Daily Mashriq

پاکستان کو ایک نئے میثاق حکمرانی کی ضرورت ہے

پاکستان کو ایک نئے میثاق حکمرانی کی ضرورت ہے

تقریباً ربع صدی قبل کا واقعہ ہے،سنگاپور کے اُس وقت کے وزیر اعظم، لی خوان یو نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا ۔ میں نے پاکستان اور سنگاپور کے اقتصادی تعاون کی ضرورت اور اس کے نتیجے میں مشرقی ایشیائی منڈیوں میں موجودترقی کے مواقعوںکو اُجاگر کرنے کے لیے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس کے بعد اُنہوں نے مجھ سے پوچھا ، پاکستان اپنے پاس موجود ترقی کے بے پناہ مواقعوں سے استفادہ کیوں نہیں کرتا؟ اور اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا، وہ خود ہی گویا ہوئے، کہنے لگے پاکستان میں سیاستدانوں کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اپنا طرز حکمرانی بہتر کرنے کی بجائے سال کے365 دن راج نیتی کا کھیل ہی کھیلتے رہتے ہیں۔ یہاں جو الیکشن جیت کر حکومت میں آجائے وہ اپنے اقتدار کی حفاظت اور اس کے خلاف ممکنہ سازشوں کے خوف میں ہی دبکا رہتا ہے اور جنہیں الیکشن ہارنے کے بعد اپوزیشن کی ذمہ داری ملتی ہے۔ وہ اپنا تمام وقت حکومت گرانے یا اسے کمزور کرنے کے منصوبوں ہی میں صرف کر دیتے ہیں۔ وہ کہنے لگے، بھلا ایک ملک، جہاں حکومت اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کا معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے،اپنا تمام تروقت اور توانائی اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوششوں میںہی صرف کر دے، تووہاں کیسے ترقی و خوشحالی ممکن ہو سکے گی؟اس بات کو قریب پچیس برس بیت چکے، لیکن اب بھی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں سیاستدانوں کی ترجیح اول حکمرانی کی بجائے سیاست ہی رہی ہے اور تمام تر قومی پالیسیاں ملکی مفادکی بجائے اہل اقتدار اور بااثر گروہوں کی منشا و مفاد کو پورا کرنے کے لیے تشکیل دی جاتی رہیں۔ البتہ یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ ہم اس قدر ناقص طرز حکمرانی کے متحمل کیسے ہوئے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے ہاں دی جانے والی وہ ناقص تعلیم ہے جس میں ہمیں ہمیشہ قرون وسطیٰ کے فاتحین اور حکمرانوں کے قصیدے پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ ہماری ذہن سازی ہی ان حاکموں کو ایک مثال بنا کر کی جاتی رہی ۔جبکہ ان کے بارے لکھے اور پڑھائے جانے والے واقعات کا حقیقت یا تحقیق سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور ان کی اکثریت فقط لکھنے والوں کی ذہنی اختراعات ہیں۔ ان قصیدوںمیں ایسے حاکموں کی ہمیشہ ہی بڑائی کی گئی جن کے اقتدار کا کل مقصد اپنے ذاتی مفاد کا تحفظ تھا۔ جن کے دور میں قانون نام کی کوئی شے نہیں تھی اور حاکم کی ذاتی رائے اور مفاد ہی قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔ جہاں عوام کو رعایا کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور ان کی ضروریات بخشش یا خیرات کے ذریعے پوری کی جاتی تھیں۔ گویا یہاں عوام کے حقوق کا کوئی وجودہی نہیں تھا کہ تمام تر طاقت و وسائل حاکم کی ذاتی ملکیت ہوا کرتے تھے اور معاشرتی ترقی کا تصورتک نہیںپایاجاتا تھا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی ٹھیک یہی طرز حکمرانی ہمارے میں رچا بسا ہے جہاں صاحبین اقتدار عوام کی خوشحالی و ترقی کو اپنا نصب العین بنانے کی بجائے انہیں رعایا سمجھتے ہیں اور اپنا طرز حکمرانی بہتر کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مفاد کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

قرون وسطیٰ کے اس طرز حکمرانی کی بدولت دنیا کی ترقی کی رفتار اس قدر سست رہی کہ اسے اپنے جی ڈی پی کودوگنا کرنے میں ایک ہز ار برس کا عرصہ لگ گیا۔ پاکستان میں بھی پچھلے چالیس برسوں میں مختلف نئے ناموں کے تحت یہی ناقص طرز حکمرانی مسلط رہا ہے اور اب بھی یہاں اقتدار کے بھوکے، طاقت ور گروہ اسی نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ،قطع نظر اس کے کہ اسی ناقص طرز حکمرانی کی بدولت پاکستان آج بھی انسانی خوشحالی اورمعاشی ترقی کے تمام تر اعشاریوں کے مطابق ایشیائی ممالک میںسب سے پیچھے ہے جبکہ دنیا ہم سے بہت آگے جا چکی ہے۔ جس شرح نمو کو دوگنا کرنے میں ہم ہزار برسوں کے بعد کامیاب ہوئے، دیگر ممالک اپنی عوام دوست پالیسیوں اور سنجیدہ اقدامات کی مدد سے ہر پچیس برس بعد اسے پہلے سے دوگنا کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ہمارے برعکس مشرقی ایشیائی ممالک نے اپنی غربت،ملکی مسائل اور دگر گوں معاشی حالات کو تیز رفتاری سے بدلنے کے لیے جو طرز حکمرانی اپنایا وہ خاصا مؤثر ثابت ہوا ہے۔ خود کو معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم کرنے کے لیے جاپان ،سنگاپور اور ملائیشیا نے کثیرالجماعتی پارٹی سسٹم اپنایا جبکہ چین اور ویتنام نے یک جماعتی طرز حکمرانی اپناتے ہوئے ترقی کی۔ جنوبی کوریا نے بہرحال اپنے ملک کو آگے لے جانے کی خاطرعسکری قیادت کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور سونپی۔ حیرت انگیز طور پر اپنے اپنے ملک کو فرسودہ طرز حکمرانی اور خائن سیاستدانوں کے غیر سنجیدہ اقدامات سے پاک کرنے کے بعد اس نئے نظام کی بدولت ان ممالک نے محض تیس برس کے عرصے میں آٹھ فیصد شرح نمو حاصل کی اور اپنے عوام کو غربت اور جہالت کے اندھیروں سے باہر نکال لیا۔ اسے ایسٹ ایشیئن مریکل کہتے ہیں جس کی بدولت یہاں کے شہریوں نے تیس سال میں وہ معیار زندگی حاصل کر لیا جسے مغرب کو حاصل کرتے ہوئے ایک صدی سے زائد کا عرصہ لگا تھا۔ ان ممالک سے پاکستان کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے اور اگر ہمارا ملک سچ میں ترقی کرنا چاہتا ہے اور اپنے عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے ایک ایسے طرز حکمرانی کی داغ بیل ڈالنا ہوگی جو صرف اقتدار حاصل کرنے کے قبیح کھیل سے پاک ہو ، (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں