Daily Mashriq

باقی دو صوبوں کو کون منائے گا؟

باقی دو صوبوں کو کون منائے گا؟

خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومتوں کی قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے این ایف سی میں اپنے حصے کے وسائل سے تین فیصد دینے پر رضامندی کافی نہیں اور نہ ہی حکومت کو اس پر اکتفاء کرنا چاہئے بلکہ دیگر دو صوبوں کی رضامندی کے بعد قبائلی اضلاع کیلئے پوری رقم مختص ہونی چاہئے۔ بہرحال جب تک سندھ اور بلوچستان کے حکومتوں کی رضامندی حاصل نہیں ہوتی تب تک دو صوبوں سے قبائلی اضلاع کو فنڈز ملیں گے۔ قبائلی اضلاع کو این ایف سی ایوارڈ میں ملک کے چاروں صوبوں کے حصے میں سے تین تین فیصد حصے کی ادائیگی موجودہ حکومت کا فیصلہ نہیں بلکہ اس پر گزشتہ حکومت میں بھی اصولی طور پر اتفاق کر لیا گیا تھا اس ضمن میں دو صوبوں کی رضامندی کے بعد دیگردو صوبوں کی جانب سے لیت ولعل کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ بہرحال اس ضمن میں اتفاق رائے کا حصول حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم عمران خان اور وزیرخزانہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس ضمن میں کوئی پیشرفت اس لئے نہیں کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی طرح مرکز میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ پارٹی سربراہ اور وزیراعظم کی ہدایت اور منشاء کے پابند ہیں جبکہ سندھ میں حکمران جماعت اور حکومت سے مرکز کے تعلقات کی نوعیت کچھ اچھی نہیں۔ بلوچستان کی حکومت اور وزیراعلیٰ سے اس ضمن میں رابطہ کر کے ان کی رضامندی حاصل کی جائے تو سندھ کی حکومت کے پاس روگردانی کا جواز نہیں رہے گا اگرچہ یہ معاملہ اصولی معاملہ ہے اور اس میں پیچیدگی کی کوئی وجہ نہیں لیکن سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کے تحفظات اور ممکنہ انکار بھی غیرمتوقع نہیں جس سے فاٹا کے انضمام کا پورا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ فی الوقت حکومت کی جانب سے دو صوبائی حکومتوں کے حصے کی رقم ضم شدہ اضلاع کو دینے کے عندیہ سے ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں حکومت کو اس ضمن میں کسی خاص پیشرفت کی توقع نہیں کم ازکم رواں مالی سال اور آئندہ بجٹ تک بقیہ دو صوبوں کی جانب سے رقم کا حصول ممکن نظر نہیں آتا جس کے بعد حکومت کے پاس اپنے پاس سے وسائل کی فراہمی اور دو صوبوں کے فراہم کردہ وسائل ہی کو ضم شدہ قبائلی اضلاع پرخرچ کرنے کا راستہ بچتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں حکومت کو جلد سے جلد ان دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کیساتھ بات چیت کرنے اور این ایف سی ایوارڈ میں ان کو بھی حصہ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی سنجیدہ مساعی کی ضرورت ہے تاکہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی کام اور عوامی مسائل کا حل فنڈز کی عدم موجودگی کے باعث متاثر نہ ہوں۔ جب تک اتفاق رائے کی صورت نہیں نکلتی تب تک وفاقی حکومت کو اپنے پلے سے وسائل دے کر قبائلی اضلاع کے مسائل کا حل اور مشکلات کا ازالہ کرنے کی مساعی کی ضرورت ہے۔ اس وقت تو صرف قبائلی اضلاع میں انضمام کی پہلی اینٹ ہی رکھی گئی ہے جس پر مکمل عمارت کھڑی کر نے پر خطیر سے بھی زیادہ وسائل کی ضرورت ہوگی۔ اگرچہ قبائلی اضلاع میں سابقہ فاٹا کی بنیادی اساس موجود ہے لیکن اگر حقیقت میں اس کا جائزہ لیا جائے تو اس کی حقیقت برائے نام سے زیادہ کچھ نہیں، یہاں تک کہ قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے اداروں کے دفاتر بھی ان علاقوں میں موجود نہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو جملہ قبائلی اضلاع میں ازسرنو بنیادی اساس کا قیام اور موجود برائے نام بنیادی اساس کو بہتر اور مربوط بنانے کی ضرورت ہے جو خطیر وسائل کے بغیر ممکن نہیں۔ فی الوقت کی صورتحال میں قبائلی اضلاع کے انتظامی اخراجات ہی کیلئے وفاقی حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے تاکہ خیبر پختونخوا کی حکومت اس بار کو اُٹھانے کی متحمل ہو۔ وفاقی حکومت قبائلی اضلاع کیلئے مزید دس ارب روپے کا فنڈز جاری کرنے پر بھی مشاورت کرری ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کیلئے قبائلی اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی آئندہ چند روز میں فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قبائلی اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا جاسکے۔ وفاق کی جانب سے فنڈز کے اجراء میں تاخیر اور فنڈز کی کم فراہمی خارج ازامکان نہیں اس صورت میں خیبر پختونخوا کے خزانے اور وسائل پرجو بوجھ پڑے گا اسے اٹھانا صوبے کیلئے شاید ہی ممکن ہو۔ ایک ایسے وقت میں جب خود صوبائی حکومت کا بجٹ بجلی کے خالص منافع کی رقم کے عدم اجراء سے غیرمتوازن ہوچکا ہے وفاقی حکومت نے محض 25ارب روپے جاری کر کے بقیہ رقم کی آئندہ میزانیہ سے قبل جاری کرنے سے پیشگی معذرت کر لی ہے، ایسے میں قبائلی اضلاع کا بار بھی پڑے تو صوبہ اس بوجھ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وفاقی حکومت جتنا جلد این ایف سی کا اجلاس طلب کر کے قبائلی اضلاع کیلئے باقاعدہ اور مجوزہ حصہ مختص کر کے ان اضلاع کے حصے کی رقم کی فراہمی شروع کرواسکے اتنا بہتر ہوگا بصورت دیگر انضمام کے بے معنی اور لاحاصل ہونے کا خدشہ ہے جو مزید تضادات کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں