Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ابراہیم مہدی ایک مرتبہ خلیفہ مامون کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت مامون کے پاس علماء کی ایک جماعت علمی بحث ومباحچے میں مشغول تھی۔ مامون نے پوچھا: اے مہدی! یہ علمائے کرام جن مسئلوں میں بحث ومباحثہ کر رہے ہیں، ان کے متعلق تمہیں کچھ علم اور ادراک ہے؟

مہدی نے عرض کیا: اے امیرالمومنین! ان علماء نے ہمیں بچپن میں مشغول رکھا (پڑھایا،لکھایا) اور بڑے ہو کر ہم خود ہی (حکومت کی ذمہ داری میں) مشغول ہوگئے۔ (پھر مسئلے کی تحقیق کا ہم سے کیا واسطہ؟) خلیفہ مامون نے پوچھا: آج کل تعلیم کیوں نہیں حاصل کرتے؟ مہدی: کیا میری عمر کا آدمی اب علم اچھی طرح سیکھ سکتا ہے؟

خلیفہ مامون: ’’ہاں، خدا کی قسم! علم کی طلب میں تیری موت آجائے، یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تو جہالت پر قناعت کر کے زندگی بسر کرتارہے‘‘۔

مہدیؒ: میں کب تک اچھی طرح علم حاصل کرسکتا ہوں؟ خلیفہ مامون: جب تک تیری زندگی تیرے ساتھ وفا کرے۔ بصرہ کی مرکزی مسجد حضرت محمد بن واسع ازدیؒ کی علمی مجلس کی وجہ سے علم وفقہ کے طالب علموں کے لئے مدرسہ اور ٹھکانہ بنی ہوئی تھی۔ تاریخ وسیرت کی کتابیں اس مجلس کی داستان سے بھری پڑی ہیں، اہل مجلس میں سے ایک شخص نے آپؒ سے کہا: ’’مجھے کوئی نصیحت کیجئے‘‘ فرمایا: ’’میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو دنیا وآخرت کا بادشاہ کیسے بن جا‘‘۔ سوال کرنے والا حیرانی سے پوچھتا ہے: جناب یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا: ’’جو کچھ لوگوں کے قبضے میں دنیا کا مال ہے، اس سے بے غرض ہو جاؤ، تو تم دنیا کے بادشاہ ہوگے۔ (لوگوں کی چیزوں کی طرف ان کے مالوں کی طرف لالچی نظروں سے مت دیکھو) اور جو کچھ حق تعالیٰ کے ہاں آخرت میں ہے، اسے اپنے عمل سے حاصل کرنے کی کوشش کرو تو آخرت کے بادشاہ بن جاؤگے‘‘۔ اہل مجلس میں سے ایک شخص نے کہا: ’’جناب! میں آپ سے خدا کی رضا کیلئے محبت کرتا ہوں‘‘۔ فرمایا: ’’خدا آپ سے محبت کرے، جس نے آپ کو اپنی خاطر مجھ سے محبت کرنے کی توفیق عطا کی‘‘۔ پھر وہ شخص یہ کہتا ہوا چلا گیا: ’’الہٰی! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ تیرے لئے محبت کی جائے اور تو مجھ سے ناراض ہو۔ الٰہی! تو مجھ سے راضی ہو جا، میرے گناہ بخش دے‘‘۔

بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک عابد ریت کے ٹیلے پر سے گزرا، دل میں کہنے لگا کہ اگر یہ ٹیلہ آٹے کا ہوتا تو میں بنی اسرائیل کو جو اس وقت قحط میں مبتلا ہیں، خوب پیٹ بھر کر کھلاتا، رب تعالیٰ نے اس وقت کے نبی پر وحی فرمائی کہ فلاں شخص سے یہ کہہ دو کہ رب تعالیٰ نے تیرے لیے وہ اجر لکھ دیا ہے جو تو ٹیلے کی مقدار آٹا صدقہ کر کے حاصل کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے ایک اچھی نیت کی تو رب تعالیٰ نے اس کی اچھی نیت پر اور مسلمانوں پر شفقت اور مہربانی کے جذبہ پر اسے اجر عطا فرمایا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ مسلمانوں کیلئے شفیق اور مہربان ہو کے رہے۔

متعلقہ خبریں