Daily Mashriq

بلاول بھٹو زرداری نیب سے خوفزدہ ہیں، اس لیے رو رہے ہیں، عمران خان

بلاول بھٹو زرداری نیب سے خوفزدہ ہیں، اس لیے رو رہے ہیں، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت بچاؤ پارٹیوں کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کے کیسز پرانے ہیں، پیپلز پارٹی نے ماضی میں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی، بلاول بھٹو زرداری نیب سے خوفزدہ ہیں، اس لیے رو رہے ہیں۔

اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اسمبلی میں کرپشن چھپانے کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرتی، بلاول بھٹو زرداری آج کل بہت شور مچا رہے ہیں جبکہ جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کی تحقیقات 2016 سے جاری ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چھوٹی مچھلیوں کو پکڑنے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی، کرپشن بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے ختم ہوتی ہے، سابق چیئرمین نیب نے کئی سیاسی افراد کے کیسز ختم کیے، تاہم بیوروکریسی کے خدشات سے چیئرمین نیب کو آگاہ کردیا ہے اور تحریک انصاف تبدیلی لانے کے لیے آئی ہے۔

بلیک میلنگ نہیں چلے گی

اپنی گفتگو میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا نواز شریف کو کس قانون کے تحت بیرون ملک علاج کے لیے بھجوائیں، انہیں صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، وہ ملک میں جہاں چاہیں علاج کرواسکتے ہیں، کیا نواز شریف کی خاطر ملک سے باہر بھیجنے کے لیے قانون تبدیل کردیں، ایسا کوئی قانون نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلیک میلنگ نہیں چلے گی اور نہ ہی این آر او ملے گا، شریف برادران 30 سال اقتدار میں رہے لیکن ایک ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں ان کا علاج ہوسکے، شریفوں کو شرم آنی چاہیے کہ ایک فیکٹری سے 30 فیکٹریاں بن گئیں لیکن عوام کے لیے کوئی بہتر ہپستال نہ بنا سکے، ان کے بچے باہر جاکر امیر ہوگئے اور قطری خط، کلیبری فونٹ سب جھوٹ نکلا۔

ساتھ ہی عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اسحٰق ڈار کے والد کی سائیکلوں کی دکان تھی لیکن ان کا علاج بھی اب لندن میں ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی

صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرا اعلیٰ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار اور محمود خان کی کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن ہوں، دونوں وزرا اعلیٰ کو تھوڑا وقت دیں، نتیجہ سامنے آجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جہاں سے آئے وہ بہت پسماندہ علاقہ ہے، عثمان بزدار سادے اور شریف آدمی ہیں، ان کا شہباز شریف سے موازنہ درست نہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اخباروں کو اشتہار دے دے کر بنے اور انہوں نے 40 ارب روپے اشتہاروں پر خرچ کیے اور پنجاب پر 12سو ارب روپے کا قرضہ چھوڑ دیا گیا جبکہ شہباز شریف نے پنجاب حکومت کے 10 ارب روپے کے چیک باؤنس کروا دیے۔

اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے 35 کروڑ روپے کا نواز شریف کا جہاز استعمال کیا لیکن عثمان بزدار کوئی فضول خرچی نہیں کرتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سیاستی جماعتیں ذاتی کرپشن بچانے کے لیے اکٹھی ہورہی ہیں، میں اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں، کنٹینر میں دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ماضی میں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی، بلاول بھٹو زرداری نیب سے خوفزدہ ہیں، اس لیے رو رہے ہیں، اپوزیشن اسمبلی میں کرپشن چھپانے کے کوئی اور بات نہیں کرتی۔

بھارتی انتخابات تک پاکستان کیلئے خطرہ موجود ہے

بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف نفرت کو سیاسی مہم کا حصہ بنایا ہوا ہے، مودی جنگی جنون میں مبتلا شخص ہے، بھارت میں انتخابات ہونے تک پاکستان کے لیے خطرہ موجود ہے لیکن ہم مکمل طور پر چوکنے ہیں۔

معاشی مشکلات ورثے میں ملیں

صحافیوں سے ملاقات میں ملکی معاشی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں معاشی مشکلات ورثے میں ملی ہیں، گزشتہ حکومت تاریخی قرضے چھوڑ کر گئی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 15 ہزار ارب روپے سے قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچادیا، میری حکومت کا قرضوں کا بینچ مارک 30 ہزار ارب روپے ہے، اگر میری حکومت اس سے کم قرض لے تو ہماری سمت درست ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک سے منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کاری پاکستان لارہے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین سے صنعتوں کو ملک میں لارہے ہیں، خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے بعد ان صنعتوں سے برآمدات کریں گے۔  

افغان حکومت کے اعتراض پر طالبان سے ملاقات نہیں کی

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی بہترین سمت میں جاری ہے، ڈومور، ڈومور کرنے والا امریکا اب ہماری تعریف کرتا ہے، امریکا اب کہتا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا، پاکستان ہی افغانستان میں کردار ادا کرستا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے رہنماؤں سے میری ملاقات طے تھی لیکن افغان حکومت کے اعتراض اور تحفظات کے سبب ان سے نہیں ملا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات اور وہاں کے مسئلے کا حل ایک غیرجانبدار عبوری حکومت کا قیام ہے، طالبان عبوری حکومت سے مذاکرات کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں