پیسے واپس لے لیں۔‘‘

مسافر کبھی کپڑے کو دیکھتا اور کبھی میلوں کا سفر طے کرکے اس آنے والے تاجر کو دیکھتا۔ وہ کچھ دیر سر جھکائے سوچتا رہا۔ آخر پھر کہنے لگا کہ ’’ کیا وہ دینار جو میں نے آپ کے دلال احمد کو دئیے تھے وہ آپ کے پاس ہیں؟‘‘

تاجر نے کہا۔’’ جی ہاں‘ یہ لیجئے۔‘‘

مسافر نے وہ دینار لئے اور دور پھینک دئیے۔

تاجر نے حیرت سے اسے دیکھا اور پوچھا۔ ’’آپ نے یہ دینار کیوں پھینک دئیے؟‘‘

اس نے کہا۔’’ وہ دینار کھوٹے سکے ہیں۔ میں غیر مسلم ہوں۔ لیکن آپ کی دیانتداری دیکھ کر میرے ضمیر نے مجھے اجازت نہیں دی کہ میں آپ کے ساتھ دھوکہ کروں۔‘‘ اس تاجر کا نام ’’خریف‘‘ تھا۔

مذکورہ واقعہ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کاروبار کا سب سے بڑا اصول دیانت داری ہے اور وہی شخص اس پر کار بند رہ سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر اور روز آخرت جوابدہ ہونے کا خوف ہو ۔

(حکایات و واقعات ص 154:)

متعلقہ خبریں