Daily Mashriq

آسڑیلیا اور دہشت گردی

آسڑیلیا اور دہشت گردی

نیو زی لینڈ میں 15 ما رچ کودومساجد میں ہو نے والی دہشت گردی جس کے نتیجے میں پچا س مسلما ن شہید ہو گئے تھے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیاگیا ہے ، اس مو قع پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آ رڈرن نے کہا کہ سانحے کی تحقیقات نیو زی لینڈ کے قانو ن کے تحت سب سے طا قتور رائل کمیشن کرے گا جو اس بات کی تحقیقات کر ے گا کہ آیا خفیہ ادارے اورپو لیس حکام پند رہ ما رچ کو ہونے والے اس حملے کو روک سکتے تھے یا نہیں ، ما ضی میں پا کستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہو تے رہے ہیں لیکن مشاہد ات یہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات رونما ہو نے کے بعد خفیہ اور حفاظتی ادارو ں کی جا نب سے اس مبینہ دہشت گردی کے بارے میں دعویٰ کیا جا تا کہ ان کو پہلے سے اس دہشت گردی کے بارے میں علم ہو چکا تھا اور اس بارے میں ہائی الرٹ بھی کر دیا گیا تھا مگر اس کے باوجو د کسی کی طر ف سے یہ استفسار نہیں کیا گیا کہ جب پہلے سے علم ہو گیا تھا تو اس کی روک تھا م کے لیے اقدام کیا ہوئے ۔پاکستان میں دو طر ز کی دہشت گردی ہوئی ہے ایک تو واضح طور پر تھی یعنی جب سوویت یو نین کی جا نب سے افغانستان میں مداخلت کی گئی اس زمانے کی دہشت گردی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی سب جا نتے تھے کہ اس میں کون ملوث ہے بعدا زاں امریکا کے افغانستان میںگھس بیٹھنے کے بعد جو دہشت گردیاں ہو ئیں وہ بھی عیا ں رہیں تاہم کچھ دہشت گردیا ں مذہبی فر قہ وارانہ ہوئیں ان کے بارے میں کوئی طاقت ور کمیشن قائم نہیںکیا گیا کہ ان دہشت گردی کے واقعات کی پشت پر کونسی قوتیں کار فرما رہی ہیں ۔ نیو زی لینڈکی وزیر اعظم نے ایک اور اہم بات یہ کہی ہے کہ نیو زی لینڈ کی حکو مت کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ جا نے کہ کس طرح ایک شخص حملے میں پچا س افراد کو قتل کر سکتا ہے ۔انہو ں نے کہا یہ ضروری ہے کہ ہم یہ جا ننے میں کوئی کسر نہ چھو ڑ یں کہ دہشت گردی کا واقعہ کس طرح رونما ہو ا اور ہم اسے کس طرح روک سکتے تھے ، کیو ں کہ حملے کے بعد نیو زی لینڈ کے خفیہ ادارو ں کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے اور ان کے قانو ن نا فذ کرنے والے ادارو ں کی اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔وزیر اعظم جیسنڈا نے صحافیو ں سے گفتگو میںیہ بھی کہا کہ نیو زی لینڈ ایسی ریاست نہیں جس میں ہر کسی کی ہر وقت نگرانی کی جا تی ہو لیکن ہمیں ہر حال میں سوالا ت کا جو اب دینا ہوگا ۔ان کے اس بیان نے واضح اشار ہ کیا ہے کہ ان کو عوام کے سامنے جو اب دہی کا پوری طرح احسا س ہے ۔نیو زی لینڈ کی حکومت خا ص طور پر وزیراعظم جیسنڈا نے جو عظیم کر دار ادا کیا ہے اور جس برد باری سے مسلمانو ں کی دلجوئی کا مظاہر ہ کیا اس سے مسلم امّہ کے دل جیت لیے ہیں۔ نیوزی لینڈ کا کر دار یو رپ اور امریکا کے لیے ایک عمد ہ مثال ہے ۔مغربی دنیا نے اسلا م کا چہر ہ مسخ کر رکھا تھا اور اپنے مقاصد کے لیے مسلم دنیا کے بارے میں بڑے وحشیانہ اور ہیبت نا ک تاثر قائم کر رکھے تھے کہ مسلم دنیا کے پا س اس کے توڑ کے لیے کوئی سکت موجود نہ تھی ، مگر نیو زی لینڈ اور ان کی وزیر اعظم نے جو کر دار مسلم امّہ کے لیے اس المنا ک سانحہ کے موقعہ پر کیا اس نے دنیا پر مسلمانو ں کے بارے میں تما م قبیح عقائد و خیا لا ت اور گما ن کو یکسر مٹا کررکھ دیا ، جو کا م مسلمانو ں کے لیے نیو ز لینڈ کی وزیر اعظم کر گزری ہیں اس کا نہ تو کوئی ثانی ہے اور نہ ایسا کرنے کی خودمسلم قیادت میں صلاحیت ہے ۔ نیوزی لینڈ کی38سالہ خاتون وزیراعظم مارمن مسیحی فرقے میں پید ا ہوئیں لیکن اب خود کو لاادری (agnostic) قرار دیتی ہیں یعنی کسی خاص عقیدے سے وابستہ نہیں ہیں۔ اس سے دنیا بھر میں خود کو روشن خیال کہلانے والے افراد اور گروہوں کو یہ قابل تقلید پیغام ملا ہے کہ روشن خیالی دوسروں کے عقائد کی تحقیر کا نام نہیں بلکہ ہر فرد کے حق عقیدہ کا غیر مشروط احترام کرنے کا نام ہے۔ روشن خیالی کا اعلیٰ ترین درجہ یہی ہے کہ ہمیں عقیدے کے کسی اختلاف سے قطع نظر ظلم، ناانصافی، امتیاز، تفرقے اور تشدد کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہونا چاہئے۔ اب اپنے وطن کے احوال و واقعات پر نظر ڈالنی چاہئے۔نیو زی لینڈ کے شہر کر ائسٹ چرچ کا سانحہ ایک اوراہم امر کی جانب نشاندہی کرتا ہے کہ جب سے یہ واقعہ ہو ا ہے اس بارے میں بعض قوتیں اپنے عزائم کے لیے طر ح طر ح کی اصطلا حات کا استعمال کر کے دنیا کو اپنی مطلب براری کا تاثر دینے کی سعی بد کر رہی ہیں۔کبھی کہا جا تا ہے کہ یہ اسلا م فوبیا ہے تو کبھی سفید فام دہشت گردی کی اصطلا حا ت کا استعما ل کیا جا تا ہے ، کبھی کہا جا تا ہے کہ یہ دہشت گردی نسل پر ستی کا شاخسانہ ہے حالا نکہ جس منصوبہ بندی سے یہ دہشت گردی کی گئی ہے اس کا مقصد کوئی پو شید ہ نہیں بلکہ یہ مذہبی منا فرت کی بنیا د پر کی گئی ہے۔ واضح الفاظ میںکہا جا سکتا ہے کہ مذہبی دشمنی اوروہ بھی اسلا م سے ۔لیکن اس سب کے باوجو د یہ جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک نے آسڑیلیا کو مو رد الزام نہیںٹھہرایا کہ نیو زی لینڈ میں دہشت گردی کے لیے آسڑیلیا کی زمین استعمال ہوئی ہے جب کہ پوری دنیا جا نتی ہے کہ بینٹن ٹرنٹ آسڑیلیا کا باشندہ ہے وہا ں ہی سے نیو زی لینڈ آ یا تھا ْ۔ ہر شخص جا نتا ہے کہ بینٹن کا یہ فعل انفرادی ہے ، چنا نچہ کسی نے کسی ملک کو کوئی الزام نہیں دیا ، نہ دباؤ ڈالا ۔ لیکن پاکستان کی خا رجہ پا لیسی کی کتنی کمزوری ہے کہ افغانستان میں کوئی واقعہ رونما ہو جا ئے یا بھارت میں کشمیر حریت پسند جو وہا ں کے مقامی ہیں اپنی جدوجہد کے لیے کوئی قدم اٹھا تے ہیں تو بھارت پا کستان کے خلا ف واویلا شروع کر دیتا ہے ، ساتھ ہی امریکا ، برطانیہ ، فرانس جیسے ملک بھی پاکستان پر دباؤ ڈالتے ہیں ، نیو ز ی لینڈ ان کے لیے عمدہ مثال ہے کہ نیو زی لینڈ کی حکومت نے کسی کوبھی نہیں رگیدا بلکہ اپنی ذمہ داریو ں کو قبول کیا اور ایک بہترین اور مثبت رویہ اختیا رکر کے دنیا کو امن و سلامتی کا مثبت راستہ دکھایا کہ ایسے سانحات پر سیا سی عزائم حاصل کرنے سے گریز کر کے حقائق کی بنیا د پر ہی امن اور آشتی قائم ہوسکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں