Daily Mashriq

بے خودی میں لے لیا بوسہ

بے خودی میں لے لیا بوسہ

ہمیں صرف اس بات پر فخر نہیں کہ 23 مارچ 2019 کو یوم پاکستان کی تاریخ سازپریڈ کے مہمان خصوصی برادر اسلامی ملک ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمدتھے ۔ ہمیں ناز ہے ان کے رگ و پے میں دوڑنے والے خون پر بھی جس میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی مٹی کی خوشبو رچی اور بسی ہوئی ہے۔پشاور جسے ہم پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کا دارالخلافہ بھی کہتے ہیں جغرافیائی لحاظ سے ایک خوبصورت اور مردم خیز وادی ہے، یوں لگتا ہے جیسے حضرت علامہ اقبال نے یہ بات پشاور ہی جیسی کسی سرزمین کے متعلق کہی ہوکہ

نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہوتو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی

جو لوگ پشاور یا اس کے گردو نواح میں بود باش رکھتے ہیں اس شہر کے حوالے سے پشاوری ہی کہلاتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی جاتے ہیں یہ شہر ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا حوالہ یا پہچان بن جاتا ہے۔ مثلاً یوسف پشاور جو پشاور شہر کی گلیوں میں یوسف خان کے نام سے جانا جاتا تھا جب انڈین فلم انڈسٹری کا فاتح بناتو دلیپ کمار کے فلمی نام سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کرپشاور کا نام روشن کرنے لگا اور یوں اہالیان پشاور اس کے پشاوری ہونے پر فخر اور ناز کرنے لگے۔ پشاوری ہونے کا اعزاز صرف دلیپ کمار کو حاصل نہیں رہا، سلمیٰ آغا، امجد خان ، راج کپور فیملی کے افراد اور انڈین فلم انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے ان جیسے کتنے فلمی ستاروں کو یہ اعزاز حاصل رہا جو اس مٹی کی بو باس لیکر دور درشن کرنے پہنچے تو ان کی جڑیں اس آنگن میں رہیں جہاں وہ کونپل بن کر کھلے تھے۔ یہ بات فلمی ستاروں سے شروع ہوکر فلمی ستاروں تک ختم نہیں ہوجاتی۔ فنون لطیفہ کے علاوہ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں عالمگیر شہرت حاصل کرنے والے سینکڑوں نام ہیں جن کی رگوں میں ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کی طرح صوبہ خیبر پختون خوا کی مٹی کی خوشبورچی بسی رہی۔ احمد فراز، پطرس بخاری، گل جی، جسٹس کیانی، ڈاکٹر امجد حسین جیسے بہت سے سرو قد نابغہ روزگار لوگ ہیں جن کے نام گنوانا اس کالم کے کینوس میں نہیں سما سکتا ۔ یہاں مجھے اشفاق احمد کی وہ بات یاد آرہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ گلوب یا اٹلس کو دیکھیں۔ جس میں آپ کو دنیا کے بہت سے ممالک کے نقشے نظر آئیں گے ہر ملک میں بہتے دریا ملک ملک کے لوگوں کی زبانیں ان کی آبادی آب و ہوا ور اس حوالہ سے آپ بہت کچھ جان سکیں گے ، لیکن ان تمام ممالک کے نقشوں میں ایک ملک ایسا بھی ہوگا جو آپ کی ذات کی پہچان کا حوالہ کہلائے گا۔ آپ اسے دنیا کے نقشے پرموجودسارے ممالک پر فوقیت دیں گے۔ اسے آپ ایک ملک کہنے کی بجائے اپنا وطن کہنا پسند کریں گے۔ اگر سچ پوچھیں تو جس وقت مہاتیر محمد نے یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کے دوران موقع پاتے ہی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو بوسہ دیا تو اس راز کو بہت کم لوگ جان سکے کہ وہ اس گھڑی اپنے آبائی وطن کے جھنڈے کو بوسہ دے رہے تھے ، صوبہ خیبر پختون خواکا ضلع کو ہاٹ پہاڑوں کے دامن میں قائم ایک قدیم اور تاریخی تجارتی منڈی کا نام ہے ۔ جہاں ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے دادا بزرگوار آبادتھے۔گمان کیا جاسکتا ہے کہ آپ یاآپ کے صاحبزادے یعنی مہاتیر محمد کے والد بزرگوار تجارت کے ہی سلسلہ میںملائیشیاگئے ہونگے ، جہاں ان کی ملاقات نہایت دیندار خاتون سے ہوگئی ہوگی اور یوں قسمت نے دو دلوں کو جوڑتے ہوئے رشتہ ازدواج میں جکڑ دیا ہوگا،جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں مجھے وہ منظر نامہ یاد آنے لگا جو میں نے ایک حاجی کی زبانی سنا تھا ، فرماتے ہیں کہ طواف خانہ کعبہ کے دوران دو جواں سال ملائیشین خواتین میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ اے حاجی ہم دیکھ رہی ہیں کہ توبار بار حجر اسود کے پاس جاکر اسے بوسہ دے آتا ہے ، خدارا ہمیں بھی اس شرف سے نواز، ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں حجر اسود کے پاس پہنچادے ، یہ بات میرے جگری دوست حیدر زمان حیدر کررہے تھے جسے سن کر میری آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی رواں تھی ، یہاں اس بات کو دہرانے کا مقصد آپ کو ملیشیا کی جواں سال خواتین کی دینداری کی مثال دینا مقصود تھا، ملائیشیا میں نوجوان اس وقت تک شادی کے بندھن میں جکڑا جانا پسند نہیں کرتے جب تک وہ فریضہ حج ادا نہ کرلیںملائیشیا میں غربت کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے، مہاتیر محمد کے والد بزرگوار نے ایسی ملائیشین خاتون کو اپنی شریکہ حیات بنایا جو تعلیم وتدریس کے شعبہ سے منسلک تھیں ، انہوں نے شروع روز ہی سے مہاتیر محمد کے ذہن میں کرپشن کے ناسور کو اکھاڑ پھینکنے کا عزم ڈال دیا تھا، مہاتیر نے پڑھ لکھ کر سنگا پور یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی، اور پھر کرپشن کے خلاف جہد مسلسل کرنے کے صلے میں وہ ملائیشین قوم کا ہیرو بنا اور آج ملائیشیاکے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوکراپنے آبائی وطن کے جھنڈے کو سلامی دینے کے علاوہ فرط جذبات سے اس کا بوسہ لینے یوم پاکستان کی پر شکوہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوکر ہم پشاوریوں کے سروں کو فخر اور خوشی بھرے جذبات سے بلند سے بلند تر کر گیا، مہاتیر محمد اک عالم بے خودی میں یا فرط عقیدت سے مغلوب ہوکر جب اس نے اپنے آبائی وطن پاکستان کے سبز ہلالی پھریرے کا بوسہ لیا تو ہمیں یو ں لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں

بے خودی میں لے لیا بوسہ خطا کیجئے معاف

یہ دل بے تاب کی ساری خطا تھی میں نہ تھا

متعلقہ خبریں