Daily Mashriq

پہلے حقائق معلوم کئے جائیں

پہلے حقائق معلوم کئے جائیں

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سندھ میں ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغواء اور جبری مذہب تبدیلی کے معاملے کا اب تحقیقات کے نتائج کے آنے تک انتظار کیا جانا چاہئے جبکہ دوسری جانب لڑکیوں نے عدالت سے رجوع کر کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ان کیساتھ جبر ہوا ہے۔ بہرحال ہر دو صورتوں میں معاملے کی تحقیقات تک اس مسئلے کو نہ تو اچھالنا مناسب ہوگا اور نہ ہی اسے منافرت کا ذریعہ بنانے کی ضرورت ہے۔ سندھ میں یہ پہلا واقعہ نہیں قبل ازیں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہے ہیں اور تحقیقات کے بعد عدالتوں اور انتظامیہ کی طرف سے معاملات کو قانون کے مطابق طے بھی کئے جاتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ بعض عناصر اور خصوصاً بھارتی میڈیا اور حکمران اس قسم کے واقعات کو ہمیشہ ایک خاص تناظر میں دیکھتے ہیں اور اسے پروپیگنڈے ومنافرت کا ذریعہ بناتے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں۔ اولاً یہ مقامی نوعیت کا معاملہ ہے اور اس قسم کے واقعات ہر معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ایک مقامی نوعیت کے معاملے پر اتنا ہوا کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ وزیراعظم اور اعلیٰ عدالتیں اس کا نوٹس لینے پر مجبوری ہو جاتی ہیں۔ بہرحال چونکہ یہ معاملہ اقلیتی برادری کا ہے اس تناظر میں اس معاملے میں سنجیدگی اختیار کرنے میں حرج نہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ضرور ہے کہ آخر لڑکیاں اس اقدام پر کیوں مجبور ہوتی ہیں اور اس کا تدارک وحل کیا ہے لڑکیوں کی عمر کے بارے میں جو متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں اس کی تصدیق کے بعد ہی اس واقعے کی نوعیت کا تعین ہو سکے گا۔ اس قسم کے واقعات کی رپورٹنگ کی مخالفت نہیں کی جاسکتی البتہ احتیاط کا مشورہ دینا مناسب ہوگا تاکہ معاشرے میں غلط فہمی نہ پھیلے۔ بہتر ہوگا کہ اس ضمن میں اصل حقائق سامنے آنے تک کوئی رائے زنی نہ کی جائے اور حقائق کے سامنے آنے کے بعد اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار وعمل تسلی بخش نہ ہو تو انصاف کیلئے دہائی دی جائے اور عدالت سے رجوع کیا جائے۔

خصوصی افراد کی محرومیاں، افسوسناک حقیقت

خیبر پختونخوا میں ذہنی وجسمانی معذوری کے شکار بچوں کیلئے تعلیمی اداروں میں سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کا فقدان خاص طور پر توجہ طلب مسئلہ ہے۔خیبر پختونخوا میں خصوصی بچوں کیلئے تعلیمی اداروں میں سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی ہی مسئلہ نہیں بلکہ صوبے میں خصوصی افراد کو کوئی سہولت میسر نہیں اور نہ ہی سوشل ویلفیئر سمیت دیگر ادارے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں تومبالغہ نہ ہوگا۔ خصوصی افراد کی ہمارے معاشرے میں قدر ومنزلت کا سوال بہت تکلیف دہ ہے اس سے بڑھ کر بدقسمتی کیا ہوگی کہ بجائے اس کے کہ ان کو مناسب سہولیات اور تعلیم دے کر ان کو معاشرے کا کارآمد اور برابر کا شہری بنا دیا جائے ان کو روزگار وکاروبار اور تعلیم وعلاج کی مطلوبہ وموزوں سہولیات فراہم کی جائیں معاشرے میں ان کو افسوسناک طور پر طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو دوسری جانب حکومتی اداروں کا کردار وعمل بھی معاشرتی کرداروں سے زیادہ مختلف نہیں۔ خصوصی افراد کسی طرح بھی عام لوگوں سے صلاحیت اور سوجھ بوجھ میںکمتر نہیں بلکہ قدرت نے ایک کمزوری کے بدلے میںکئی دیگر خوبیوں اور صلاحیتوں سے نواز دیا ہوتا ہے جس کا موقع ملنے پر جو مظاہرہ سامنے آتا ہے وہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ خصوصی افراد باصلاحیت ہیں جن کو مناسب سہولتیں اور مواقع مہیا کرکے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کو خصوصی افراد کی محرومیاں دور کر کے ان کی صلاحیتوںسے کام لینے میں اب تک ہونے والی کوتاہی کا ازالہ کرنے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خصوصی افراد کی امداد کیلئے جو وسائل سوشل ویلفیئر کی نظامت کو دیئے جاتے ہیں بہتر ہوگا کہ ان کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے اور خصوصی افراد سے اس امر کی تصدیق ہونی چاہئے کہ ان کو حقوق مل رہے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دی جارہی ہے یا پھر زبانی جمع خرچ ہورہا ہے۔ جامع تحقیقات کے بعد سامنے آنے والی تفصیل اور نتائج چشم کشا ہوں گے۔

پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی احسن اقدام

ڈرائیوروں سے پیسے لینے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف ویڈیو وائرل ہونے پر کارروائی کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ تھا لیکن بہرحال سی سی پی او کا اقدام اور معاملے کی مزید تحقیقات ہی قانونی طریقہ اور قانون کا تقاضا تھا جسے پورا کیا جانا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ناکہ بندیوں پر موجود پولیس اہلکاروں کی خفیہ نگرانی اس صورت میں احسن ہوگی جب اس کے نتیجے میں کارروائی بھی کی جائے۔

متعلقہ خبریں