Daily Mashriq


پختونوں کے مسائل اور ان کاحل؟

پختونوں کے مسائل اور ان کاحل؟

بقا کے مسئلے سے دو چار قوموں کی زندگیوں کے ایسے لا تعداد واقعات سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں جب درست اور غلط فیصلوں سے تاریخ کے دھارے کو موڑ کر انہیں امر کردیا یا پھر فنا کے گھاٹ اتار کر نشان عبرت بنا دیا۔ پختون نسل کو بھی آج ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے جس کی سیاسی قیادت کو مبینہ طور پر مین سٹریم سیاسی دھارے سے علیحدہ کرکے دیوار سے لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں‘ اسی لئے پختون سیاسی قیادت کو جو ایک عرصے سے آپس میں بٹی ہوئی ہے‘ ایک بار پھر یہ احساس ہونا شروع ہوا ہے کہ باہمی چپقلش سے انہیں دیوار سے لگانے کی سعی کی جا رہی ہے اور اس کا نتیجہ 2018ء کے انتخابات کے بعد واضح ہو کر نکل آیا ہے جب صف اول کی پختون سیاسی قیادت پارلیمنٹ میں کہیں نظر نہیں آتی۔ اسی سوچ نے بالآخر پختون رہنمائوں کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہونے کی سوچ سے ہمکنار تو کردیا مگر جس اتحاد کا خواب دیکھا جا رہا ہے اس کو تعبیر ملنے میں ابھی کئی سنگ میل عبور کرنے پڑیں گے۔ گویا بقول آمنہ مسعود عالم

یا فضیلت کا وہ معیار بدلنا ہوگا

یا قبیلے کا یہ سردار بدلنا ہوگا

ایک مدت سے بدلتے رہے تقویم مگر

کچھ نہ کچھ خود کو بھی اک بار بدلنا ہوگا

یہی وجہ تھی کہ پختونخوا جمہوری اتحاد کے نام سے جن چند جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوکر ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے اسے وسیع البنیاد سیاسی اتحاد کی جانب پہلا قدم یا پہلی سیڑھی قرار دیاگیا جبکہ پختونخوا کے مسائل اور ان کے حل کے لئے جو لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے اسے ابتدائی طور پر نو نکات میں اکٹھا کیاگیا اور اسی حوالے سے گزشتہ روز قومی وطن پارٹی کے سیکرٹریٹ میں پی جے آئی کے رہنمائوں اور چند سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کے مابین ایک مکالمہ کا اہتمام کیاگیا تھا۔ سکندر شیر پائو‘ مختار باچا‘ افضل خاموش اور شہاب خٹک کے علاوہ دیگر رہنمائوں نے پختونوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے مرتب کردہ نو نکات کی وضاحت بھی کی اور صحافیوں و کالم نگاروں کے سوالات جنہیں آپ کسی پریس کانفرنس کی طرز کے سوالات تو نہیں کہہ سکتے بلکہ اتحاد کے رہنمائوں کی جانب سے صحافیوں اور کالم نگاروں کی جانب سے تجاویز کہا گیا‘ کے جواب بھی دئیے۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے بہتر ہوگا کہ محولہ نکات کا احاطہ کیا جائے‘ ان نکات میں قومی سلامتی ریاست( Security state) کاخاتمہ‘ سماجی‘ فلاحی‘ جمہوری اور رضا کارانہ وفاق کے قیام کے لئے نیا عمرانی معاہدہ‘ تاریخی‘ سماجی‘ ثقافتی اور لسانی بنیادوں پر صوبوں کی از سر نو تشکیل‘ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع اور شفاف اقدامات‘ قوموں‘ قبیلوں اور افراد کے جانی و مالی نقصانات کے ازالے اور بحالی کے لئے شفاف طریقہ کار کا قیام‘ قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا‘ افغانستان میں قیام امن کے حصول کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کی حمایت کرنا اور افغانستان و سنٹرل ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لئے ایک مثبت اور واضح پالیسی اختیار کرنا‘ پختونخوا کے لئے ایک مکمل معاشی پیکج کا مطالبہ‘ ماضی کی نا انصافیوں کا ازالہ اورصوبے کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے قومی اور معاشی خود مختاری کا حصول اور پختونوں میں احساس محرومی کا خاتمہ‘ مزدوروں‘ کسانوں‘ خواتین اور طلبہ کے حقوق اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنا‘ پختونخوا کی تمام ثقافتوں اور زبانوں کی ترویج و ترقی کے لئے جدوجہد کرنا اور پختونخوا کی تمام ثقافتوں اور زبانوں کی ترویج و ترقی کے لئے جدوجہد کرنا اور پختونوں کے سیاسی اور معاشی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی تحاریک اور پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا۔ محولہ بالا نکات کی وضاحت کرتے ہوئے پی جے آئی کے رہنمائوں نے کہا کہ پختون سر زمین پر گزرنے والے حالات‘ ان میں بیرونی اور اندرونی قوتوں کا کردار بالکل واضح ہے‘ پختونوں کے جانی اور مالی نقصان اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود پختونوں نے استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے مثالیں قائم کردی ہیں۔ لاکھوں لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے‘ دہشت گردی کے نتیجے میں قبائلی علاقوں اور ملاکنڈ کے خاندانوں کے خاندان ہجرت پر مجبورکئے گئے۔ ان حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے واحد راستہ ایک مشترکہ جدوجہد ہی کا رہ جاتا ہے۔ اس ضمن میں اتحاد کے رہنمائوں نے تمام پختون سیاسی قیادت کے ساتھ رابطہ کرکے پوری پختون قیادت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا عندیہ دینے کے ساتھ سماج کے مختلف طبقات کو بھی اس جدوجہد میں شریک کرنے اور فعال بنانے کی بات کی۔ خصوصاً سول سوسائٹی کو راغب کرنے جبکہ صحافیوں اور کالم نگاروں کو تعاون پر آمادہ کرنے کی بھی بات کی گئی ،

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں